کون کسے کیوں ووٹ دے گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آخر تم بارش اور انتخابات کے بارے میں اتنے ’ایکسائٹیڈ‘ کیوں ہو؟ میری ایک شناسا امریکی نے مجھ سے پوچھا جو کل ہی ٹیکساس سے ڈرائیو کرکے یہاں سان ڈیاگو پہنچی تھی۔ ’میرا تعلق ان ملکوں سے ہے جہاں محض انتخابات کےانعقاد کےمطالبے پر لوگ مارے جاتے رہے ہوں اور بارش تو وہاں دور بسنے والے محبوب یا بیٹیوں کی طرح ہوتی ہے‘، میں نے اپنی اس شناسا امریکی خاتون سے کہا۔ اور پھرپتہ نہیں کیوں میرے ’کتے مارکہ‘ گراموفون ریکارڈ (یا توے) جیسی امریکہ میں گرمیوں کا موسم ابھی ختم ہوا ہے جسے لبرل ہفت روزہ ’نیشن‘ نے’انڈین سمر‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ ’جان کیری کو مینسیوٹا، وسکانسن اور آئیووا‘ جیسی دیہی ریاستوں میں ووٹوں کی فصل ایسی پانی چاہیے جیسے یہاں کے کسان کسی ’انڈین سمر‘ کے دن پر بمپر فصل کاٹا کرتے ہیں‘۔ اگرچہ گزشتہ سن دوہزار کے انتخابات میں وہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ایل گور کے ہاتھوں جارج بش ہارگئے تھے لیکن اب بھی جان کیری یہاں کے جھولتے ہوئے فیصلے والے ووٹروں کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکے۔ دیہی امریکہ کے دیہی ووٹر: ایسی ایک ووٹر میری یہ شناسا بھی تھی جو ٹیکساس کے ایک چھوٹے شہر کرویل سے تعلق رکھتی ہے جس کی کل آبادی بیس ہزار ہے اور یہ ہیوسٹن سے ستر میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ’ابتک جان کیری نے اپنے سینیٹ کے عہدے سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا۔ وہ اس لیے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ یہ صدارتی الیکشن نہیں جیت سکتا‘۔ پھر اس نے مجھےٹیکساس سے کیلیفورنیا تک الیکشن کے پس منظر میں اپنا سفرنامہ بمعہ نرخنامے کےسنانا شروع کیا۔ ’وہاں ڈبل روٹی سوا دو ڈالر کی اور گیس (پیٹرول) کاگیلن بھی سوا دو ڈالرمیں ہے جو سان ڈیاگو سےصرف پچیس سینٹ سستا ہے۔ لیکن پھر بھی گاڑی صحیح جارہی ہے جو کیری پٹری سے اتار دےگا‘۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون بش کی حامی ہے اور اس نے بش انتظامیہ کے کام گنوانا شروع کیے۔ ’بش نے اپنی صدارت کے آٹھ ماہ کے اندر توانائی کی کمپنی اینرون کو قانون کے حوالے کیا اور انہیں آٹھ مہینوں کے اندرافغانستان میں پہاڑوں میں روپوش شخص پر بمباری کی‘۔ وہ وہاں سے گزر کر آرہی تھی جہاں اسے بارش نے آلیا تھا۔ جب وہ کیلیفورنیا سے گئی تھی تو تمام پہاڑ ننگے اور گنجے تھے اور اب وہ ’پہاڑی کنٹری‘ کہلانے والے کرویل کی رہنے والی مجھے بتا رہی تھی بارشوں کے بعد پہاڑ سرسبز ہوچکے ہیں۔ اس وقت مجھے ہیمنگوے کی ’کلمنجاروکے پہاڑ‘ یاد آگئے۔ انتخابات امریکہ میں ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہر ملک کی گلی کوچے میں ’کیری بمقابلہ بش‘ ہورہا ہے۔ لیکن میں جس بھی کافی ہاؤس اور شراب خانے میں گیا وہاں انتخابات سے زیادہ بات ییس بال کے حالیہ میچوں کی ہو رہی تھی۔ سان ڈیآگو کے پیدرس بمقابلہ یانکییز۔ اس ملک کے انتخابات کا ان ملکوں سے کیا مقابلہ جہاں فقط انتخابات کے انقعاد کا مطالبہ کرنے پر لوگ مارے جاتے ہوں، سالوں تک عقوبت خانوں میں پڑے سڑنے دیئے جاتے ہوں، بڑے بڑے برگزیدہ رہنما برسوں تک پابند سلاسل کیے جاتے ہوں، جلاوطن کیے جاتے ہوں اورانتخابات کا مطالبہ اگر مان بھی لیا جائے تو پھر جیتنے والی جماعت کو اقتدار کی پرامن منتقلی جرنیلوں کو جورو کی گالی لگتی ہو اوراس پر پورا خلیج بنگال خون اور لاشوں سے بھر جاتا ہو۔ دور کیوں جائیں پیارے پاکستاں یا برما کی ہی مثال لےلیجیے۔ اپنے کے جیسے دیسوں میں شاید کہ وہ نسل بھی ’قائداعظم کے آخری ساتھی‘ کی طرح کب کی چل بسی ہو جن میں یہ گانا مقبول ہوا کرتا تھا ’میرا پیاگیا رنگون وہاں سے کیا ہے ٹیلیفون تمھاری یاد ستاتی ہے‘۔ اب تو رنگون سے آنے جانے والے ٹیلیفون بھی ٹیپ ہوتے ہونگے۔ برما میں شاعرشاعری کرتے مر گئے اور سیاسی کارکن یہ نعرے لگاتے کہ ’یہ وردی والے بے غیرت‘ لیکن وردی والوں نے الیکشن نہ کروانے تھے نہ کروائے۔ ایسے ہی ووٹوں کے حق کے منکر ایک اور ملک عراق میں پلے بڑھے۔ جان سے جب میں نے ان امریکی الیکشن کے بارے میں پوچھا تو پہلے تو اس نے وہ کہا جیسے ایسے ملکوں میں پلے بڑھے اکثر لوگ کہتے ہیں۔ ’ہمارا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں‘، لیکں پھر ’اوراہل خانہ کی طرح اگر میرا ووٹ ہوتا تو میں بش کو دیتا۔ وہ اس لیے نہیں کہ کیری کوئی عراق میں موجودہ امریکی پالیسیوں کو ختم کردے گا بلکہ اس لیے کہ وہ بش ہی ہے جو عراق میں موجودہ صورتحال کو روک سکتا ہے‘۔ کوئی بیس سان قبل پاکستان میں عیسائیوں کے ساتھ ہونیوالے سلوک سے تنگ آکر امریکہ میں بسنے والےصدر کراچی کے مسیحی کار ڈیلرنےمجھ سے کہا ’میں اپنا ووٹ جا ن کیری کو دوں گا اس لیے نہیں کہ کیری مجھے پسند ہے مگر اس لیے کہ میں امریکہ میں تبدیلی چاہتا ہوں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||