سولہ دسمبر کا دن، اور کچھ یادیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب بھی سولہ دسمبر کا دن آتا ہے تو مجھے راشد ارشد کا یہ شعر یاد آجاتا ہے: اپنا حق بنگال نے مانگا ہم اسپر چڑھ دوڑے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب اسکول میں ہمیں سندھی زبان کی تدریسی کتاب میں یہ نظم پڑھائی جاتی تھی: مشرقی بنگال کے نرمل نظارے چل کے دیکھ۔ مگر اب یہ ایک اور مشرفی بنگال تھا: خوں میں ڈوبا ہوا مشرقی بنگال جسے سندھی افسانہ نگار منیر احمد مانک نے اپنے ایک افسانے میں ’بھیڑیوں کا راج‘ قرار دیا تھا- ایسا لگتا تھا نہ قفط پاکستان کی فوج بلکہ ہم تمام کے تمام تب کے مغربی پاکستانی اس وقت کے مشرقی بنگال پر چڑھ دوڑے تھے - لیکن پھر بھی ایسے کالے جگ میں چند سر پھرے لوگ ضرور تھے- کچھ سال قبل مجھے میرا دوست اور کل کا ’راج دروہی‘ مدد علی سندھی کراچی کی نیشنل لیاقت لائیبریری میں لے کر گیا اور گھنٹوں مٹی کی تہیں چڑہے ہوئے پرانے اخبارات کنگھالنے کے بعد اردو روزنامہ ’جنگ‘ کے سال انیس سو انھہتر کے ایک شمارے کے اندر کے صفحات میں ایک تصویر پر انگلی رکھ کر کہنے لگا ’یہ رہا میں! ‘ یہ حیدرآباد ریلوے اسٹپیشن پر عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کے استقبال کی تصویر تھی اور استقبال کرنے والوں میں سندھی قوم پرست،ادیب اور شاعر اور بڑی تعداد میں تب کی ’جيۓ سندھ سٹوڈنٹس فیڈیشن‘ کے کارکن شامل تھے- تب اسی جیدرآباد سٹیشن کے پلیٹفارم کے کسی کونےسے سندھ کی تاریخ میں پہلی بار کسی گمنام سندھی قوم پرست نے یہ نعرہ لگایا تھا ’تھنجو دیش منھنجو دیش‘ سندھودیش سندھودیش' ('تیرا دیس میرا دیس' سندھو دیش سندھو دیش')- یہ نعرہ عوامی لیگ کے بنگالی قوم پرستوں کے اس نعرے جیسا تھا: ’امار دیش' تھار دیش' بانگلہ دیش' بانگلہ دیش‘۔ شیح مجیب الرحمان کے مغربی پاکستان کے اس دورے پر انکے ساتھ انکے ساتھی تاج الدین احمد اور پروفیسر مظفر بھی تھے- سکھر میں بہت بڑے سندھی شاعر شیخ ایاز کا تعارف اپنے ساتھیوں سے کراتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان نے کہا تھا ان سے ملو، یہ کوی ہیں اپنے نذرل کی طرح۔‘ شیخ مجیب، کہ جس نے اسلام آباد کیلیے کہا تھا ’مجھے اس شہر سے مشرقی باکستان کے پٹسن کی خوشبو آتی ہے۔‘ کس نے جانا تھا کہ اس کے دو سالوں کے اندر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی سے لاکھوں بنگالیوں کے خون کی بو آئے گی! ’مسجد مسجد یہ نمازی سجدوں میں پڑے یہ غازی شاعرہ فھمیدہ ریاض نے یہ نظم لکھی تھی- یہ تب کے مغربی پاکستان میں انگلیوں پر گنے جانے والے سر پھرے لوگ تھے جوسیاسی تاریخ کے ایسے سفاک اور خونی دنوں میں 'سینہ جاکان مشرق' یعنی بنگالیوں کے ساتھ تھے- لاھور میں شاہ حسین کے میلے کے موقع پر کچھ پنبجابی لکھاریوں اور سیاسی کارکنوں نے قتل بنگال کے خلاف جلوس نکالا تھا- پنجابی ادبی سنگت نے سابق مشرقی پاکستان میں فوج کشی کے خلاف قرارداد منظور کی تھی اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا- پنجاب کے ماسٹر خان گل شاید سندھ کے قاضی فیض محمد کے بعد واحد مغربی پاکستانی تھے جو عوامی لیگ کے نائب صدر تھے اور انہوں نے انیس سو ستر کے الیکشن میں عوامی لیگ کے امیدوار کے طور پر الیکشن بھی لڑے تھے- ملک جیلانی' (عاصمہ اور حنا جیلانی کے والد) شیخ مجیب الرحمان سے دوستی کی پاداش میں سالہا سال چھوٹے چھوٹے وقفوں کےساتھ جیل بھیجے جاتے رہے- اگر یہ نہ ہوتا تو پاکستاں کے عوام کو انسانی حقوق کی لڑائی کی یہ دو نڈر کارکن شاید ہی ملتیں- آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستان میں بنیادی حفوق کا تھوڑا بہت نام نہاد طور پر مانا جانا بھی سپریم کورٹ میں آج کی عاصمہ جہانگیر کی اپنے والد کی مشرفی باکستان میں فوج کشی کے دوران نظربندی کے خلاف حبس بیجا کی درخواست پر فیصلے کے بعد ہی ممکن ہوا جس فیصلے کو مشہور عاصمہ جیلانی کیس کہا جاتا ہے- مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد کے اسی فیصلے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے یحییٰ خان اور اسکے فوجی جرنیلوں کے ٹولے کو غاصب قرار دیا تھا- پاکستان کی عدالتیں ایسے فیصلے اکثر حکمرانوں کے پیٹھ بیچھے، یعنی انکے اقتدار سے ہٹنے کے بعد ہی کیا کرتی ہیں- (سوائے نواز شریف حکومت کی ایک بار برطرفی اور آصف علی زرداری کی ضمانت کے) محبت گولیوں سے بو رہے ہو حبیب جالب نے کہا تھا اور ظاہر ہے کہ وہ بھی جیل سدھار گـۓ تھے- سابق مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے خلاف تب کے طالب علم رہنما جام ساقی نے جلوس نکالا اور پیمفلیٹ تقسیم کیے- اس پر یحییٰ خان حکومت میں جام ساقی کی خلاف قائم کیے مفدمے میں گرفتاری اور فوجی عدالت کی جانب سے جام ساقی کو غیر حاضری میں سنائی گئی سزا پر عمل درآمد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا- جی ایم سید، ولی خان اور شیخ ایاز نظر بند کیے گۓ۔ عوامی لیگ کے ساتھ ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو بھی کالعدم قرار دیا گیا- سندھ کے جیکب آباد شہر میں تب پندرہ سالہ طالب علم زاہد مخدوم، کنہیا لعل، غالب لطیف، عبداللطیف مہر اور دیگر افراد کو مشرقی بنگال میں فوجی آپریشن کےخلاق پمفلیٹ لکھنے اور شائع کرنے پر گرفتار کیا گیا- ان افراد کی رہائی بھٹو کے افتدار میں آنے پرممکن ہوئی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے بعد شاید سندھ یونیورسٹی ہی تھی جنکے اساتذہ، طالب علم اور پروفییسر حکومتی اداروں کی ’فہرست، پر تھے- ڈاکٹر غلام علی الانا، پرفیسر ارجں، نندلال وریانی اور دیگر طالب علم رہنما گرفتار کیے گۓ- یہاں تک کہ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید غلام مصطفی شاہ کی بھی نقل و حرکت پر پابددی ڈال کر غیر اعلانیہ طور پر انہیں انکی سرکاری رہائش گاہ پر ایک طرح سے نظربند کیا گیا- آج کے سندھی شاعر اور صحافی انور پيرزادو کو بھی سزا ہوئی۔ وہ تب پاکستان فضائیہ میں پائیلٹ تھے اور ان کو ایک دوست کو خط میں بنگالیوں کے ساتھ ہونے والی ہولناک کارروائیوں کا ذکر کرنے پر کورٹ مارشل کی سزا سنائی گئی- سندھی رہنما اور دانشور رسول بخش پلیجو نے بنگال پر پاکستانی فوج کشی کے خلاف بیرون ملک شائع اور نشر ہونےوالی رپورٹوں کو منتخب اور سندھی میں ترجمہ کرکے ’جیکی بنگال ساں تھیو‘ ( یعنی ’جو بنگال کے ساتھ ہوا‘) کے عنوان سے کتاب شائع کی جو پاکستان میں بنگلیوں کے قتل عام پر پہلی اور واحد دستاویز تھی جس پر بعد میں بھٹو حکومت کی طرف سے ان باقی جالیس کتابوں اور جریدوں کے ساتھ پابندی لگادی گئی- پاکستانی فوج کے ہاتھوں جو کچھ بنگالیوں کے ساتھ ہوا جدید انسانی تاریخ میں بربریت کی ایسی مثالیں یہودی ھولو کاسٹ، کوسوو، اور آجکے ڈارفر میں شاید ملتی ہوں- مگر اب بھی اسلام آباد کے حاکموں کی یہ ذہنی حالت ہےکہ بنگلہ دیش کے عوام سے قومی معافی مانگنا تو کیا، باقی ماندہ پاکستان میں بھی محض قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کی حف تلفی پر ذرا سی بھی آواز نکالنے کو ملک کے توڑنے سے تعبیر کیا جاتا ہے- آبادی کی بنیاد پر جب بنگال بڑا صوبہ تھا تو تب اسپر ’پیرِٹی‘ (یعنی برابری) کا اصول لاگو کیا گیا تھا! محافظ ملک نے پکڑ رکھا سب مال مرکز میں سندھی شاعر ابراھیم منشی کی یہ نظم تھی- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||