’وردی: پارلیمنٹ کا فیصلہ مانیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل ڈان میکنن نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی وردی کے متعلق پاکستان کی پارلیمینٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اس کا احترام کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے ہمراہ دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ ڈان میکنن کا کہنا تھا کہ دولت مشترکہ کے اقدامات کا مقصد پاکستان میں پارلیمان کی بالادستی تھا اور دو عہدے رکھنے کے متعلق صدر جنرل پرویز مشرف نے پارلیمان سے ہی رجوع کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے حق میں اگر پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا تو وہ جمہوری فیصلہ تصور ہوگا، کیونکہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنے فوجی عہدے کی میعاد کسی انتظامی حکم سے نہیں بلکہ پارلیمان کی منظوری سے حاصل کر رہے ہیں، جسے غیر جمہوری نہیں کہا جا سکتا۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد اس لیے نہیں آئے کہ وہ صدر مشرف کے دو عہدوں کے متعلق کوئی فیصلہ جاری کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دولت مشترکہ کے وزارتی گروپ کو طے کرنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ فیصلہ تنظیم کے جمہوری معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ سن ننانوے میں جب صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تھا اس وقت سے پاکستان کی دولت مشترکہ کی رکنیت فوجی حکومت قائم ہونے کی بنیاد پر معطل کی گئی تھی۔ چار سال بعد گزشتہ مئی میں پاکستان کی رکنیت کی بحالی کے بعد سے ڈان میکنن کا یہ پہلا دورہ ہے۔ دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل آج کل ایشیا کے دورے پر ہیں اور اپنے دورے کا آغاز انہوں نے پاکستان سے کیا ہے،انہیں بھارت، مالدیپ اور سنگاپور بھی جانا ہے۔ وہ جمعہ کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔
دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کی رکنیت بحال ہونے کے بعد تنظیم کے اندر اسکے فعال کردار کو یقینی بنانا ہے۔ دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل نے بالواسطہ طور پر صدر کے فوجی وردی میں رہنے کی حمایت ایسے موقعے پر کی ہے جب پاکستان کی پارلیمینٹ کے اندر نہ صرف سیاسی اور مذہبی جماعتیں کئی روز سے فوجی وردی کے متعلق مسلسل احتجاج کر رہی ہیں بلکہ حزب اختلاف صدر کے دو عہدوں کے متعلق حکومت کے قومی اسمبلی سے منظور کرائے گئے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تحریک چلانے کے اعلانات بھی کر رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے دولت مشترکہ میں پاکستان کی ہر سطح پر دوبارہ نمائندگی سمیت کئی معاملات پر کھل کر بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دولت مشترکہ کے آٹھ بانی اراکین میں سے ہے اور تنظیم میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف سے مسٹر ڈان میکنن کی ملاقات کے بارے میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کو تعلیم، صحت اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں میں تعاون اور تربیت کی پیشکش کی ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||