BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 January, 2005, 23:35 GMT 04:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہر میر کا ویران ڈیرہ

جوہر میر
جوہر میر صحافی، شاعر اور دانشور، جو نیو یارک میں انتقال کر گئے
یہ سنہ انیس سو نواسی کی بہار کے اختتامی دن تھے جب سندھ کے شہر حیدرآباد کے گاڑی کھاتہ میں سائیکل سوار سي آئی ڈی ’ چاچا اسماعیل‘ کی نظروں اور کانوں سے بچتےہوئے ایک گھر کی چھت پر قائم امام بارگاہ میں ایک مجلس عزا خفیہ طور پر منعقد کی گئی تھی کیونکہ یہ مجلس عزا ذوالفقار علی بھٹو کے چہلم کے موقع پر برپا کی گئی تھی- یہ جنرل ضیاءالحق کی مارشل لا کے دن تھے لیکن اس دن تک نکلنے والے روزنامہ 'مساوات' کے بھٹو کے چہلم پر شائع ہونے والے ایڈیشن کے صحفہ اول پر یہ نظم شائع ہوئی تھی جو سہالہ میں نظربند بیگم نصرت بھٹو کے سندھ منتقل کیے جانے پر تھی:

"اسلام آباد کے کوفے سے
میں سندھ مدینے آئی ہوں
مت پوچھو کیا کھو آئی ہوں
مت پوچھو میں کیا لائی ہوں
کچھ منظر ھیں کچھ یادیں ہیں
کچھ آنسو کچھ فریادیں ہیں
کچھ لمحوں کی سوغاتیں ہیں
کچھ گھڑیوں کی رودادیں ہیں
کچھ سنگ زادوں کے تحفے ہیں
جو کچھ بھی ملا لے آئی ہوں
‍زینب کی خطابت کا صدقہ
شبیر سے مانگ کے لا‎ئی ہوں۔"

پاکستان میں ایک سیاسی نوحہ بن جانے والی ’ اس نظم' کا خالق اور روشن خیال شاعر، ادیب و صحافی جوہر میر چند ہفتے قبل نیویارک میں جلاوطنی میں فوت ہو گئے- کیا آپ جوہر میر کو جانتے ہیں ؟

اس سوال کا جواب آپ بہت سارے کا نفی میں ہوگا- لیکں آپ میں سے بہت ساروں کا جواب اثبات میں ہوگا اگر میں کہوں "کیا آپ نے 'اسلام آباد کے کوفے سے میں سندھ مدینے آئی ہوں، "سنا ہے؟" جوہر میر کی اس نظم کے بعد ہم میں سے بہت سے اسلام آباد کو 'کوفہ' اور سندھ کو 'مدینہ ' کہنے لگے تھے-
پشاور میں پیداہونیوالے میر قربان علی باالمعروف جوہر میر نیویارک میں بھی پاکستانیوں کے لیےایک حجرہ دار تھے- نیویارک کے بورو کوئينز میں جنوبی ایشیائیوں کی ایک بڑی آبادی والے علاقے جیکسن ہائٹس میں ھر سوموار کی شب پاکستانیوں اور کچھ بھارتی اہل نظر' اہل ذوق' اہل دل' ادب' علم اور سیاست لوگوں کا، اپنی جیب کو جاجت رفو' نہ رکھنے والے جوہر میر کے حجرہ میر کے نام سے مشہور اپارٹمینٹ میں ایک میلہ سا لگاہوتا جسے لیہ کے بزرگ اور پرانے مزدور رہنما واحد بخش بھٹی انجمن قاتلان شب کا نام دیتے۔ میرے ایک دوست اسے 'معجزہ میر' کہتے تھے۔ جوہرمیر کے اسی حجرے میں قسم قسم کا لوگ ہوتے- یہاں بڑے مزاحیہ اور سنجیدہ شاعر ضمیر جعفری ،خدا کی بستی والے شوکت صدیقی' منو بھا‎ئی' جی این مغل اور شمشیرالحیدری بھی مہمان ہوئے تو کرامت علی، سیدہ دیپ ،ظفریاب احمد' حیدر رضوی' امر محبوب ٹیپو بھی ہوتے تو میرے گے گرو اور شا‏عر افتی نسیم بھی۔ جوہرمیر ہی کے حجرے پر نیویارک میں بسنے والے جنوبی ایشیائی شاعری' ادب اور سیاست سے وابستہ افراد کئی خواب بنتے اور کئی اچھے اچھے منصوبے بناتے- ظفریاب جیکسن ہائیٹس کی براڈوے پر میلہ چرا‏غاں منانا چاہتے تھے اور عاشق سومرو بھٹائی کا میلہ' افتی نسیم اور اسکا دوست رمییش گجرات کے زلزلے اور سندھ میں سیلابوں کے مارے ہوئوں کی مدد کے پروگرام بناتے-

جوہرمیر کے حجرے میں مقامی مسجد کامتولی بھی آتا تو احمدی مربی بھی- دونوں کو اورینج جوس تو کچھ کو دودھ کا گلاس اور باقیوں کو وہسکی پیش کی جاتی- یہ ایک سچے صوفی کی خانقاہ تھی- پییپلز پارٹی کے کٹر جیالے بھی ہوتے تو قائداعظم مسلم لیگ والے بھی۔ میر کا جحرہ پاکستانی سیاسی جلاوطنوں کا کاروان سراۓ بھی تھا تو اقتصادی مہاجروں کا مسکن بھی تو میڈیائی خانہ بدوشوں کا پریس کلب بھی تو شاعروں اور سیاستکاورں کی اسٹیج بھی اور ایک طرح کا پاکستانی ثقاقتی سفارتخانہ بھی۔ میں نے مشاعرے مجرے اور محرم نیویارک میں جوہرمیر کے حجرے پر دیکھے۔ جوہرمیر کے لیے ھر خیال اور بچار ’سب چلسی‘ ہوتا تھا- لیکن جوہرمیر کے ہاں کسی کے لیے بھی کوئی تعصب اور نفرت بھری بات کے لیے برداشت ہوا کرتی تھی۔ پھر وہی بارش جیسی زبان میں شعر اور ادب پر بات کرنے والا جوہرمیر پشوری اور ھزاروی زبانوں میں شاھکار گالیوں کا ذخیرہ نکالتے خواہ پاکستان کا حاکم وقت ہو کہ انکا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کبھی تو تو میں میں کرنے والا بیٹا ہی کیوں نہ ہو- جوہرمیر کے نزدیک اس بات کی کوئی اھمیت نھیں تھی کہ انکا محبوب شاعر اور دوست ضمیر جعفری ضیاء الحق کے قریب تھا یا اجمل خٹک اپنے ماضی سے بہت مختلف تھا یا احمد فراز انقلابی شاعر تھا۔ وہ ادب میں جدیدیوں یا رجعت پسندوں والی فرقہ بندی میں پڑنے والے نہیں تھے۔ انکا خمیر اور ضمیر بر صغیر میں چلنے والی ترقی پسند تحریک سے بناہوا تھا اور وہ اس پشاور کے دنوں سے تھے جب وہاں اردو ادب اور شاعری میں فارغ بخاری اور رضا ھمدانی جیسے قدآور شاعر ایک یونیورسٹی کا رتبہ رکھتے تھے اور جوھرمیر بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے والوں میں سے تھے-

انھیں اپنے شہر خوبان پشاور کے اجڑ جانے کا بہت دکھ ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے پرانے ساتھیوں اعظم بیگ اور ڈاکٹر امجد اور میاں اشرف کیساتھ گھنٹوں اپنے شہراور اسکی مرتی ہوئی تہذیب کا رونا روتے- پشاور کے اجڑنے پر جوہرمیر نے لکھا:
"جب شہر کی دیواریں گرائی گئیں تو پشاور ایک صحرا میں تبدیل ہوا
وہ شہرجو کبھی پھولوں اور با‏غوں کا شھرہوا کرتا تھا
اسکی عظمت خزاں کے پتوں کی طرح بکھر گئی
شہرکا تقدس اس دن پامال ہوا جب گھروں کو ڈھا کر دکانیں بنائی گئیں
اب یہ شہرچوراہے کے بیچ ننگا کردیا گیا ہے۔
ٹمٹماتی ہوئی روشنی والے گھروں کی جگہ اب نیون سائین ھیں۔"

جوہرمیر اپنی ‏غربت کے دنوں اور ٹمٹماتی روشنیوں والے گھر اور اپنی ماں کی یادوں پر مشتمل کھانیاں سناتے۔ وہ پشاور اور کابل شھروں کے اجڑنے اور اپنی ماں کی موت پر ایک ساتھ رو دیتے۔ جوہرمیر نیویارک کی شاموں میں اس کابل کی بات کرتے جن دنوں میں بقول ان کے شام ہوتے ہی وہاں قیدیوں کو شہرکے محلوں میں چھوڑ دیا جاتا جہاں وہ شہرکے مکینوں کے گھروں پر دستک دیکر روٹی جمع کرتے اور پھر جیل کو واپس آجاتے-
پشاور سے تب روزنامہ مساوات' کے بیوروچیف جوہرمیر نے ضیاءالیحق کے خلاف چل اٹھنے والی صحافیوں کی تحریک میں اھم کردار ادا کیا اور اسکی پاداش میں جیل بھی گئے- جوہرمیر کو تب بھی پکڑ لیا جاتا جب وہ زیر زمین اور بند کمروں میں اپنی نظميں سناتے۔ سننے والوں میں سے ہی کوئی مخبری کرتے اور پھر جوہرمیرہوتے اور ضیاءالحق کے ایجنٹ- جوہرمیر نے جنرل ضیاءالحق کی موت پر لکھا تھا:
"

اک حادثہ ہے مشینوں کی با ضمیری بھی
جہاز اسکے گناہوں کا بوجھ اٹھا نہ سکا
وہ زندہ رہ نہ سکا احتساب ہونے تک
وہ اپنے حصے کا انصاف لے کے جا نہ سکا۔"

مجھے یفین ہے کہ ویسے تو جوہرمیر میاں محمد بخش کےاس شعر پر ہی یقین رکھتے تھے"دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا۔"

جوہرمیر نے نیویارک میں حلقہ ارباب ذوق قائم کیا جو برفباری ہو یا شدید گرمی لیکن ھر پندرہواڑے جیکسن ہائٹس میں اپنے اجلاس منقعد کیا کرتا اور جہاں ہندو پاک کے شاعر اور ادیب اپنی تخلیقات پڑھتے جن پر تنقیدی نشستیں ہوا کرتیں۔ جوہرمیر نے نیویارک سے ادبی مجلہ 'زاویے' بھی شائع کیا جس کے ضمیر جعفری نمبر 'نورجھاں نمبراور سعادت حسن منٹو کی ایک نادر تحریر پر مشتمل طوائف نمبر جیسے یادگار شمارے شائع ہوئے۔ایک دو برس بعد وہ نیویارک میں حلقہ ارباب ذوق کی جانب سے ادبی کانفرنس اور مشاعرے منعقد کرواتے جس میں پاکستان سے شوکت صدیفی سمیت ادیب اور شعرا بھی شرکت کر تے تھے- جوہرمیر اور انکا حلقہ ارباب ذوق نیویارک میں سے شمالی امریکہ میں ھر پاکستانی زبان میں ادب اور شاعری کی سرگرمی کا بڑا مرکز تھا- منو بھائی نے جوہرمیر کی موت پر لکھا ہے: ' نیویارک اور اورامریکہ کے دیگر شہروں میں رہنے والے پاکستانی ادیبوں' شاعروں اور صحافیوں اور پاکستان سے نیویارک جانیوالے ادب اور صحافت کی دنیا کے لوگوں کے لیےجوہرمیر کے ڈیرے یا حجرے کو وھی اھمیت حاصل تھی جو نیویارک کے لوگوں کے لیےمین ہٹن کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے 'ٹوئین ٹاورز کو حاصل تھی-'

سونامی متاثرینمدر نیچر کا ہاتھ
سونامی کے پس منظر میں حسن مجتبیٰ کا کالم
’وردی کی مستی‘
وردی اور صدارت پر حسن مجتبیٰ کا کالم
فوجیسولہ دسمبر کی یادیں
فوج اور مرکز کے رویے پر حسن مجتبیٰ کا کالم
جیلانتقام کا فائن آرٹ
سیاسی انتقام کی مثالیں۔ حسن مجتبی کا کالم
 بش امریکی پیر پگاڑو
اسامہ بش کا محسن؟ حسن مجتبی کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد