برطانیہ: انتخابی مہم پر ایک نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پانچ مئی کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ رائے شماری کے جائزوں کے مطابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جماعت لیبر پارٹی کامیابی یقینی ہے۔ حزب اختلاف کنزرویٹِو پارٹی نے غیرقانونی تارکین وطن اور لِبرل ڈیموکریٹس نے عراق جیسے معاملات پر مہم چلائی ہے۔ نام: جیری ہیرس، عمر: باون سال، مقام: گلاسگو ’’انتخابی مہم آدھی ختم ہوچکی ہے۔ کافی مایوسی ہوئی۔ ایسے حقیقی مسائل کی تلاش جن کی وجہ سے میں کسی جماعت کے لئے ووٹ دینے کو تیار ہوجاتا ویسے ہی ہے جیسے عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش! میں تذبب کا شکار ووٹر (undecided voter) ہوں۔ میں امید کررہا تھا کہ سیاست دان مجھے راضی کرنے کے لئے اپنے موقف اور پالیسیوں کے بارے میں دل جان سے بحث کریں گے۔ میں نے میڈیا میں پڑھا تھا کہ سیاست دان میرے جیسے تذبب کے شکار (undecided voter) ووٹروں کو ’گولڈن ووٹ‘ تصور کرتے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ہمارے سیاست دان جن پالیسیوں پر بات کررہے ہیں ان میں دم نہیں۔ کہیں ایسا صرف میرے ساتھ ہی تو نہیں؟ کیا سیاست دانوں کے ساتھ بھی ایسا ہے؟ میں ان کے انتخابی منشور کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اندر جوش و خروش نہیں ہے۔ یہ شاید اس لئے ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی منشور وقت ضائع کرنے کے برابر ہیں۔ ہم بھی تو ان سے امید نہیں کرتے کہ وہ اپنے وعدے پورا کریں گے۔ میں نے امید کی تھی کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت میں لیبر پارٹی کے پرفارمنس پر حملہ بول دیں گیں۔ لیکن کنزرویٹو اور لِبرل ڈیموکریٹس بھی لیبر کی طرح ہی کوئی پرجوش مہم نہیں چلارہے۔ ٹونی بلیئر لیبر پارٹی کے لئے ایک کمزوری ہیں لیکن حزب اختلاف کے رہنما لیبر کی اس کمزوری کا فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں۔ حال ہی میں کار بنانے والی کمپنی ایم جی روور بند ہوگئی، ملازمین بےروزگار ہوئے، حکومت نے مؤثر کردار نہیں ادا کیا،۔۔۔۔ پھر بھی حزب اختلاف حکومت کو چیلنج نہیں کرپائی ہے۔۔۔۔‘‘ نام: ایوب خان، عمر: پینتالیس سال، مقام: بیٹلی، ویسٹ یورکشائر ’’تمام بڑی جماعتوں کے انتخابی مہم کو دیکھنے کے بعد میں ایک تذبب کے شکار ووٹر (undecided voter) کی حیثیت سے چارلس کینیڈی اور لِبرل ڈیموکریٹس کے اخلاقی انتخابی مہم سے متاثر ہوا۔ یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ ایک جماعت اپنی پالیسیوں پر زیادہ روشنی ڈال رہی ہے۔ جبکہ لیبر اور ٹوری آپس میں لڑرہے ہیں اور ایک دوسرے کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے اس میں اپنا اتنا وقت ضائع کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو بھی صحیح طریقے سے واضح طور پر پیش نہیں کرسکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹوریز (کنزریٹِو) امیگریشن (غیرقانونی تارکین وطن) کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے حقیقت میں فکرمند ہیں۔ پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ وہ عوام کے خدشات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیبر پارٹی کی شناختی کارڈ بنانے کی پالیسی پر میرے خیال میں کافی پیسہ صرف ہوگا اور یہ پالیسی کارآمد نہیں ہوگی۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ لیبر اور ٹوری جماعتوں نے دہشت گردی مخالف جنگ کو انتخابی ایشو نہیں بنایا ہے۔ کیا ہمیں اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ یا کیا وہ ایسے خطرات کی بات اس لئے نہیں کرتےکہ ہم ووٹِنگ کے دن گھر بیٹھے نہ رہ جائیں؟ بلیئر اور کنزرویٹِو پارٹی کے لیڈر مائیکل ہاورڈ نے جو منتخب شدہ ووٹروں کے سامنے تقاریر کی ہیں ان سے عوام اکتاچکے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ اپنے مخالفین کے علاقے میں بھی جاکر بات کریں جہاں مجھے یقین ہے کہ عوام انہیں سبق سکھادیں گے۔‘‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||