دولت مشترکہ: بحالی پر غور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کے روز لندن میں شروع ہونے والے دولت مشترکہ کے وزراءِ خارجہ کے دو روزہ اجلاس میں پاکستان کی رکنیت بحال کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس اجلاس میں دولت مشترکہ کا وزارتی ایکشن گروپ ان اقدامات پر غور کرے گا جو حکومت پاکستان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے کیے ہیں۔ دولت مشترکہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے کئے گئے ایسے اقدامات کوہی ملک کی رکنیت کی بحالی کی بنیاد بنائے گا۔ اس بارے میں برطانیہ کے لیے پاکستان کی ہائی کمشنر ملیحہ لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان وہ تمام شرائط پوری کرچکا ہے جو دولت مشترکہ نے اس کی رکنیت کی بحالی کے لیے گزشتہ برس رکھی تھیں۔ ’شرائط یہ تھیں کہ ایل ایف او کا ایشو پارلیمان کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اس پر معاہدہ ہونا چاہیے۔ یہ شرط پوری ہوئے پانچ ماہ ہوچکے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی رکنیت کی بحالی حکومت اور اس سے باہر سب ہی کے لیے باعث اطمینان ہونا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے باوجود ملک کے دو سابق وزراء اعظم ملک بدر ہیں۔ انہیں واپس نہیں آنے دیا جاتا اور اگر آئیں بھی تو واپس بھیج دیا جاتا ہے، تو ملیحہ لودھی نے جواب دیا ’یہ معاملہ رکنیت کی بحالی کے لیے شرط نہیں تھا۔ اور اگر اب ایسے معاملات اٹھائے گئے تو ہم انہیں نئی شرائط تصور کریں گے‘۔ دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت اس وقت معطل کر دی تھی جب پانچ سال پہلے صدر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر کے اقتدار سنبھالا تھا۔ مگر اب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے وہ تمام اقدامات کر لیے ہیں جو اس کی رکنیت کی بحالی کے لئے ضروری قرار دیئے گئے تھے۔ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے اور دولت مشترکہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی رکنیت معطل رکھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||