BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 October, 2004, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مباحثے کے بعد مہم کے نئے رنگ

بش کیری
بش کیری آخری مباحثے میں وہ تمام باتیں اٹھائی گئی جو امریکی گھویلو سیاست اور ھائی اسکول ڈبیٹ میں اٹھائی جاتی ہیں۔ سوائے میراوانا کو قانونی قرار دینے یا سزائے موت کے سلسلے میں انکی حمایت یا مخالفت۔ وگرنہ انکی زندگیوں میں مضبوط عورتوں کے دخل سے لیکر بال بچوں اور انکے عقیدے تک سب معاملات پر کھل کر بات ہوئی۔

لیکن سیالکوٹ کے’باؤ جی‘ محمود اور سلیم بٹ کی طرح ان لاکھوں لوگوں کے کان اور دھیان صرف ا یک ہی سوال کے جواب کی طرف لگے ہونگے جن کا وہ ہر وقت ہر بڑے دن اور ہر الیکشن مہم میں انتظار کرتے رہے تھے۔

’بس بیٹا اس نئے سال کے دن، اسی کرسمس، اسی چار جولائی کو دیکھیں۔ شاید کلنٹن یا بش اعلان کردیں‘، باؤ جی اپنے بچوں کو سیالکوٹ فون پر کئی سالوں سے کہتے آئے تھے- ’اختری بیگم (بیگم سروری ‏‏عرفان اللہ) بس کلنٹن سے ملے گی اور پھر اعلان ہو جائیگا‘، سلیم بٹ بھی اپنے گھر والوں سے یہی کہتے۔

’بس اب بہت ہو گئی۔ جب بھی گھر فون کرتا ہوں میری چار سالہ بیٹی کہتی ہے فون کو توڑ کر اس کے اندر سے ابو کو باہر نکالو۔‘

مجھے نیویارک کے جیکسن ھائیٹس کے پاکستانی ریستوران میں ایک کڑاکےدار سردی والی رات وہ کارکن یاد آیا جس نے فرش کی صفائی کے ساتھ اس ہندوستانی فلم کا گانا بھی ٹیپ پر لگا رکھا تھا ’بڑے دنوں کے بعد ہم بےوطنوں کو یاد، وطن کی مٹی آئی ہے، چِٹھی آئی ہے‘ اور اس نے مجھ سے کہا ’بس یہ گانا اس لیے لگا کر سنتے ہیں شاید اس سے وطن واپس جانے کا خیال پکا ہو جائے‘۔

اس طرح کے خیالات صرف غریب الوطن پاکستانیوں کے ہی نہیں ان جیسے لاکھون غیر قانونی تارکین وطن کے ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد میکسیکو سے آنے والے لوگوں کی ہے۔

جس ریاست ایریزونا میں صدر بش اور انکے حریف کیری آخری ’دھمال‘ عرف عام مباحثہ کیا وہاں کے بے آب وگیاہ لق دق صحرا سے اب بھی ’انسانی کارگو‘ امریکی خواب کے پیچھے موت کی وادیاں گزر کر آتے ہیں-

دونوں امیدواروں نے اپنے اپنے طور ’مہمان مزدوروں‘ اور امریکی شہریت کیلیے’لائن‘ میں لگ جانے والوں کی بھی بات کی۔ ( یہ نہ تو کوئی بلو کے گھر جانے والی بات ہے اور نہ اسی گانے کے گانے والے کی)۔ ویسے بھی امریکہ میں رہنے والے بہت سے تارکین وطن سمجھتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کی انتظامیہ ’تارکین وطن‘ نواز پالیسیاں رکھتی ہے-

حالانکہ یہ بات اب بہت ہی عام ہے کہ اگر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گرد حملہ نہ ہوتا تو اسی مہینے یا سال بش انتظامیہ امریکی امیگریشن قوانیں میں بہت بڑی تبدیلیں لانے والی تھی جس کا انتظار لاکھوں تارکین وطن اور انکے خاندانوں کو ہمیشہ سے رہا ہے۔

اگر باؤ جی محمود اور سلیم بٹ جیسے پاکستانی تارکین وطن اپنے گھر والوں کو کسی بڑے دن پر متوقع اعلان کی بات کرتے تھے تو کیا غلط تھا۔اور جیسا کہ صدر بش نے کہا کہ سرحدی ریاست ٹیکساس کے گورنر ہونے کی وجہ سے امیگریشن کے مسئلے پر ان سے زیادہ کون جانتا ہوگا۔

میکسیکن اور دوسرے ہسپانوی بولنے والے لاطیینی ووٹوں سے امریکی انتخابات میں صدارتی یا ریاستی امیدواروں کو اتنی بڑی غرض رہی ہے جتنی سکھر اور ٹنڈو آدم میں مہاجر ووٹو ں کی یا وسطی پنجاب میں آرائیں اور جٹ ووٹوں کی اور راولپنڈی اور سالٹ رینچ میں فوجی ووٹوں کی۔

یہی وجہ ہے کہ بش کے بھائی فلوریڈا کے گورنر ہیں جہاں اس پارٹی کا پلڑہ بھاری ہوتا ہے جسے کیوبن پناہ گزینوں کے ووٹ ملتے ہیں۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے ستارے گردش میں اس لیے بھی رہے کہ کیوبائی بچے الیان گونزالز والے مسئلے پر کیوبائی جلاوطن یا پناہ گزین برادری نےکلنٹن حکومت کے الیان گنزالز کی امریکہ بدری کو نا پسند کیا تھا- حالانکہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہاں سے مسلمانوں کے ووٹوں نے بش کو تنکے کا سہارا دیا تھا-

بات کچھ بھی ہو لیکن وہ جو کہتے تھے کہ اس بار صدارتی اتتخابات میں اپنی مہم کے دوران دونوں پارٹیوں نے مسلمانوں کا نام بھی لینے سےاحتراز کیا۔ یہ بات اس وقت مجھے بس ایک 'باتاں' ہی لگی جب مباحثے میں ایک جگہ صدر بش نے کہا امریکہ میں عیسائی ہوں کہ مسلمان لیکن ہر کسی کو اپنے اپنے طور طریقے سے عبادت کرنے یا نہ کرنے، خدا کو ماننے یا نہ ماننے کے حقوق امریکی آئین میں ہیں۔ ہے تو یہ وہی مسٹر جناح والی بات ( جن کی بس یہی ادا پاکستان کے تمام لبرلوں، میں لبرلوں کی جگہ روشن خیال ضرور لکھتا لیکن پاکستان میں اب یہ نام کمانڈروں کے ہیں، کو بھا گئی ہے) لیکن کم از کم اس مہم میں صدر بش نے یہ باور کرایا کن مسلمانوں کے نام لینے سے نکاح نہیں ٹوٹ جاتا۔ اگر اس مہم میں نکاح ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوتا ھے تو ہم جنس شادیوں کی حمایت کرنے سے یا ہم جنس حقوق پر سیاستدانوں کے کھل کر بولنے سے۔ اگرچہ گے شادیوں پر صدر بش اور جان کیری کے موقف میں کافی مطابقت پائی جاتی تھی۔ لیکن ایسا لگاجیسے جان کیری گے لوگوں کے دل اور ووٹ جیتنے میں زیادہ کوشاں ہیں۔

کیری جو خود اس ریاست میسوچوسٹس سے ہیں جس کی ا‏علیٰ عدالت نےگے شادیوں کی اجازت دے دی تھی اور جہاں سے کانگریس میں ایک منتخب رکن نہ فقط کھلم کھلا گے ہیں بلکہ وہ گے منتخب قانون سازوں کی کاکسس کے سرکردہ بھی رہے ہیں۔ سان فرانسسکو’نیویارک‘ میساچوسٹس لاس اینجلس بشمول ’ہالی ووڈ روڈ آئی لینڈ‘ اور نیو جرسی ميں گے لوگوں کے بڑے ووٹ کیری کو پڑیں گے۔

مجھے کیری کی آبائی ریاست کے شہر بوسٹن سے میرے ہندوستانی مسلمان ڈاکٹر گے دوست یاد آتے ہیں جنھوں نے نیویارک سے شائع ہونیوالے پاکستانی اردو اخبار میں ’جیون ساتھی کی ضرورت ہے خواتین زحمت نہ کریں‘ کا اشتہار دیا تھا۔

ڈاکٹرثمیر (یہ ان کا اخباری نام ہے) کاتو اپنا ووٹ یقین سے جان کیری کو پڑنا ہے۔ جان کیری نے ریپبلکن پارٹی کے نائب صدارت کے انتخابات پھر سے لڑنے والے ڈک چینی کی بیٹی کا ذکر کیا جو لزبیئن ہے۔ چینی کی سیاست اور باقی باتیں اپنی جگہ لیکں اپنی لزبیئں بیٹی سے پیار اور اسکا لزبیئں ہونا قبول کرنا چینی کی بڑائی ظاہر کرتی ہے۔

کاش دنیا کے تمام گے لزبیئن بیٹوں اور بیٹیوں کے والدین اور گےاور لزبیئن والدین کے بیٹے اور بیٹیاں بھی اسطرح ہوتے۔

اسی طرح کیری کے اسقاط حمل پر بھی وہی خیالات تھے جو کسی بھی معقول لیکن لبرل شخص کے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ کیری خود کو رومن کیتھولک کہلاتے ہیں مگر پھر بھی نیویارک کے ایک بڑے چرچ نے انکی اسقاط حمل اور سٹیم سیل ریسرچ پر موقف کی بنا پر لوگوں سے انکو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

صدر بش کے بحیثیت صدر کے فیصلوں میں انکے عقیدے کے دخل پر ان باتوں نے دیکھنے والوں پر بہت سے پکے عیسائی گھروں میں رِقت طاری کر دی جو انکے آخری مباحثے کے اختتامی کلمات میں امریکی عوام سے ووٹ مانگنے پر ٹوٹی۔

یہ بہر حال اس طرح تو نہیں تھا جس طرح پاکستان میں کبھی بسوں اور ریلوں میں سفر کرتے ہوئے خوش الحان قاری قرآت کے بعد چندے کی اپیل کرتے تھے- لیکن امریکہ میں چھوٹے بڑے چرچوں میں اور وہاں ہونے والےاجتماعات میں آنے والے خاندانوں اور افراد نے بش کا یہ سندیس سن لیا ہے ’مجھے ہالی ووڈ نہیں میرا چرچ جانا کہتا ہے کہ مجھے کس کو ووٹ دینا ہے‘۔

خدا کی پہلی اسمبلی نامی چرچ میں سے نکلنے والے ایک بزرگ شخص نے مجھ سے کہا: ’اگر تمھارا ووٹ ہے تو میں کہوں گا بش کو یاد رکھنا‘۔

’میرا چرچ دنیا کا سب سے بڑا چرچ ہے اور وہ ہے تمام دنیا‘، میرے کام پر ساتھی اور دیسی امریکی یا نیٹو انڈین فرینک نے کچھ روز پہلے مجھ سے کہا- ایسی ہی ایک اور نیٹو انڈین اور میری پڑوسن وینڈی نےمباحثے کے بعد کیری کا بیج بھی لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد