جوہر میر کا ویران ڈیرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ سنہ انیس سو نواسی کی بہار کے اختتامی دن تھے جب سندھ کے شہر حیدرآباد کے گاڑی کھاتہ میں سائیکل سوار سي آئی ڈی ’ چاچا اسماعیل‘ کی نظروں اور کانوں سے بچتےہوئے ایک گھر کی چھت پر قائم امام بارگاہ میں ایک مجلس عزا خفیہ طور پر منعقد کی گئی تھی کیونکہ یہ مجلس عزا ذوالفقار علی بھٹو کے چہلم کے موقع پر برپا کی گئی تھی- یہ جنرل ضیاءالحق کی مارشل لا کے دن تھے لیکن اس دن تک نکلنے والے روزنامہ 'مساوات' کے بھٹو کے چہلم پر شائع ہونے والے ایڈیشن کے صحفہ اول پر یہ نظم شائع ہوئی تھی جو سہالہ میں نظربند بیگم نصرت بھٹو کے سندھ منتقل کیے جانے پر تھی: "اسلام آباد کے کوفے سے پاکستان میں ایک سیاسی نوحہ بن جانے والی ’ اس نظم' کا خالق اور روشن خیال شاعر، ادیب و صحافی جوہر میر چند ہفتے قبل نیویارک میں جلاوطنی میں فوت ہو گئے- کیا آپ جوہر میر کو جانتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب آپ بہت سارے کا نفی میں ہوگا- لیکں آپ میں سے بہت ساروں کا جواب اثبات میں ہوگا اگر میں کہوں "کیا آپ نے 'اسلام آباد کے کوفے سے میں سندھ مدینے آئی ہوں، "سنا ہے؟" جوہر میر کی اس نظم کے بعد ہم میں سے بہت سے اسلام آباد کو 'کوفہ' اور سندھ کو 'مدینہ ' کہنے لگے تھے- جوہرمیر کے حجرے میں مقامی مسجد کامتولی بھی آتا تو احمدی مربی بھی- دونوں کو اورینج جوس تو کچھ کو دودھ کا گلاس اور باقیوں کو وہسکی پیش کی جاتی- یہ ایک سچے صوفی کی خانقاہ تھی- پییپلز پارٹی کے کٹر جیالے بھی ہوتے تو قائداعظم مسلم لیگ والے بھی۔ میر کا جحرہ پاکستانی سیاسی جلاوطنوں کا کاروان سراۓ بھی تھا تو اقتصادی مہاجروں کا مسکن بھی تو میڈیائی خانہ بدوشوں کا پریس کلب بھی تو شاعروں اور سیاستکاورں کی اسٹیج بھی اور ایک طرح کا پاکستانی ثقاقتی سفارتخانہ بھی۔ میں نے مشاعرے مجرے اور محرم نیویارک میں جوہرمیر کے حجرے پر دیکھے۔ جوہرمیر کے لیے ھر خیال اور بچار ’سب چلسی‘ ہوتا تھا- لیکن جوہرمیر کے ہاں کسی کے لیے بھی کوئی تعصب اور نفرت بھری بات کے لیے برداشت ہوا کرتی تھی۔ پھر وہی بارش جیسی زبان میں شعر اور ادب پر بات کرنے والا جوہرمیر پشوری اور ھزاروی زبانوں میں شاھکار گالیوں کا ذخیرہ نکالتے خواہ پاکستان کا حاکم وقت ہو کہ انکا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کبھی تو تو میں میں کرنے والا بیٹا ہی کیوں نہ ہو- جوہرمیر کے نزدیک اس بات کی کوئی اھمیت نھیں تھی کہ انکا محبوب شاعر اور دوست ضمیر جعفری ضیاء الحق کے قریب تھا یا اجمل خٹک اپنے ماضی سے بہت مختلف تھا یا احمد فراز انقلابی شاعر تھا۔ وہ ادب میں جدیدیوں یا رجعت پسندوں والی فرقہ بندی میں پڑنے والے نہیں تھے۔ انکا خمیر اور ضمیر بر صغیر میں چلنے والی ترقی پسند تحریک سے بناہوا تھا اور وہ اس پشاور کے دنوں سے تھے جب وہاں اردو ادب اور شاعری میں فارغ بخاری اور رضا ھمدانی جیسے قدآور شاعر ایک یونیورسٹی کا رتبہ رکھتے تھے اور جوھرمیر بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے والوں میں سے تھے- انھیں اپنے شہر خوبان پشاور کے اجڑ جانے کا بہت دکھ ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے پرانے ساتھیوں اعظم بیگ اور ڈاکٹر امجد اور میاں اشرف کیساتھ گھنٹوں اپنے شہراور اسکی مرتی ہوئی تہذیب کا رونا روتے- پشاور کے اجڑنے پر جوہرمیر نے لکھا: جوہرمیر اپنی غربت کے دنوں اور ٹمٹماتی روشنیوں والے گھر اور اپنی ماں کی یادوں پر مشتمل کھانیاں سناتے۔ وہ پشاور اور کابل شھروں کے اجڑنے اور اپنی ماں کی موت پر ایک ساتھ رو دیتے۔ جوہرمیر نیویارک کی شاموں میں اس کابل کی بات کرتے جن دنوں میں بقول ان کے شام ہوتے ہی وہاں قیدیوں کو شہرکے محلوں میں چھوڑ دیا جاتا جہاں وہ شہرکے مکینوں کے گھروں پر دستک دیکر روٹی جمع کرتے اور پھر جیل کو واپس آجاتے- اک حادثہ ہے مشینوں کی با ضمیری بھی مجھے یفین ہے کہ ویسے تو جوہرمیر میاں محمد بخش کےاس شعر پر ہی یقین رکھتے تھے"دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا۔" جوہرمیر نے نیویارک میں حلقہ ارباب ذوق قائم کیا جو برفباری ہو یا شدید گرمی لیکن ھر پندرہواڑے جیکسن ہائٹس میں اپنے اجلاس منقعد کیا کرتا اور جہاں ہندو پاک کے شاعر اور ادیب اپنی تخلیقات پڑھتے جن پر تنقیدی نشستیں ہوا کرتیں۔ جوہرمیر نے نیویارک سے ادبی مجلہ 'زاویے' بھی شائع کیا جس کے ضمیر جعفری نمبر 'نورجھاں نمبراور سعادت حسن منٹو کی ایک نادر تحریر پر مشتمل طوائف نمبر جیسے یادگار شمارے شائع ہوئے۔ایک دو برس بعد وہ نیویارک میں حلقہ ارباب ذوق کی جانب سے ادبی کانفرنس اور مشاعرے منعقد کرواتے جس میں پاکستان سے شوکت صدیفی سمیت ادیب اور شعرا بھی شرکت کر تے تھے- جوہرمیر اور انکا حلقہ ارباب ذوق نیویارک میں سے شمالی امریکہ میں ھر پاکستانی زبان میں ادب اور شاعری کی سرگرمی کا بڑا مرکز تھا- منو بھائی نے جوہرمیر کی موت پر لکھا ہے: ' نیویارک اور اورامریکہ کے دیگر شہروں میں رہنے والے پاکستانی ادیبوں' شاعروں اور صحافیوں اور پاکستان سے نیویارک جانیوالے ادب اور صحافت کی دنیا کے لوگوں کے لیےجوہرمیر کے ڈیرے یا حجرے کو وھی اھمیت حاصل تھی جو نیویارک کے لوگوں کے لیےمین ہٹن کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے 'ٹوئین ٹاورز کو حاصل تھی-' |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||