BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 November, 2004, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاسی انتقام کا فائن آرٹ

ذوالفقار علی بھٹو
’بھٹو حکومت کے وزراء اعلیٰ وزیر و مشیر، پولیس ایس پی، ڈی سي، چاہے تھانیدار، انٹیلجسنس ایجنسیاں عوامی حکومت کے ’گسٹاپو‘ بنے ہوئے تھے۔‘
آخرکار سندھ کے وزیر اعليٰ ارباب غلام رحیم کے منہ سے سچی بات نکل ہی گئی کہ اگر سندھ حکومت چاہتی تو آصف علی زرداری کو بکری کی چوری کا مقدمہ قائم کر کے جیل میں رکھا جا سکتا تھا-

سیاسی مخالفوں کےخلاف انتقام پسندی کو’فائن آرٹ‘ میں تبدیل کردینے میں پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ایک دوسرے سے بازی لیتی رہی ہیں اور پاکستان کے ماضی بعید اور قریب کی سیاسی تاریخ حکمرانوں کے ہاتھوں اپنے سیاسی مخالفوں کے خلاف انتقام پسندی میں اتنے اوچھے اور گھٹیا طریقوں والی مثالوں سے بھری پڑی ہیں-

’اپنی بود وباش نہ پوچھو
ہم سب بے توقیر ہوئے
کس کی ہے دستار سلامت
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے۔

احمد فراز نے میر تقی میر کی زمین میں یہ شعر اپنی مشہور نظم شہر آشوب میں ضیاءالحق حکومت کے ہاتھوں اپنے سیاسی مخالفوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر لکھا تھا-

ضیاء الحق حکومت کے دستِ ستم کا نشانہ اب ذوالفقار علی بھٹو، انکا خاندان، پارٹی، اور پارٹی کے حمایتی سب سے زیادہ بن رہے تھے۔ یعنی کہ کل کا میکاویلی آج کا منصور بنا دیا گیا تھا-

یہ ذوالفقارعلی بھٹو ہی تھے جنہوں نے سیاسی مخالفوں کو اپنے خلاف اٹھنے والی کسی بھی بات پر انتقام پسندی کو ایک طرح سے ’فائن آرٹ‘ میں بدل دیا تھا-

بھٹو حکومت کے وزرائے اعلیٰ وزیر و مشیر، پولیس ایس پی، ڈی سي، حتٰی کہ تھانیدار، انٹیلیجسنس ایجنسیاں عوامی حکومت کے ’گسٹاپو‘ بنے ہوئے تھے-

ذرا تصور کریں چودھری ظہور الٰہی جیسے آدمی کو بھٹو کی مخالفت کرنے پر بھینسوں کی چوری کا مقدمہ قائم کر کے قید میں رکھا گیا- ہر چھوٹے بڑے بھٹو مخالف کیخلاف کرائمز کنٹرول ایکٹ، اور ڈیفنس آف پاکستان رولز (ڈی پی آر) جیسے آمرانہ قوانین کا بے جا اور بے دریغ استعمال کیا گیا جن کے شکار تیرہ چودہ سال کے بچے بھی تھے تو دیال داس کلب حیدرآباد کے پچاسی سالہ ہندو بزرگ بھی-

اسی پر ایک شاعر نے تب کہا تھا:
’سوچ بند اور لوچ بند گفتار ڈی پی آر میں
ذہن پر زنجیر ہے اور یار ڈی پی آر میں۔‘

حالانکہ بھٹو حکومت سے پہلے ڈی پی آر جیسے قانون اور نظربندی کا اطلاق بہت کم اور غالباً خان عبدالغفار خان، جی۔ایم۔سید، اور خود بھٹو اور انکے ساتھیوں کے خلاف ایوب خان کی حکومت کے دنوں میں ہوا تھا اور حکومت وقت کے سیا سی مخالفین کے اندھا دھند استعمال کو ہی حبیب جالب نے ’صبح بے نور‘ قرار دیا تھا جب انہوں نے اپنی یہ نظم لکھی : ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔‘

ایوب خان اور ان کی آمرانہ حکومت کے خلاف شاعری کرنے پر حبیب جالب کے خلاف ایوب خان کو ان کے درباریوں نے مسروقہ شراب کی دو بوتلیں برآمد کر کے انہیں گرفتار کروانے کا مشورہ دیا۔

لیکن کہا جاتا ہے کہ ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر نے ان سے کہا تھا کہ حبیب جالب کے خلاف اس طرح کا مقدمہ خود حکومت پر جگ ہنسائی کا موجب بنےگا ’ کیونکہ کوئی بھی شخص یہ مانے گا نہیں کہ حبیب جالب کے تھیلے سے شراب کی دوبوتلیں اور وہ بھی سالم و سلامت بر آمد ہوئی ہیں‘-

ذوالفقار علی بھٹو کی ایوب خان کی حکومت سے علیحدگی اور اسکی مخالفت پر بھٹو کے خلاف اپنی زرعی زمین پر سرکاری بلڈوزروں کے ناجائز استعمال اور اسلحے کے مقدمے قائم کیےگۓ۔

لیکن جب ’قائد عوام‘ بھٹو عوامی اقتدار کے سنگـھاسن پر بیٹھے تو انکی حکومت نے سیاسی مخالفوں یا پھر خودبخود دوست ہوں یا دشمن کو بھٹو مخالف سمجھ بیٹھنے پر انکے خلاف بہت ہی اوچھے اور گھٹیا طریقوں کی مثالیں قائم کیں- اور تو اور ’استاد دامن جیسے فقیر تن اور پنچابی شاعر کے لاہور والے حجرے سے بھی بھٹو حکومت نے ’بم کی بر آمدگی‘ دکھلائی-

’استاد دامن کے حجرے سے نہ تےکو‎ئی کڑی نہ شراب! وہ بھی بم‘ لاہوریوں کی عقل نے حکومتی عقل سلیم کو ماننے سے انکار کردیا-

لیکن استاد دامن نے اپنے ساتھ بھٹو کے ایسے سلوک پر یوں کہا:

کی کری جاندا ایں، کی کری جاندا ایں!
کدی روس جاندا ایں تے کدی چین جاندا ایں
آپے کرسی تے بیھ کے ساڈی گدی بھی کھچی جاندا ایں۔
(کیا کیے جاتے ہو کیا کیے جاتے ہو
کبھی روس جاتے ہو تو کبھی چین جاتے ہو
خود کرسی پر بیٹھ کے ہماری گدی بھی کھینچے جاتے ہو)۔

یہ بھی بھٹو کا عوامی دور تھا جس میں مطلوب سیاسی کارکن نہ ملنے پر انکی ماؤں بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کو گرفتار کر کے تھانوں میں رکھا گیا-

یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ ایسےہی کل کے بھٹو حکومت کے معتوب سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں میں سے ایک اچھی خاصی تعداد آج کی پیپلز پارٹی میں شامل ہے۔

بھٹو کے سیاسی مخالفین سے ایسے ’حسن سلوک‘ والے ’آرٹ‘ سے جتنا جام صادق علی نے سیکھا اتنا شاید سکندر اعظم نے ارسطو کی تعلیمات سے بھی نہیں سیکھا ہوگا-

پاکستان میں ضیاءالحق اور سندھ میں جام صادق علی کی حکومتیں سیاسی مخالفیں کے خلاف فسطائی ہتھکنڈوں میں اپني مثال آپ تھیں جن کا سب سے زیادہ نشانہ پاکستان پیپلز پارٹی والے بنے-

لیکن بینظیر بھٹو کے ایک دور حکومت میں اپنے ہی منحرف لیکن اقلیتی رکن پارلیمان رانا چندر سنگھ کے بیٹے ہمیر سنگھ کے خلاف شکارپور میں بیلوں کی چوری کا مقدمہ درج کیا گیا اور دوسرے دور حکومت میں سندہ میں عبداللہ شاہ کی حکومت کے دنوں میں ایک سیاسی مخالف اور سابق وزیر جیل خانہ جات سید کوڑل شاہ کے خلاف سیہون میں دوکان کو نقب لگا کر چائے کی پتی چوری کرنے کا الزام لگایا گیا-

اگر کو‎ئی وزیر اعلیٰ بنتا ہے تو سب سے پہلے تین کام کرتا ہے: اپنے گاؤں میں نیا بنگلہ تعمیر کرواتا ہے، نئی شادی کرتا ہے، اور اپنے سیاسی مخالفوں کو جیل میں ڈلواتا ہے-

حال ہی میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کی مـخالفت کرنے پر ڈیپلو کے سمیجو اور ان کے صحافی بھانجے کو ’بکری کی چوری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے- ایسا ہی سلوک پاکستانی حکمران اپنے سیاسی مخالفین سے کرتے آئے ہیں- پھر کبھی حکمران آصف زرداری ہے تو کبھی سیاسی مخالف شیخ رشید' کبھی حکمران ارباب رحیم ہے تو سیاسی مخالف ’کوئی ہور‘ لیکن ایک دوسرے کو بھینسوں، بکریو ں اور بیلوں کی چوری کے مقدموں میں پھنسانے والے فارمولے وہی ہیں- نہ وقت سے حکمرانوں نے سیکھا اور نہ سیا سی مخالفوں نے۔ بلکہ وہ (حزب مخالف والے) بھی حکمرانوں کو کہتے آئے ہیں: ’تشدد اتنا کرو جتنا کل برداشت کر سکو‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد