لیبر:محنت کشوں کی پہلی برطانوی پارٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں سن بارہ سو پندرہ سے جب سے ملک میں پارلیمانی نظام کی شروعات ہوئی ہے پچھلی صدی کے آغاز تک اقتدار پرجاگیرداروں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی مکمل اجارہ داری رہی ہے۔ ان کےاس راج میں کسانوں اور محنت کش عوام کو ایوان اقتدار میں داخلہ کی بات تو کجا انہیں اس کی دہلیز کی سمت رخ کرنے بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ حالانکہ سن سولہ اننچاس سے سولہ سو اکسٹھ تک اولیور کرامویل کی قیادت میں ملک بارہ سال تک جمہوریہ (ریپبلک ) رہا تھا اور پارلیمنٹ کی حکمرانی رہی تھی۔ پھر اس سے برسوں قبل شہری آزادی اور انسانی حقوق کا عظیم منشور میگنا کارٹا منظور ہو چکا تھا۔
برطانیہ کی سیاست پر مفاد پرستوں اور اشرافیہ کی اجارہ داری کے خاتمہ اور اقتدار میں محنت کشوں کی نیابت کے حصول کی کوششوں کے نتیجہ میں، لیبر پارٹی منظر عام پر آئی۔ ان کوششوں کا سلسلہ بہت طویل تھا۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں محنت کشوں کی نمایندگی کا حق منوانے کے لئے تحریک سن اٹھارہ سو تیس میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن اس کا برسوں تک کوئی خاطر خوا نتیجہ نہ نکلا- اٹھارہ سو اسی اور اٹھارہ سو نواسی کے دوران اس تحریک کی حمایت اور اس کے فروغ کے لئے بائیں بازو اور سوشلسٹ دانشوروں نے کئی تنظیمیں قائم کیں جن میں فیبئین سوسائیٹی نمایاں تھی جو سن اٹھارہ سو چوراسی میں مشہور ادیب اور دانشور جارج برنارڈ شا نے قائم کی تھی۔
اس تنظیم کے نام کے بارے میں بھی دلچسپ روایت ہے۔ یہ نام ایک مشہور رومن جرنیل کوئینٹس فیبئیس میکسیمس پر رکھا گیا تھا جو بہت سوچ سمجھ کر پھونک پھونک کرقدم رکھنے اور تاخیری حکمت عملی کی وجہ سے مشہور تھا- سیاسی میدان میں فیبئین سوسائٹی نے یہی حکمت عملی اختیار کی۔ لیبر پارٹی کا پہلا چہرہ اٹھارہ سوترانوے میں لیبر پارٹی کے بانی کئیر ہارڈی نے انڈیپینڈنٹ لیبر پارٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس نےپہلی بار اٹھارہ سو پچانوے کے انتخابات میں اٹھائیس امیدوار کھڑے کئے لیکن صرف ہارڈی کامیاب رہے- اس کے بعد ہارڈی نے یہ محسوس کیا کہ محنت کش طبقہ کے مفادات کی حامی تمام تنظیموں کے اتحاد اور ان کی مدد سے ایک مضبوط جماعت منظم کئے بغیر جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی اجارہ داری اور استحصال کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں-
ہارڈی خود اس استحصال کا بری طرح شکار بنے تھے جو اس زمانہ میں محنت کش طبقہ کی تقدیرمیں لکھا تھا- وہ اسکاٹ لینڈ میں ایک بے حد غریب گھر میں پیدا ہوئے تھے جن کے والد کے بارے میں کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کون تھے۔ لکھنے پڑھنے کے بجائے انہوں نے آٹھ سال کی عمر سے ایک نانبائی کے ہاں کا شروع کیا- پھر ایک عرصہ تک کوئلہ کی کان میں کام کیا اور اسی دوران انہوں نے خود لکھنا پڑھنا شروع کیا اور ٹریڈ یونین منظم کی- بڑی تیزی سے وہ اسکاٹ لینڈ کی ٹریڈ یونین تحریک میں صف اول کے رہنما بن گئے اور انہوں نے اپنے آپ کو مزدوروں کا قومی رہنما تسلیم کرا لیا- ہارڈی کی کوششوں کا یہ نتیجہ تھا کہ سن انیس سو میں ملک کی تمام سوشلسٹ تنظیموں اور فیبئین سوسائئٹی کا لندن میں ایک تاریخی اجتماع ہوا جس میں سب نے متحد ہو کر لیبر ریپرسنٹیشن کمیٹی قائم کی-
اس کمیٹی نے پہلے لبرل پارٹی کے ساتھ اشتراک کیا اور ساتھ مل کر انتخابات لڑے لیکن جب انیس سو سولہ میں لبرل پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی تو لیبر پارٹی اقتدار کی دعوی دار کی حیثیت سے ابھری- پہلی لیبر حکومت برطانیہ کی تاریخ میں لیبر پارٹی نے پہلی حکومت سن انیس سو چوبیس کے انتخابات کے بعد بنائی گو اکثریت ٹوری پارٹی کو حاصل ہوئی تھی لیکن اسٹینلے بالڈون نے ٹوری حکومت تشکیل کرنے سے انکار کر دیا یوں ریمزے میکڈانلڈ نے اقلیتی حکومت بنائی جس کا تمام دارومدار لبرل پارٹی کی حمایت پر تھا- اکتوبر سن چوبیس میں لیبر پارٹی، برطانیہ کے انٹیلیجنس اداروں کی سازش کی شکار بنی- عام انتخابات سے صرف چار روز قبل ایم آئی فائیو کی شہ پر ڈیلی میل اور ٹائیمز نے ایک جعلی خط شایع کیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ روسی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رہنما زنوویو کا تھا جس میں لیبر پارٹی پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ملک میں بغاوت کی آگ بھڑکا کر انقلاب برپا کرے-
اس جعلی خط سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ لیبر پارٹی کے روسی کمیونسٹوں سے خفیہ مراسم ہیں اور قومی مفادات لیبر پارٹی کے ہاتھ میں محفوظ نہیں ہیں- نتیجہ یہ ہوا کہ لیبر پارٹی بری طرح سے انتخابات ہار گئی- انتخابات کے بعد ریمزے میکڈانڈ نے نہایت اعتدال پسند پالیسی اختیار کی یہاں تک کہ انہوں نے انیس سو چھبیس کی عام ہڑتال کی بھی حمایت نہیں کی- گو پارٹی میں بایاں بازو سخت ناراض ہوا لیکن ملک کے ووٹروں میں یہ اعتدال پسندی مقبول ہوئی اور انیس سو انتیس کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی ہوئی لیکن اتنی نہیں کہ وہ اپنے آپ حکومت بنا سکے- انہیں لبرل پارٹی کی حمایت کا سہارا لینا پڑا لیکن اس دوران ملک سنگین اقتصادی بحران میں گرفتار ہو گیا- اس بحران پر قابو پانے کے اقدامات پر کابینہ میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور ریمزے میکڈانلڈ نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ اپنا استعفی پیش کرنے بادشاہ جارج پنجم سے ملنے گئے تونہایت پر اسرار انداز سے ان کو ٹوری اور لبرل پارٹیوں کے ساتھ مل کر قومی حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے قبول کر لی لیکن ان کی لیبر پارٹی اس پر اس قدر ناراض ہوئی کہ انہیں پارٹی سے خارج کردیا- دوسری عالم گیر جنگ کے دوران کلیمنٹ ایٹلی لیبر پاٹی کے سربراہ تھے اور ونسٹن چرچل کی قیادت میں ٹوری حکومت تھی- ملک کو درپیش اس بحران کے پیش نظر انیس سو چالیس میں مخلوط حکومت تشکیل کی گئی جس میں ایٹلی نایب وزیر اعظم بنے- لیبر پارٹی کا آزمائیشی دور جنگ کے بعد سن پینتالیس کے انتخابات میں جب لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت سے فتح ہوئی تو ہر شخص دنگ رہ گیا- عام خیال تھا کہ ملک ونسٹن چرچل کے حق میں ووٹ دے گا جن کی قیادت میں برطانیہ نے جنگ جیتی تھی اور ہر شخص انہیں جنگ کا ہیرو قرار دیتا تھا- یہ دور لیبر پارٹی کے لئے کٹھن آزمائش کا دور تھا- جنگ ذدہ معیشت کو سنبھالنا تھا اور اس نے سماجی انصاف اور فلاحی مملکت کا جو نظریہ پیش کیا تھا اس کو عملی شکل دینی تھی- کلیٹمنٹ ایٹلی نے دلیرانہ اقدامات کئے- کویلہ، فولاد اور ریلوے کی کلیدی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے لیا- سمای بہبود اور نیشنل ھیلتھ سروس کا نیا نظام قائم کیا اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے دور رس فیصلے کئے- یہ دور اس لحاظ سے بھی تاریخی سنگ میل تھا کہ بر صغیر میں ہندوستان اور برما اور افریقہ میں کئی ملکوں کو آزادی ملی اور یہ شروعات تھی برطانوی نو آبادیاتی نظام کے خاتمہ کی- اس کا سہرا بلاشبہ ایٹلی کے سر جاتا ہے- لیکن جس طرح سن پینتالیس میں برطانوی عوام نے جنگ کے ہیرو چرچل کو مسترد کیا اسی طرح انقلابی اقدامات کے بعد عوام نے ایٹلی کو سن اکاون کے انتخابات میں رد کر دیا- اس کے بعد ٹوری پارٹی اقتصادی خوش حالی کے بل پر تیرہ سال تک بر سر اقتدار رہی- سن چونسٹھ میں ہیرلڈ ولسن نے لیبر پارٹی کا احیاء کیا اور اسے دوبارہ ایوان اقتدار تک پہنچایا- ولسن کا دور سوینگنگ سکسٹیز کا دور کہلاتا تھا ، ہر شخص خوش اور مست نظر آتا تھا، ھپیز اور فلاور پاور کا دور دورہ تھا، ساتھ ہی اس زمانہ میں ٹیکنولوجی کے شعبہ میں زبردست ترقی ہوئی تھی لیکن عالمی کساد بازاری کی وجہ سے معیشت تیزی سے ابتری کی طرف پھسلتی نظر آتی تھی جس کی وجہ سے پاونڈ اسٹرلنگ کی شرح قیمت میں تخفیف کرنی پڑی جس نےنفسیاتی طور پر ایک قیامت ڈھادی- نتیجہ یہ کہ سن ستر کے عام انتخابات میں عوام نے ولسن کو مسترد کردیا اور ٹوری پارٹی کے سربراہ ایڈورڈ ہیتھ نے وزارت اعظمی سنبھالی- ایڈورڈ ہیتھ نے ٹوری پارٹی کی روایتی پالیسی سے ذرا ہٹ کر اپنی ڈگر اختیار کی جس کی بناء پر مارگریٹ تھیچر اور دائیں بازو کے ٹوری رہنماوں نے اندر ہی اندر وزیر اعظم ہیتھ کی بیخ کنی شروع کردی- نتیجہ یہ کہ پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی اور سن چوہتر میں ولسن نے ایڈورڈ ہیتھ کو سیاسی طور پر پچھاڑ دیا- لیکن انتخابی جیت کے کچھ عرصہ بعد ہیرلڈ ولسن نے اچانک وزارت اعظمی سے استعفی دے دیا اور جیمس کیلہن وزارت اعظمی پر فائز ہوئے- اٹھارہ سال تک اقتدار سے محرومی جیمس کیلہن کا دور پرنہایت پر آشوب تھا- ایک طرف اقتصادی بحران نے ملک کو گھیرلیا تھا- اور بین الاقوامی قرضہ کا بوجھ برابر بڑھ رہا تھا اسی کے ساتھ لیبر حکومت ٹریڈ یونینوں سے معرکہ آراء جاری تھی نتیجہ یہ کہ یکے بعد دیگرے ہڑتالوں کی وجہ سے ملک کی زندگی مفلوج ہو گئی اور معیشت ابتر- ان حالات میں انیس سو اناسی کے انتخابات میں مارگریٹ تھیچرکی قیادت میں ٹوری پارٹی نے فتح کے جھنڈے لہرائے- مارگریٹ تھیچر نے ان انتخابات میں نسلی تعصب کو چھوتا ہوا ، تارکین وطن کا مسلہ اٹھایا تھا اور اس بات پر شور مچایا تھا کہ بقول ان کے برطانیہ تارکین وطن کے سیلاب میں غرق ہوتا جارہا ہے- اب اسی انداز سے موجودہ انتخابات میں ٹوری سربراہ مائیکل ہاورڈ برطانیہ میں سیاسی پناہ کے خواستگاروں ’ سیلاب‘ کا مسلہ اٹھا رہے ہیں- بہرحال مارگریٹ تھیچر کا دور اقتدار بہت طویل رہا جس نے پورے برطانیہ کا نقشہ ہی بدل دیا- وہ فلاحی مملکت جس کی بنیاد کلیمنٹ اٹیلی نے سن پینتالیس میں رکھی تھی اسے مارگریٹ تھیچر نے مسمار کر دیا اور اس پر سرمایہ دارانہ نظام کا قلعہ تعمیر کیا- اٹھارہ سال کےاس دور میں ٹوری پارٹی نے چار انتخابات جیتے- اور اس دوران لیبر پارٹی کے تین قائد بدلے- کیلہن کے بعد سب سے پہلے بائیں بازو کے رہنما مائیکل فٹ پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے- ان کے زمانہ میں لیبر پارٹی کے چار وزیروں نے جن کا تعلق بائیں بازو سے تھا اور جو چار کا ٹولہ کہلاتے تھے ، پارٹی سے بغاوت کر کے اپنی نئی جماعت سوشل ڈیمو کرٹک پارٹی قائم کی- سن انیس سو تیراسی میں جب مائیکل فٹ کی قیادت میں پارٹی انتخابات ہار گئی تو نیل کنک پارٹی کے سربراہ بنے- نیل کنک نے پارٹی کو عوام میں مقبول بنانے اور انتخابات جیتنے کے لئے پارٹی کے بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے خلاف لڑائی لڑی- لیکن انتخابات میں انہوں نے اپنی مہم کا انداز امریکا کی طرح صدارتی مہم کے سے تام جھام کا رکھا جسے عام لوگوں نے بالکل پسند نہیں کیا کیونکہ یہ انداز ان کے لئے اجنبی تھا- نتیجہ یہ کہ نیل کنک، ٹوری رہنما جان میجر جیسی معمولی شخصیت سے ہار گئے- نیل کنک کے بعد پارٹی نے جان اسمتھ کو اپنا قائد منتخب کیا جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ پارٹی کو فتح سے ہمکنار کرانے میں کامیاب رہیں گے اور نہایت موثر وزیر اعظم ثابت ہوں گے لیکن انیس سو چورانوے میں وہ اچانک انتقال کر گئے- جان اسمتھ کے انتقال کے بعد ٹونی بلئیر پارٹی کے سربراہ چنے گئے جنہوں نے نہ صرف پارٹی کے بائیں بازو کو کچل کر رکھ دیا بلکہ پارٹی کے سوشلسٹ نظریہ کو بھی کھلم کھلا ترک کر دیا یہاں تک کہ صنعتوں کو قومیانے کا پیمان بھی انہوں نے تار تار کردیا- نئی سیاست نئی لیبر پارٹی ٹونی بلیر نے لیبر پارٹی کی سوشلسٹ شبیہ یکسر بدلنے کے لئے ’نئی سیاست‘ کا نعرہ بلند کیا اور پارٹی کو نئی لیبر پارٹی کہلانا شروع کیا- ٹونی بلییر اور ان کے ساتھیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ لیبر پارٹی اپنی سوشلسٹ پالیسیوں کی وجہ پچھلے ایک سو برس میں صرف تئیس برس اقتدار میں رہی ہے اور جب تک پارٹی کو نئی شبیہ نہ دی جائے اسے انتخابات میں فتح حاصل نہیں ہو سکتی- ٹونی بلئیر نےلگا تارپچھلے دو انتخابات بھاری اکثریت سے جیت کر اپنی بات سچ ثابت کر دی ہے- ٹونی بلییر اب تیسری معیاد کے لئے انتخاب لڑ رہے ہیں اور اگر وہ ان انتخابات میں فتح مند رہے تو وہ بلا شبہ مارگریٹ تھیچر کے ہم پلہ ہو جائیں گے اور اگر انہوں نے انتحابات میں جیت کے بعد جلد ہی قیادت اپنے وزیر خارجہ گورڈن براؤن کے حوالہ نہ کر دی تو وہ مارگریٹ تھیچر کے گیارہ سالہ دور کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||