امریکی پیر پگاڑو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے دوران پیر پگاڑو اور ہالا کے مخدوم طالب المولٰی کے مریدوں کے درمیان اس بات پر بحث ہوتی تھی کہ ملک کو دشمن کے حملوں سے بچانے کے لیے کس کا پیر کتنا معجزنما ہے۔ ایسی ہی ایک بحث میں پیر پگاڑو کا ایک مرید ہالا کے مخدوم کے مرید کواپنے پیر کی کرشمہ سازی بتاتے ہوئے کہنے لگا کہ سکھر اور روہڑی والے پل پر ہندوستانی بمبار طیاروں کے حملے کے دوران پیر پگاڑو پل پر نمودار ہوتے، اپنے کرتے کی جھولی بناکر پھیلاتے اور ہندوستانی طیاروں کے گرائے ہوئے بم پیر صاحب کی جھولی میں گرتے گرتے تربوز میں تبدیل ہوجاتے۔ پیر صاحب نے ایسے کئی تربوز کاٹ کر انکی قاشیں لوگوں کو کھلائی ہیں۔ ’یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ بم تربوز بن جائے؟‘ ہالا کے مخدوم کے مرید نے پیر پگاڑو کے مرید سے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔ ’میں آپ کھادی ہے کہ‘ (ایسی قاش میں نے خود کھائی ہے) پیر پگارو کے مرید نے حلفیہ کہا۔ لگتا ھے بہت سے امریکیوں نے بھی امریکی پیر پگاڑو (جارج بش ) کے کاٹے ہوئے تربوز خود کھائے ہوئے ہیں- حالیہ انتخابات میں صدر بش کے دوبارہ منتخب ہوکر آنے پر کناڈا سے میرے ایک دوست نے تبصرہ کرتے ھوۓ کہا’ شاید بہت سے امریکیوں کے تصور میں صدر بش کاؤ بوائے لباس میں بندوق اٹھاۓ انکے گھر کے باہر محلے میں چوکنا چوکی دے رھا ھے اور بس وہاں حقیقی اور تصوراتی دشمن کے پرے سے قدموں کی آہٹ پر بش بندوق داغ دے گا‘۔بالکل اسطرح جیسے پاکستان میں صدر ایوب اور جنرل اسلم بیگ یا الطاف حسین کے کٹ آؤٹ بنے ہوتے ہیں جن میں انھیں عربی لباس میں محمد بن قاسم یا اسطرح کے کردار بنا کر پیش کیا ھوتا ہے- اور اسی طرح رامبو کیریکٹرز بش، بینظیر بھٹو اور بشیر خان قریشی بھی- صحافی بوب ووڈ ورڈ نے لکھا ھے کہ اس نے صدر بش سے پوچھا کہ کیا انھوں نے اپنے والد سے جنہوں نے پہلی خلیجی جنگ کی سربراہی کی تھی، سے عراق میں جنگ چھیڑنے کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا : "میں نے بڑے باپ یعنی آسمانی باپ (خداوند یسوع) سے پوچھا تھا"۔ میرے ایک جاننے والے تھامس نے جو کہ ویتنامی جنگ میں لڑا تھا اور جس نے چھ مرتبہ پوری دنیا کا چکر لگایا ہوا ہے ، نے بھی اس الیکشن میں اپنی جیپ پر ایک تیسرے امیدوار کے بینر لگائے ھوئے تھے اور یہ تھا یسوع مسیح- لیکن تھامس عراق میں جنگ پر صدر بش اور ہم جنسوں اور اسقاط حمل کے حقوق پر کیری کا مخالف تھا اور اس نے اس مخالفت میں اپنا ووٹ رالف نیدر کو دیا۔ اپنی اعتقادی باتوں کا اظہار تھامس اسطرح کرتا ھے کہ جیسے یسو ع مسیح بھی امریکی انتخابات لڑ رھا ھو ’ بس یسوع مسیح کو آنے دیجیے- اب کی بار یسوع مسیح صلیب پر نھیں چڑھے گا بلکہ انتقام لیگا‘ تھامس کہتا ھے- لیکن اگر امریکہ میں یسوع مسیح آیا بھی تو جیسے منو بھائی سے روایت ھے’ انکی مشرق وسطي کے خدو خال اور انکے فلسطینی پاسپورٹ ھونے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر انھیں امیگریشن والوں کے بہت ھی سوالوں سے گزرنا پڑے گا۔‘ یار لوگوں نے ان امریکی انتخابات میں کیری کی کامیابی کے 'روشن امکانات' پر ایسے تبصرے کیے تھے جیسے وہ وہاں پاکستان اور بھارت کے انتخابات میں قاضی حسین احمد، عمران خان، مرتضی بھٹو اور بي جے پي کی ’ کامرانیوں‘ پر کرتے آئے تھے- بقول بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے ساری 'کنوینشنل وزڈم' کی ہوا نکل گئی- کلفٹن اور بروکلین پلوں کے اس اطراف بڑا فرق ھے- اب یہ فرق امریکی شمال اور جنوب کا بتایا جا رھا ھے یعنی امریکی جنوب قدامت پسند، اور شمال روشن خیال اور ترقی پسند ثابت ہوا ہے کوئی کہے کہ اس امریکی قدامت پسندی اور لبرلزم نے امریکہ کو شمال اور جنوب میں تقسیم کر کے روایتی نہیں تو ’نظریاتی خانہ‘ خانہ جنگی کی سرحد پر کھڑا کر دیا ہے اگر صدر بش امریکہ کیلیے ڈیوائیڈر (تقسیم کرنیوالا) ثابت ھوا ھے تو اسامہ بن لادن اپنی دھمکیوں کی وجہ سے بش کے ووٹوں کا یونائیٹر (متحد کرنیوالا) واقع ھوا ہے۔ الیکشن نے اتنے بڑے امریکہ کو تقسیم کیسے کردیا؟ یہ مفروضے میری سمجھ سے بالاتر ہیں جبکہ اگر ریپبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کوایک بڑے ڈبے میں ڈال کر زور زور سے ہلا کر ڈبے سے باہر نکالیں گے تو کوئی ’فرق صاف ظاھر ھے‘ نہیں پائیں گے۔ بلکہ بہت سے اھم مسائل بشمول جنگ عراق یا دہشت گردی کیخلاف جنگ پر کیری سے زیادہ بش دو ٹوک تھا۔ امریکی جو’ چونکہ چناچہ اگرچہ مگرچہ۔۔۔‘سننے کے قائل نہیں کیری کی متضاد بیانی یا بہت سے مسائل پربقول انکے ’فلپ فلاپ‘ یا ’وشی واشی‘ ھونے سے نالاں ہوئےتھے۔ لاریب کہ امریکی جنوب اور اسکا وسطی مغرب روایتی طرح قدامت پسند اور میزوری کے علاقوں میں ایم ٹی وی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی ممانعت پر مجھے شکارپور سندھ کے ’جھاں نو‘ نامی علاقے کے قریبی وہ گاؤں یاد آئے کہ جن کے لوگ ٹرین کی پٹری وہاں سے اسی لیے نہیں گزرنےدیتے تھے کہ انکا خیا ل تھا انکے علاقے سے ریل نکلنے سے انکی عورتیں ریل پر سوار ہوکر بھاگ جائیں گی اور سکول اسی لیے قائم نہیں کرنے دیتے تھے کہ انکا خیال تھا کہ ماسٹر آئیں گے اور ان کی عورتوں کو آنکھیں ماریں گے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||