بغداد: 30سے زائد افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں عاشور پر شدید خود کش حملوں اب تک تیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ مہلک حملہ ایک مسافر بس پر کیا گیا جس میں سترہ ہلاکتوں کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی مختلف حملوں میں تیس سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ عراق میں عاشورہ کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور ملک کی سرحدوں کو تین دن تک بند کر دیا گیا ہے۔ پچھلے سال محرم کے دوران ہونے والے حملوں میں ایک سو اسّی سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کی اطلاعات کے مطابق تشدد کے تازہ واقعات میں بغداد میں ایک جلوس پر مارٹر حملہ کیا گیا جس سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کے علاوہ جنوبی بغداد میں ایک خود کش حملہ آور نے ایک جنازے میں موجود افراد کے درمیان اپنے آپ کو اُڑا دیا جس سے تین افراد مارے گئے۔ بغداد کے شمال میں عراقی نیشنل گارڈ کے مرکز کے باہر ایک کار بم دھماکے میں دو عراقی ہلاک ہوگئے ہیں۔ عاشورہ کے سلسلے میں لاکھوں عراقی شیعوں نے بغداد اور کربلا کی سڑکوں پر جلوس نکالے اور زنجیر زنی کی۔ عراق کے کونے کونے سےلوگ عاشورہء محرم کے سلسے میں کربلا میں جمع ہوئے ہیں اور شہر میں اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ صوبائی پولیس کےسربراہ جنرل عباس الحسنی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ گز شتہ برس کی نسبت اس سال دوگنے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں‘۔ کربلا شہر کے حساس علاقوں میں کاروں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ مختلف مقامات پر عزاداروں کی تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||