عراق دستاویز: بلیئر کا دفاع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت نے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو دو سال قبل عراق کی جنگ سے پہلے دی جانے والی قانونی مشاورت کا پورا متن شائع کر دیا گیا ہے۔ ابتک حکومت اس سے انکار کرتی رہی ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں قومی انتخابات سے کچھ روز پہلے منظرِ انتخابات عام پر آنے والے دستاویزات کے بعد حکومت مجبور ہو گئی تھی کہ ایسا کرے۔ منظر عام پر آنے والے دستاویز سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ حکومت کے سابق سے اعلیٰ قانونی مشیر، اٹارنی جنرل، نے جنگ کی قانونی حیثیت کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے اقوام متحدہ سے دوسری قرار داد منظور کیے جانے کے بغیر عراق پر حملہ کرنے کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے تھے۔ اٹارنی جنرل کی طرف سے ظاہر کی گئی اس تشویش کو اس سمری میں شامل نہیں کیا گیا تھا جو جنگ سے ذرا پہلے شائع کی گئی تھی۔ یہ دستاویز برطانوی وزیراعظم کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور ان پر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس دستاویز کے مطابق لارڈ گولڈ اسمتھ نے جنگ سے پہلے ٹونی بلئیر سے کہا تھا کہ جنگ کے لیے اقوام متحدہ کی دوسری قرارداد قانونی طور پر ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ’ایسے کئی طریقے ہیں جن کے ذریعے جنگ کے مخالف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں‘۔
انتخابات سے پہلے حزبِ اختلاف نے ان دستاویز کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ٹوری رہنما مائیکل ہاورڈ نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کی ایمانداری پر سوال اٹھایا لیکن مسٹر بلئیر کا اصرار ہے کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا۔ سات مارچ 2003 میں دئے گئے اس قانونی مشورے میں عراق کے خلاف لڑائی شروع کرنے سے پہلے اقوام متحدہ سے دوسری قرارداد کی منظوری پر زور دیا گیا تھا۔ لیبر ڈیمو کریٹک پارٹی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم صورت حال کو واضح کرنے کے لیے تفصیلی بیان دیں۔ تاہم ٹونی بلیئر نے قانونی مشاورت کے اس تنازعہ سے باہر نکلنے کی کوشش کی ہے۔ ایک انتخابی پوسٹر میں وزیرِ اعظم بلیئر اور گورڈن براؤن ووٹروں سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ لیبر کی سرمایہ کاری چاہتے ہیں یا ٹوری کی کٹوتیاں۔ ٹونی بلییر نے بی بی سی کے پروگرام کویسچن ٹائم سپیشل میں کہا ’جائیے اور جا کر مجھے جو خفیہ رپورٹ ملی تھی وہ پڑھیئے اور خود ہی اندازہ لگائیے کہ میں جھوٹا ہوں یا نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں جانے کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ تھا جیسا کہ اٹارنی جنرل نے مشورہ دیا تھا کہ جنگ جائز ہے۔ انہوں نے کہا ’کیا صدام حسین کو برسرِاقتدار رکھنا ٹھیک تھا یا انہیں جیل میں ڈالنا؟ میرے خیال میں انہیں جیل میں ڈالنا ٹھیک تھا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||