عراق: سنی علاقے میں تشدد کی لہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر فلوجہ میں امریکی فوجوں کے آپریشن کے بعد ملک کے سنی علاقے میں تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور امریکی فوجوں پر حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ بغداد کے شمال میں واقع بیجی میں ایک خود کش حملہ آور نے امریکی فوجی قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس سے چودہ عراقی شہری ہلاک ہو گئے۔ رمادی کے علاقے میں امریکی فوجیوں اور عراقی مزاحمت کارروں میں مزید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران فلوجہ پر امریکی فضائی حملے حملے جاری ہیں۔ عراق میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں اس کے آپریشن کے مقاصد تقریباً پورے ہو چکے ہیں اور اس نےشہر کو مزاحمت کارروں سے پاک کر دیا ہے۔ مزید برآں عراق میں تیس پولیس والوں کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ اردن میں تربیت حاصل کرنے کے بعد لوٹ رہے تھے۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان پولیس والوں کو اردن کی سرحد کے قریب واقع رطبہ نامی قصبے سے بیس اغواکاروں سے ہونے والی ایک جھڑپ کے بعد اغوا کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||