عراق: مساجد پر حملے، تیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جمعہ کے روز متعدد دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد تیس سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جمعے کی نماز کے بعد بغداد کی دو شیعہ مساجد پر حملوں میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ تیسرا دھماکہ بغداد کے شمال مغرب میں شیعہ اکثریتی علاقے میں ہوا ہے جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی بغداد کے دورہ دسٹرکٹ میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس ذرائع نے خبر رساں ادارے ای ایف پی کو بتایا کہ مسجدِ کاظمین میں ہونے والے خود کش حملے میں حملہ آور بارود بھری بیلٹ پہنے ہوئے تھا۔ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شیعہ مسلک کی ایک مسجد میں ہوا۔ دھماکے کے وقت مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی جو کہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔ ایک اور واقعہ میں جنوبی بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے کی القرع مسجد پر مارٹر حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ تیسرا دھماکہ بغداد کی شیعہ آبادی میں ہوا جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ ان واقعات کے بعد شام کے وقت بغداد میں اسکندریہ کے علاقے میں ایک اور شیعہ مسجد کے باہر ایک کار بم دھماکے میں مزید سات افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب انتخابات کے بعد عراقی سیاسی جماعتیں ملک میں نئی حکومت کے قیام کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ عراقی سیکیورٹی فورسز نے عاشورہ کے مدِّ نظرملک میں سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے اور عراق کی سرحدوں کو بھی منگل تک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس عاشورہ پر کربلا اور بغداد میں ہونے والے خودکش حملوں میں ایک سو اسی سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ادھر نجف پولیس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ پولیس میں ملازم ان کے دو بیٹوں کو کربلا جاتے ہوئے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کا بھی کہنا ہے کہ ان کے دو فوجی موصل میں ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||