’یہ تو ہونگے ہی ہونگے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب سن انیس سو چھیاسی میں بینظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں تھیں تو کراچی میں ان کے جلسے میں جانے والے حیدرآباد کے مرزا محلے کے نوجوان بھی بسیں بھر کر گئے تھے۔ جب بسوں کا یہ قافلہ ملیر کی فوجی چھاونی کے علاقےسے گزرنے لگا تو بس میں سوار کئی نوجوانوں نے جذباتی ہوتے ہوئے فوج کے خلاف نعرے لگائے تو اسی وقت ان نوجوانوں کے ایک بزرگ نے بسیں رکوا کر ایسے نعرے لگنے والے بچوں کو سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا ’انھیں (وردی والوں کو) کیوں کہتے ہو۔ یہ تو ہونگے ہی ہونگے!‘ اب جب جنرل پرویز مشرف نےپاکستانی عوام کو سال نو کا تحفہ اپنی وردی اور صدارت ساتھ رکھنے کا دیا ہے تو مجھے اس بزرگ مرزا کی ’یہ تو ہونگے ہی ہونگے‘ والی بات یاد آئی ہے۔ پاکستان میں وردی چاہے جوکیدار کی ہو کہ فوجی جنرل کی وہ شیر کی ایسی کھال ہوتی ہے کہ اگر اسے کوئی گیدڑ بھی پہن کر رکھے تو آسانی سے دس گیارہ سال ان لوگوں پر حکومت کر سکتا ہے جو کہتے ہیں ’وردی کو مستی ہوتی ہے‘۔ اسی لیے تو سندھ میں متعین ایک ’سادہ لباس‘ قوجی افسر کو اس کے وڈیرے دوست کہتے تھے کہ وہ جب بھی ان سے ملنے آیا کرے تو وردی پہن کر آیا کرے کیونکہ اس سے ان کے ’دشمنوں‘ یا بقول انکے ’جٹ جاموٹ‘ (عام و خاص) پر اس کا رعب پڑے گا- یہ جان کر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا کہ انھیں وڈیروں اور چودھریوں سے بھری ہوئی سندھ اور پنچاب اسمبلیوں نے بھی جنرل پرویز مشرف کی وردی کی حمایت میں قرداداد منظور کی۔ کسی شاعر نے کہا تھا ’یوں تو وڈیرا چیل رے، گـر غصے ہو سرکار تو اسکا چڑیا جیسا دل رے‘۔ اگر اسی چڑیا کو ’بقول شخصے‘ جی ایچ کیو صوبے کا وزیر اعلٰی بنائے تو گویا تتلی کے پروں کو جیٹ کا انجن باندھ دیا گیا ہو۔ بات ہو رہی تھی وردی کی جس سے ڈاکو بھی بھیس بدل کر شاہراہوں پر لوگوں کو لوٹا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکو اکثر وردی پولیس کی پہن لیتے ہیں۔ ویسے سندھ کی شاہراہوں پر سفر کرتے آپ کو باوردی اور بارودی پولیس والوں پر بھی ڈاکوؤں اور ڈاکوؤں پر پولیس والوں کا گمان ہوتا ہے۔ یہ بات میرے سر کے اوپر سے گزری ہوئی لگتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف پاکستان میں بیچ اپنی وردی کے مسئلے پر میکسیکو سمیت لاطینی امریکہ کے دورے پر کیوں گئے؟ وہاں تو اب کوئی شاذو نادر ہی باوردی حکمران ہے، اگر آپ کاسترو کو باوردی نھیں سمجھتے تو۔ اور بہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں پاکستان کے فوجی صدر کے باوردی ہونے کی مخالفت کررہی ہیں۔ وگرنہ تو یہی مذہبی جماعتیں تھیں جنہوں نے ضیاءالحق کو ’امیرالمومنین‘ قرار دیا تھا۔ آج کے پاکستان میں جنرل مشرف کی وردی کو جہموریت کے لیے جائز گرداننے کے لیے امریکی سفیر کو امریکی تاریخ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگر امریکہ پر گیارہ ستمبر کا دہشتگردانہ حملہ نہ ہوتا تو پھر مائیکل مور'، صدر بش اور پرویز مشرف کیا کررہے ہوتے؟ بقول کالم نگار راجہ انور کے گیارہ ستمبر سے پہلے تو جنرل پرویز مشرف مولوی اشرف علی تھانوی بننے جارہے تھے۔ اب ان کے ’کتے پالنے‘، دوسروں کو برقعے اور داڑھی کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے اور باریش عسکریت پسندوں اور مذہبی جنونیوں کو نائی کی دکان دکھلانے جیسی بھلی باتیں اپنی جگہ لیکن ڈکٹیٹرشپ چاہے داڑھی پوش ہو کہ وردی پوش، ڈکٹیٹرشب ہی ہوتی ہے۔ وردی ہی پر یاد آیا، ٹنڈو بھاول میں فوج کے ہاتھوں نو افراد کی ہلاکتوں کے واقعے کے ایک چشم دید گواہ چھوٹے بچے سے تب کے کور کمانڈر نے جب پوچھا تھا کہ گاؤں پر حملہ کرنے والے لوگوں نے کپڑے کس طرح کے پہنے ہوئے تھے تو بچے نے اپنی انگلی کور کمانڈر کی طرف کرتے ہوئے کہا تھا ’ایسے کپڑے جیسے تم نے پہنے ہوئے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||