یوم آزادی: حب الوطنی کی پٹاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راوالپنڈی میں جی ایچ کیو کے پڑوس ہی میں میرے ایک جاننے والے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں غازی کے نام سے مشہور ہیں۔ مجھے عام دنوں میں وہ یاد آئیں یا نہ آئیں، چودہ اگست کے آس پاس کبھی نہیں بھولتے۔اس لیے نہیں کہ انہوں نے پاکستان کے لیے کوئی بہت بڑا تیر مارا ہے بلکہ اس لیے کہ انہیں پاکستان کے ساتھ ’آزادی‘ کا لفظ بہت ناگوار گزرتا ہے۔ نہیں نہیں! وہ غدار نہیں۔ پاکستان کے عام لوگوں سے مختلف بھی نہیں۔ بس ان کی منطق ذرا نرالی ہے۔انہیں یومِ آزادی منانا پسند نہیں۔ (خدا کرے وہ غدارِ پاکستان کے لقب سے محفوظ رہیں کہ آج کل وطن میں اس طرح کے لقب ہی ارزاں ہیں باقی تو ہر جنس گراں ہو گئی ہے، خواہ وہ آزادی سے اپنے دل کی بات کرنا ہی کیوں نہ ہو۔) خیر! غازی صاحب کہتے ہیں کہ یومِ آزادی منا کر ہم ثابت کرتے ہیں کہ چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے پہلے پاکستان آزاد نہیں بلکہ غلام تھا۔ اپنی بات اوپر تک پہنچانے کی دھن ان پر اتنی سوار ہے کہ انہوں نے پاکستان کے کم و بیش ہر سربراہ کو اس موضوع پر خط لکھے ہوں گے اور شاید آئندہ بھی لکھتے رہیں۔ غالباً ان کے پاس پاکستان کو دینے کے لیے یہی ایک انوکھی اور نہ بکنے ولی منطق ہے۔ ویسے لگے ہاتھوں کیوں نہ آپ سے بھی پوچھ ہی لیا جائے کہ آپ نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟ بھئی اچھا پاکستانی ہونے کے لیے بحکمِ سرکار کچھ عرصے سے یہ قرار دیا گیا ہے کہ ’یہ مت پوچھیں/سوچیں کہ پاکستان نے آپ کو کیا دیا ہے بلکہ یہ پوچھیں/سوچیں کہ آپ نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟‘ پاکستان کو آپ نے کیا دیا ہے اس سوال سے متعلق ایک چیز میں نہیں سمجھ سکتا۔ اگر پوری قوم کو بیک آواز اس سوال کا جواب دینے کی اذیت میں مبتلا ہونا پڑا تو کیا ہوگا۔ صاف ظاہر ہے کہ اچھوں کے ساتھ ساتھ بروں یعنی احمقوں، بےوقوفوں کے علاوہ لٹیروں، ڈاکوؤں، ضمیر فروشوں، غاصبوں اور پتہ نہیں کس کس کا احسان پاکستان کے گلے پڑ جائے گا اور اس دھکم پیل میں ٹیم ورک کی آڑ میں اُن کی بھی پردہ پوشی ہو جائے گی۔ رہ گئی یہ بات کہ ہر کوئی فرداً فردًا بتائے کہ اس نے پاکستان کو کیا دیا ہے۔ تو اس میں غریب و مفلس تو صاف بچ جائیں گے کہ ان کے پاس دینے کے لیے جو تھوڑا بہت تھا، وہ پاکستان تک پہنچ ہی نہیں سکا۔ کیا پاکستان کے ایوانوں میں آج تک بے کسی کا شور پہنچا ہے؟ کیا فاقہ کش بچوں کی سسکیاں پہنچی ہیں؟ کیا بیماروں کی آہیں پہنچی ہیں؟ کیا کسم و پرسی کے عالم میں اٹھنے والی صدائیں پہنچی ہیں؟ اس کا جواب صرف نہیں میں ہے۔ یوں بھی ایسے ہی لوگوں نے کہ جن کی معصوم خواہشیں پاکستان کے ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی کہیں بکھر گئیں، پاکستان کو کچھ نہ کچھ دیا ہے۔ کسی نے پاکستان کی مانگ کو آنسوؤں کے ستاروں سے سجایا ہے، کسی نے اس کے راستوں کو اپنی جبین کے سجدوں سے مقدس بنایا ہے، کسی بیٹی نے عصمت وار کر پاکستان کے دامن پر داغ لگنے سے بچایا، کسی نے ماں بن کر اپنے آنچل کو اس کا سائبان بنایا، اور کسی نے چھوٹے عہدے کا فوجی بن کر پاکستان کو اپنی رگِ جاں سے لہو تک نکال کر دے دیا۔ لیکن اب سیاست دان اور جرنیل بھی بتائیں کہ انہوں نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟ مجھے نہیں معلوم کہ جرنیلوں اور ان کی میسوں سے سیاست کا سبق لینے والوں نے پاکستان کو کیا دیا۔ لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ اس قماش کے جرنیلوں اور اس قبیل کے سیاست دانوں نے پاکستان کو کچھ دیا نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کچھ کیا ہے۔ چند ایک کو چھوڑ دیجیئے باقیوں کےمتعلق مشہور ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ فراڈ ہی کیا ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا۔ مسلم لیگ تو خیر چشمِ شاہ کے اشاروں پر اور حاکمِ وقت کے قدموں کی چاپ سے ہم آہنگ ہو کر چلنے والی پارٹی کہلاتی ہے، چلیئے پوچھتے ہیں دوسرے سیاست دانوں سے کہ جرنیلوں نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟ جواب ملے گا کہ جرنیلوں نے عوام کے نمائندوں کو حکمرانی کے حق سے محروم کردیا۔ دوسری طرف احتساب بیورو ہے۔ یہی سوال اس سے پوچھا جائے کہ سیاست دانوں نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟ جواب ہوگا کہ سیاست دان پاکستان کو لُوٹ کر کھا گئے۔ سیاست کے بازار میں بھٹو، بےنظیر اور شریفوں کا زیادہ نام ہے۔ چلیئے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہو ں نے پاکستان کو لُوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ لیکن عسکری میدان میں ستاروں کی طرح چمکتے جو نام نظر آتے ہیں ان میں کہیں ایوب خان ہیں، کہیں یحییٰ خان ہیں، کہیں اے اے کے نیازی ہیں، کہیں ضیاالحق ہیں اور کہیں پرویز مشرف۔ ایوب خان نے پاکستان کو اپنی مرضی کی جمہوریت دی، ایوب خان اور یحییٰ خان نے پاکستان کو مشترکہ طور پر بھٹو جیسا ’غدارِ وطن‘ اور ’ملک توڑنے والا‘ سیاست دان دیا۔ لیفٹینٹ جنرل نیازی تو ملک کے مشرقی حصے میں پاکستان کو ایک تاریخ لکھ کر دے گئے، جنرل ضیاالحق نے اسلام کے نام پر پاکستان کو وہ کچھ دیا جس پر اور تو اور اسلام کے خود ساختہ مبلغ بھی انگشت بدندان ہیں۔ یہ ہے ایک جھلک اس نذارانے کی جو پاکستان کے ان سپوتوں نے پاکستان کو دیا۔ اب جنرل پرویـز مشرف پاکستان کو لبرل تصور دے رہے ہیں۔ آج نہیں تو کل پتہ چل ہی جائے گا کہ حسن مجتبیٰ ٹھیک کہتا ہے کہ جنرل مشرف کا لبرل ازم بھی ایک طرح کی ریاکاری ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا تانا بانا جی ایچ کیو میں بُنا جاتا ہے۔ لیکن جی ایچ کیو کے پڑوس میں رہنے والے ہمارے غازی صاحب کو کوئی کیا سمجھائے کہ یومِ آزادی منانے کی ان کی یہ منطق کہ ایسا کرنے سے ایک وقت پاکستان کو غلام بھی تصور کرنا پڑے گا، آج کل چلنے والی چیز نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس پاکستان کو دینے کے لیے کچھ اور نہیں ہے تو کم از کم جنرل مشرف کے لبرل پاکستان کا تعلق غلامی سے جوڑنے کی ’ناپاک جسارت‘ نہ کریں۔ حُب الوطنوں نے پاکستان کو کچھ اور دیا ہو یا نہیں، اپنی پٹاری سے پاکستان کے نام پر غداری کےسانپ ہمیشہ نکالے ہیں جنہوں نے نہ جانے کتنے آزاد منشوں کو ڈس لیا ہے۔لہذا غازی صاحب! آزادی کی منطق کہیں آپ کو ہی غلام نہ بنا دے کہ آپ تو چند قدموں کی مار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||