BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2004, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’راجہ کی آئے گی بارات‘

بچہ

راجہ، پرجا، بادشاہ، پیادہ، گھوڑے اور وزیر، فوجی ڈ کٹیٹر، صدر، آقا، غلام یہ دنیا کا وہ حّصہ ہے جہاں بقول کسی کے ’گدھے سے لے کر گوتم بدھ تک سب سے نبھانا پڑتی ہے‘۔

یہ جنوبی ایشیا ہے جہاں ساڑھے اکیاون کروڑ بھوکی اور ننگی، لڑتی روتی جنتا کے نیتا سارک کے بڑے کھانے میں اسلام آباد میں شریک ہوئے ہیں۔ جہاں مرے ہوئے بھٹو، گاندھی، مجیب الرحمٰن اور بندرانائیکے ہیں۔ جہاں ہندوستان کے شاعر وزیراعظم اور سنگ پریوار کے نیتا اور پاکستان کے فوجی ڈ کٹیٹر لیکن رات بیچ میں امن کی بھی فاختہ بننے والے تاحال باوردی اور بارودی صدر کے درمیان ملاقات کو ایک رپورٹر نے ’دھماکہ‘ قرار دیا۔

مجھے سندھی زبان کی وہ مشہور کہاوت یاد آتی ہے کہ ’بھوکا مباشرت کرے کنگال سے دونوں بے ہوش ہو جائیں‘۔ جوہری دھماکے کرنے والے یہ ممالک جو گھاس کھا کر بھی نیوکلیئر بم بناتے ہیں۔ کمپنی بہارد کے یونین جیک جھنڈوں تلے مرتی جنم لیتی نسلیں جنہیں عبداللہ حسین نے اداس نسلیں کہا۔ جہاں بھگوان انیس سو سینتالیس کو مر گیا۔ جہاں کے ایک سندھی صوفی شاعر نے لکھا ’چاغی اور پوکھران پر حملہ، اللہ اور بھگوان پر حملہ‘۔ جہاں امیر، امیر ہوتا جاتا ہے اور غریب، غریب‘۔

نیم شب کے بچے، مدر ٹریسا، سینٹ، سادھو، پیر فقیر، چور ڈ اکو، تھانےدار، سماج وادی، ہتیاوادی، لال پھریرے والے، ترشول والے، جوتشی جادوگر، کنجر اور قلندر، جہاں ساڑھے انتالیس کروڑ ان پڑھ بالغوں کی دنیا سے آئے ہوئے سلمان رشدی، ارن دھتی رائے، مائیکل اندتجیٹ اور قرۃالعین حیدر جیسے بڑھیا ناول نگار، شاعر ساحر، جوتشی، باغی راج دروہی، نٹکی، کٹکی نٹ راج اداکارٹ نرتکا، اور نہ جانے کیا کیا، دیو داسیاں، پھولن دیویاں، ماتا ہریاں، جہاں فیروز گاندھی، آصف زرداری اور ہندوجا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں میرے ایک امریکی دوست نے کہا ’وہاں جوگی بھی ہیں تو خلانورد بھی ہیں‘۔ بوفورز، حوالہ، اوجڑی کیمپ اور پنجاب کوآپریٹیو سکینڈل۔ جہاں کا ایک فلمی مکالمہ زبان زدِ عام ہے ’سالہ ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘۔

’غالب ہو کے گاندھی ہو ختم ہوا دونوں کا جشن، آؤ کریں دونوں کو دفن‘۔ ساحر لدھیانوی نے کہا تھا۔ جہاں تصورات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں، جس دیس میں گنگا بہتی ہے۔ جیسا کہ ارن دھتی رائے نے کہا۔ ’کنبھ کے میلے میں کمیشنر اور اس کے اہل خانہ کو انکی کار سمیت ننگے سادھوؤں نے اپنے اعضاء تناسل سے اٹھا کر کھینچا، یہ ہے جنوبی ایشیا۔

ایٹمی عبدالکلام اور قدیر خان کے دیس جہاں پاکستان کے ایک ایٹمی سائنسداں بشیرالدین کا خیال تھا کہ جنوں کو اپنے قبضے میں لے کر ان کے جسموں کو نچوڑ کر اُن سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

یہ وہ دیس ہیں جہاں کےڈا کٹر عبدالسلام جیسے نوبل انعام یافتہ سائنسداں غریب الوطنی اور بے کسی کے درد میں مر جاتے ہیں۔ اجمیر میں سات سات من کے چاول کی پکتی ہوئی دیگیں، مست مست، ویراپن ڈاکو، نرملا اور کالا باغ ڈیم۔ جہاں مضبوط فوجیں اور کمزور اکانمیاں (معیشتیں) ہیں۔ ( آئی ایس آئی اور را ہیں۔ جب تک یہ عفریت ادارے ہیں امن اور شانتی ان دیسوں میں نا ممکن ہے۔)

سوال یہ کہ جنوبی ایشیا کی قوموں کی کنپٹی پر نتھو رام گودسے جیسی تقدیر نے پستول تان رکھی ہے۔ کیا اس تقدیر کو اپنے ڈرائنگ روم کی دیوار پر ’توکل علی اللہ‘ کا فریم سجائے ہوئے جنرل مشرف سمیت یہ سارے سارک نیتا ٹال سکتے ہیں۔ یا یہ وہ فقیر ہیں جن کے پاس نیوکلیئر طاقت کی صورت میں ایک پستول ہے۔ اور سوال یہ ہے کہ باقی دنیا اِن کے اس نیوکلیئر پستول سے اس لئے نہیں ڈرتی کہ یہ اپنے یہ ہتھیار دنیا پر استعمال کریں گے۔ باقی دنیا کو تشویش اس بات پر ہے کہ کہیں یہ اپنے ہتھیار اپنے آپ پر استعمال کر کے خود کو ہلاک نہ کر لیں۔ کیا نیوکلیئر انڈیا اور پاکستان اپنے آپ پر نہیں تو اپنے باقی سارک کے پانچ پڑوسیوں پر رحم کھا کر یہ ہتھیار تلف نہیں کر سکتے۔

بقول طارق علی کے ’اگر انڈیا اور پاکستان ایک ساتھ جی نہیں سکتے تو اِنھوں نے ایک ساتھ مرنے کی ضرور ٹھانی ہے‘۔

یہاں گر نیلسن منڈیلا اور بشپ ٹوٹو جیسے انسانی غم خوار تو نہیں لیکن ’بک سٹور بدھ ازم‘ سے ہٹ کر دھرم شالا میں رہنے والے دلائی لامہ تو ہیں جو جنگ، غربت سے بھرے ایشیا کی نیّا کسی پار لگا سکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ میں نے کھٹمنڈو میں ایک بدھ خانکاہ پر خنجر بکتے، بدھوں اور بکھشوؤں کے بچوں کو زائرین پر خانکاہ کے گنبد سے پتھر پھینکتے اور بدھ مونٹسریوں میں راتوں کو بدھ بکھشوؤں کو انڈین فلم ’رنگیلا‘ دیکھتے دیکھا۔ لیکن میں نے کینڈی سری لنکا میں ایک ڈھلتی شام کو ایک ہی وقت، ایک ہی جگہ مسجد سے اذان آتی، مندر اور چرچ میں گھنٹیاں بجتی سنی۔ کیا یہ سارک کے نیتا ایسی شام اور صبح اپنے دیسوں کی ہر ایک گلی میں لا سکتے ہیں۔

لیکن یہ تو ’راجہ کی آئے گی بارات‘ جیسی سارک کانفرنس لگتی ہے کہ جس میں دلہا اور دلہن پاکستان اور ہندوستان اور باراتی باقی سارے جنوبی ایشیائی دیسوں کے حکمران، وزیر اور صحافی تھے۔ یا یہ انڈین اور پاکستانی پینل کوڈ میں اب تک موجود اس دفعہ ایک سو سات والی کارروائی تھی جس کے تحت تھانیدار دو لڑتے فقیروں سے کہتا ہے یا تو صلح صفائی کر لو یا پھر دونوں اندر ہو جاؤ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد