برطانوی پارلیمان کی 790 سالہ تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پارلیمانی نظام، عوام کی جدوجہد کا ثمر نہیں ہے بلکہ سات سو نوے سال پہلے بادشاہ اور امراء (بیرنس ) کے درمیان کشمکش، معرکہ آرائی اور خانہ جنگی کی دین ہےل۔ سن بارہ سو پندرہ میں بادشاہ جان کے ظلم وستم اور استبداد کے خلاف جاگیرداروں اور امراء نے علم بغاوت بلند کیا تھا اور لندن پر قبضہ کر لیا تھا- نتیجہ یہ کہ بادشاہ جان کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے اور اسے اس تاریخی عہد نامہ پر اپنی مہر ثبت کرنی پڑی جسے میگنا کارٹا یعنی عظیم منشور کہا جاتا ہے- اس منشور میں عوام کی آزادی اور ان کے حقوق کو تسلیم کرنے کا پیمان کیا گیا تھا اور بادشاہ جان نےنہ صرف خود بلکہ اس ملک میں آنے والے تمام فرماں رواؤں کو قانون کی حکمرانی کاتابع بنا دیا۔ یہ برطانیہ کی پہلی بنیادی آئینی دستاویز تھی اس کے بعد نہ تو کبھی کوئی تحریری آئین مرتب ہوا اور نہ اس کے لئے تحریک چلائی۔ پہلی پارلیمنٹ بادشاہ جان کے خلاف امراء کی اس بغاوت کے سرخیل، سمون ڈی مونٹ فورڈ تھے اور انہوں نے ہی بادشاہ کے خلاف امراء اورملک کے سائیرس یعنی اضلاع کے نائیٹس کی پارلیمنٹ طلب کی تھی، جو اس ملک کی پہلی پارلیمنٹ تھی لیکن دراصل باقاعدہ پارلیمنٹ ساٹھ سال بعد خود بادشاہ ایڈورڈ اول نے سن بارہ سو پچھتر میں طلب کی جس کا مقصد محصولات میں اضافہ کرنا اور فرماں روا کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنا تھا- یہی وجہ تھی کہ اس پارلیمنٹ کے لئے ملک میں پہلی بار عوام کے نمائندوں کا انتخاب ہوا۔ ان نمائندوں کو شائیرس ( دیہی اضلاع) میں رہنے والوں اور شہروں میں رہنے والوں نے منتخب کیا تھا۔ یہ نمائندے جب لندن آئے تو انہیں پانچ الگ الگ گروہوں میں تقسیم کردیاگیا۔ ایک گروہ میں کلیسا کے بشپس اور راہب تھےدوسرے گروہ میں امراء، روساء اور جاگیردار تھے، تیسرا گروہ ثانوی درجے کے پادریوں پرمشتمل تھا اورچوتھے گروہ میں دیہی اضلاع شائیرس کے نائیٹس تھے جبکہ پانچواں گروہ عام شہریوں پر مشتمل تھا۔ ان گروہوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے جن میں بادشاہ نے یہ بات منوا لی کہ بادشاہ کو تمام منقولہ املاک پراس کا پندرھواں حصہ ٹیکس کی صورت میں وصول کرنے کا اختیار ہے اور اسے برآمد کئے جانے والے اُون پر بھی محصول وصول کرنے کا حق ہے۔ اس فیصلہ کے فورا بعد بادشاہ نے بشپس ، راہبوں، ارلس اور بیرونس کے علاوہ دوسرے تمام گروپس کے نمائندوں کو اپنے اپنے علاقوں میں ٹیکس جمع کرنے کے لئے روانہ کر دیا اور باقی ماندہ نمائندوں کو نئے قوانین مرتب کرنے اور نظم و نسق کے بارے میں صلاح مشورے پر مامور کردیا ان کے اس ادارے کو دارلامراء کا نام دیا گیا۔ باقی ماندہ نمائندوں کا ادارہ دارالعوام کہلایا- یوں پارلیمنٹ کے دو ایوانوں کی بنیاد پڑی۔ لیکن اس زمانہ میں دارلامراء کو دارالعوام سے کہیں زیادہ اختیارات اور بالا دستی حاصل تھی کیونکہ یہ صاحبِ ثروت اور مالدار اور باثر افراد کا ایوان تھا۔ چودھویں صدی میں ایڈورڈ سوم کے زمانے میں پہلی بار یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ کوئی ٹیکس اور محصول پالیمنٹ کی اجازت کے بغیر عائد نہیں کیا جائے گا۔ سولہویں صدی میں ہنری پنجم کے دور میں دارلامراء اور دارالعوام کو مساوی حقوق حاصل ہوئے لیکن سترویں صدی میں پارلیمنٹ اور فرماں روا کے درمیان کشیدگی نے بڑھتے بڑھتے معرکہ آرائی اور پھر خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی اور آخر کار فرماں روا کو شکست ہوئی اور شاہ چارلس اول کاسر قلم کردیا گیا- پارلیمنٹ کی بالادستی خانہ جنگی کے بعد سن سولہ سو ساٹھ میں جب بادشاہت بحال ہوئی تو اسی وقت پارلیمنٹ کی بالادستی بھی تسلیم کی گئی اور سن سولہ سو اٹھاسی میں بل آف رائیٹس قانون حقوق کی منظوری انگلستان میں جمہوری انقلاب کی نوید لائی۔ سن سترہ سو سات میں انگلستان سے سکاٹ لینڈ کے اتحاد اور سن اٹھارہ سو ایک میں آئیرلنڈ کے اتحاد کےساتھ پہلی بار انگلستان کی پارلیمنٹ، برطانوی پارلیمنٹ کہلائی۔ اسی مناسبت سے دارالعوام میں نشستوں کی تعداد پانچ سو اٹھاون سے بڑھا کر چھ سو اٹھاون کر دی گئی۔ ووٹ کا حق محدود انیسویں صدی تک برطانیہ میں ووٹ کا حق صرف صاحبِ ثروت طبقے تک محدود تھا۔ عام شہریوں کو حق رائے دہی حاصل نہ تھا۔ صرف زمین اور جائیداد کے مالکوں کو ووٹ دینے کا حق تھا اور وہ بھی صرف اکیس سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو۔ عورتوں کو ووٹ کا حق نہیں تھا- اس وجہ سے اس زمانہ میں ایک سو افراد میں سے صرف تین افراد کو ووٹ دینے کا حق تھا۔ اٹھارہ سو بہتّر میں پہلی بار خفیہ بیلٹ کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اور آخرکار سن انیس سو اٹھارہ میں اکیس سال کے تمام مردوں کو حق رائے دہی دیا گیا لیکن عورتوں کا حق رائے دہی پھر بھی محدود رہا۔ صرف تیس سال سے زیادہ کی عمر کی عورتوں کو ووٹ کا حق ملا اور انہیں پارلیمنٹ کا انتخاب لڑنے کی بھی اجازت حاصل ہوئی۔ کوئی دس سال بعد خواتین کی زبردست جدوجہد کے نتیجہ میں انیس سو اٹھائیس میں عورتوں کو مردوں کے مساوی حق رائےدہی ملا۔ اور انیس سو انہتر میں ووٹ دینے کی عمر کم کر کے اٹھارہ سال کر دی گئی۔ سولہویں صدی میں بادشاہ نے ویسٹ منسٹر کے محل کے سنیٹ سٹیفن گرجا گھر میں پارلیمنٹ کے اجلاس کی اجازت دی تھی جب سے یہی پارلیمنٹ کا ایوان بنا ہوا ہے۔ سن اٹھارہ سو چونتیس میں ویسٹ منسٹر محل کا بیشتر حصہ جل گیا لیکن اس کے بعد جب محل دوبارہ تعمیر ہوا تو دونوں ایوان یہیں جمے رہے۔ ایوان بالا میں بادشاہ کا تخت نصب کیا گیا جہاں سے فرماں روا پارلیمنٹ کے اجلاس کے افتتاح کے وقت خطاب کرتا ہے۔ یوں اب اس پورے محل پر پارلیمنٹ کا قبضہ ہے۔ دارالعوام کے مقابلہ میں دارالامراء غیر منتخب ادارہ ہے جس کے اراکین میں انگلستان کے کلیسا کے چھبیس اعلیٰ رہنما رکن ہیں جو روحانی لارڈز کہلاتے ہیں۔ دارلامراء ملک کی اعلیٰ ترین اپیل عدالت ہے۔ اسی مناسبت سےاس ایوان میں بارہ لاء لارڈز ہیں جو اپیلوں کی سماعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ سات سو نامزد حیاتی اور موروثی لارڈز اس ایوان کے رکن ہیں جنہیں ٹیمپورل لارڈز کہا جاتا ہے۔ انیس سو ستانوے میں جب ٹونی بلئیر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے انتخاب جیتا توپارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دارلامراء کو مکمل طور پر دوسرا منتخب ایوان بنائے گی۔ لیکن اقتدار میں آنے کے فورا بعد ٹونی بلئیر نے اپنا ذہن بدل دیا اور یہ تجویز پیش کی کہ اس ایوان میں تمام موروثی لارڈز کی رکنیت ختم کر دی جائے اور ایوان صرف نامزد اراکین پرمشتمل ہو۔ اس تجویز کی بنیاد پر ایک مسودہ قانون دارالامرء نے تو منظور کر لیا لیکن دارالعوام نے اسے مسترد کر دیا اور خود ٹونی بلئیر کے کئی وزیروں نے اس مسودہ قانون کے خاف ووٹ دیا۔ اصلاحات کا مطالبہ بلا شبہ برطانوی پارلیمنٹ اپنی سات سو نوے سال کی طویل تایخ اور ارتقاء کی بدولت پوری دنیا کی پارلیمانوں کی مدر پارلیمان کہلانے کی حق دار ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر کسی تحریری آئین کے یہ ادارہ جمہوری روایات کا مضبوط قلعہ رہا ہے لیکن اس ملک میں ان لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو اس ادارے میں نئی اصلاحات کے خواہاں ہیں۔ ان میں لبرل ڈیموکریٹس کی قیادت میں وہ عنصر نمایاں ہے جو یہ چاہتا ہے کہ عوام کی رائے کو بھر پور نمائندگی بخشنے کے لئے متناسب نمائندگی کا اصول اپنایا جائے۔ اس عنصر کا کہنا ہے کہ یورپ میں بیشتر ملکوں میں اب متناسب نمائندگی کا اصول اختیار کر لیا گیا ہے اور یوں برطانیہ سیاسی طور پر پسماندہ نظر آتا ہے۔ پھر یہ رائے بھی جڑیں پکڑتی جا رہی ہے کہ ملک کے اہم مسائل پر عوام کے منتخب نمائندو ں کے بجائے ملک کے تمام عوام کو ریفرنڈم کے ذریعہ رائے دینے کا حق دیا جائے۔ ایک حد تک یہ اصول عملی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یورپی مشترکہ منڈی میں شمولیت پر ملک میں ریفرنڈم ہوا تھا اور اب یورپی اتحاد کے آئین اور یور کرنسی اپنانے پر بھی ریفرنڈم ہو گا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر عراق کی جنگ میں جانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے ٹونی بلیئر اس مسئلے پر ریفرنڈم کرالیتے تو وہ آج اس سیاسی مشکل میں نہ ہوتے جس کی بدولت انہیں پانچ مئی کے انتخاب میں ہارنے کا خدشہ لاحق ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||