BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 April, 2005, 03:26 GMT 08:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی عراقی کابینہ کا خیر مقدم
ہلاک ہونے والی ممبر لامیہ عابد خدوری
عراق میں ہلاک ہونے والی پہلی ممبر پارلیمان خاتون کا بیج ان کے دروازے کے باہر پڑا ہے
امریکہ کے صدر بش نے عراق کی پہلی جمہوری حکومت کی تشکیل پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے خیر مقدم کہا ہے۔

یہ حکومت تین مہینے کے گٹھ جوڑ کے بعد تشکیل پائی ہے۔

اگرچہ کابینہ کی کئی اہم وزارتوں پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تاہم صدر بش نے کہا ہے کہ نئی حکومت اتحاد اور تنوع کی مظہر ہے۔

صدر بش نے نو منتخب عراقی وزیرِ اعظم ابراہیم جعفری سے کہا کہ وہ اب عراق کی دوسری اہم تبدیلی یعنی آئین کی تشکیل مکمل کریں۔

انہوں نے نومنتخب وزیرِ اعظم سے کہا کہ وہ دوسرے (ناراض) گروہوں سے بھی ملیں۔

کئی سنی سیاستدانوں نے کہا سنی جماعت کو نئی حکومت میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔

سنیئر سنی رہنما نائب صدر غازی یاور نے بھی کہا کابینہ میں مناسب تعداد میں سنی موجود نہیں ہیں۔

عراق کی نئی کابینہ میں سات وزارتوں کے قلمدانوں پر کسی رکن کو نامزد نہیں کیا گیا۔ ان وزارتوں میں تیل اور دفاع جیسی اہم وزارتیں بھی شامل ہیں۔ عراقی وزیر اعظم ابراھیم جعفری کا کہنا ہے کہ جلد ہی ان وزارتوں کے لیے وزراء کا تقرر کر دیا جائے گا۔

عراق کی عبوری پارلیمان کے 180 ارکان نے وزراء کے حق میں ووٹ دیا جب کہ مخالفت میں پانچ ووٹ ڈالے گئے۔ رائے شماری میں نوے ارکان نے حصہ نہیں لیا۔

وزیر اعظم جعفری عارضی طور پر دفاع کا قلمدان سنبھالیں گے جب کے وزیر تیل کی ذمہ داریاں احمد چلابی نبھائیں گے۔ احمد چلابی نائب وزیراعظم کا عہدے پر بھی کام کریں گے۔

نو منتخب عراقی وزیرِ اعظم ابراہیم جعفری
نومنتخب وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی سب وزیر مقرر کر دیں گے

نئی عراقی کابینہ میں تمام نسلی اور مذہبی گروپوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔

امریکی عہدیدار عراقی نمائندوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حکومت سازی میں جلدی کریں۔

ادھر عراق میں ایک خاتون رکن اسمبلی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

عراق میں عام انتخابات جنوری میں ہوئے تھے۔

لامیہ عابد خدوری عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کی مخلوط حکومت میں شامل تھیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی تھی اور جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ان کو گولی مار دی گئی۔

مسز خدوری کچھ ہی دیر پہلے پارلیمان کے اجلاس کے بعد گھر لوٹی تھیں۔حملہ آور موقع سے فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد