کیلی فورنیا:گولڈن سٹیٹ کا الیکشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ غیر گورے ہیں، آپ کا تعلق چاہے جنسی اقلیت سے ہے، مزدروں کی یونین سے ہے، تارک وطن ہیں یا بقول میرے پسندیدہ لکھاری پال تھیرو کے ’امیر امریکہ میں غریب پیدا ہوئےہیں‘ امریکہ میں ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں تو قوی امکان اس بات کا ہے کہ آپ اس بار ووٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری کو دینگے۔ یہی کچھ میرے امریکہ کے مغربی ساحل اور جنوب مغرب: کیلیفورنیا، ایریزونا، نیومیکسیکو اور کولاراڈو کی ریاستوں میں ہوتا ہوا لگتا ہے۔ ’کیلیفورنیا میں سفید فام آبادی اب اقلیت میں ہے‘ سماجیات کے ماہرین کو بارہا یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے۔ آزاد و غیر سرکاری کیلیفورنیا پالیسی انسٹیٹوٹ کے اعدادوشمار کے مطابق کیلیفورنیا میں ہر دس لوگوں میں چار ہسپانوی بولنے والے ہیں اور انکی سب سے بڑی تعداد جنوبی کیلیفورنیا یعنی لاس اینجلس اور سان ڈیاگو میں ہے۔ سان ڈیاگو جہاں سے میکسیکو پندرہ بیس منٹ کی کار اور ٹرالی (ٹرام ٹائپ) کے سفر پرہے۔ یہ ’گولڈن اسٹیٹ‘ یا سنہری ریاست کہلانے والی کیلیفورنیا اسوقت سے دنیا جہان کے تارکین وطن کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے جب اٹھارویں صدی میں چند تارکیں وطن نے اس کے سمندر کی ریت میں سونے کے چند ذرے پائے اور پھر جہاں گرد تارکین وطن اس ’سونے‘ کی کہانی سے خواب باندھے ساحلوں کی خاک چھانتے آ نکلے۔ آپ نے ڈیرہ غازی خان اور میانوالی میں کالاباغ کے پاس دریائے سندھ کے پانی اور ریت میں سونا تلاش کرنے والے ’دھول دھیے‘ ضرور دیکھے ھونگے۔ اپنے بر صغیر سے جو سب سے پہلے شمالی امریکہ پہنچے وہ سکھ تھے اور شمالی امریکہ میں بھی یہ سکھ کیلیفورنیا پہنچے۔ ان سکھوں میں غدر پارٹی کے انقلابی بھی تھے ’سان فرانسسکو دے اک پنڈ وچ امر جیت چندن نے ’میک فار لینڈ کیلیفورنیا‘ کے عنوان سے ایک اور نظم میں کپور تھلہ کے اپنے ساتھی پاش کو یاد کیاہے جسے خالصتانیوں نے قتل کیا تھا۔ لیکن تاریخ کبھی کتنی اندھی بن جاتی ہے کہ خالصتانیوں اور اندرا گاندھی کے آپریشن بلو سٹار سے بھاگتے ھوئے سکھوں کو کیلیفورنیا میں مسلم بنیاد پرست سمجھ کر مارا جائیگا۔ اب کوئی عجب نہیں کہ ان میں سے بہت سے سکھوں نے اپنے ووٹ ڈیموکریٹک پارٹی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسے یہاں کیلیفورنیا میں کے یوبا نامی شہر میں جتنےمشرقی پنجابی ہیں اتنے شاید ٹوبے (ٹوبہ ٹیک سنگھ) میں بھی نہیں ہونگے۔ اگرچہ کیلیفورنیا امریکہ کے صدارتی انتخابات میں میدان جنگ والی ریاستوں کی سی حیثیت نہیں رکھتی لیکن پھر بھی پارٹی حمایت کے حساب سے انتہائی سیاسی اور تاریخی حیثیت کی حامل رہی ہے۔ کیلیفورنیا ریاست اور جنوب مغربی ریاستوں میں ووٹ کی حیثیت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی بلکہ بدلتی رہی ہے۔ کیونکہ یہاں آزادانہ رائے رکھنے چاہے ایک پارٹی کی طرف فیصلہ نہ کر سکنے والے ووٹر کی بڑی تعداد اور اہمیت رہی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ سن انیس سو اڑسٹھ میں کیلیفورنیا نے رچرڈ نکسن کو کامیاب کروایا تھا۔انیس سو چھتر میں اسی ریاست نے جمی کارٹر پر جیرالڈ فورڈ کو فوقیت دی تھی جبکہ انیس سو اٹھاسی میں یہاں سے جارج بش سینئر (ابا جی) کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ’ کیری امریکیوں کا روزگار بیرون ممالک کو جانے کی بات کرتے ہیں جبکہ انکی بیوی ھائینس کیچ اپ کی کمپنی کی مالکن ہیں۔ تمھیں پتہ ہے کہ اسطرح کی صنعت ٹماٹر چننے والے تارکین وطن کی سستی محنت اور انکے استحصال میں ملوث پائی گئی ہے‘، خاندانی طور ربپبلکن پارٹی کی ووٹر اور پرجوش میری دوست جوانا نے مجھ سے کہا۔ ’کیا تمھیں معلوم ہے کہ تیل کی قیمتیں کیوں بڑھی ھوئی ہیں؟میں نے ایک کیلیفورنیائی سے پوچھا۔ ’نہیں مجھے تو بس اتنا معلوم ہے وہاں جو صدر بیٹھا ہے اس سے ہمیں نجات حاصل کرنی ہے‘، اس نے کہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||