عراقی پارلیمنٹ میں بدنظمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے نو منتخب پارلیمان کا دوسرا اجلاس سپیکر اور نائب سپیکروں کے لیے کسی انتخاب کے بغیر آئندہ اتوار تک ملتوی کر دیا گیا۔ پارلیمان کے سپیکر کے عہدے کے لیے غازی الیاور کو نامزد کیا گیا تھا، جو اس وقت عراق کے عبوری صدر ہیں۔ تاہم انہوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ غازی الیاور کے ترجمان نے گزشتہ روز ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اس پیشکش کو قبول نہیں کریں گے۔ پیر کو جب اجلاس شروع ہوا تو ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی اور عبوری صدر غازی الیاور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ارکان اسمبلی سپیکر کا عہدہ کسی سنی کو دینا چاہتے ہیں اور صدر غازی الیاور سنی ہیں اور انہیں عبوری حکومت میں بھی سنیوں کا نمائندہ تصر کیا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں تلخ کلامی کے فوران ارکان ایک دوسرے سے یے سوال بھی کرتے رہے کہ وہ ان لوگوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں جنہوں نے مزاحمت کاروں کی طرف سے زندگی کے خطرے کے باوجود ووٹ ڈالے۔ واضح رہے کہ مزاحمت کاروں نے دھمکی دی تھی کہ جو لوگ ووٹ ڈالنے جائیں ان پر حملے کیے جائیں گے۔ عراقی پارلیمان کے اجلاس کو ٹی وی کے ذریعے براہِ راست دکھایا جانا تھا لیکن ہنگامے کے باعث نشریات روک دی گئیں ۔ عراقی قومی اسمبلی کا جنوری کے بعد دوسرا اجلاس تھا جنوی کے اجلاس میں ارکان کے حلف برداری ہوئی تھی۔ پیر کے اجلاس کو افتتاحی سیشن کو دو بار ملتوی کیا گیا تاکہ کسی اتفاقِ رائے پر پہنچا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||