| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولت مشترکہ: پاکستان کی معطلی برقرار؟
دولت مشترکہ کے اجلاس کے مندوبین کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی رکنیت معطل رہے گی۔ اگرچہ پاکستان کی معطلی کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ اجلاس کے اختتام پر کیا جائے گا تاہم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم ہیلن کلارک کے مطابق پاکستان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک ملک میں جمہوری اور عدالتی اصلاحات سے متعلق دولت مشترکہ کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے۔ ہیلن کلارک نے کہا کہ دولت مشترکہ اسوقت تک پاکستان کے لئے اپنے دروازے نہیں کھولے گی جب تک جنرل مشرف بری فوج کے سربراہ کا عہدہ نہیں چھوڑتے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ستمبر میں ہونے والی نظر ثانی کی روشنی میں عدالتی اصلاحات کا مطالبہ پورا نہیں کیا ہے۔ ’کیونکہ لیگل فریم ورک آرڈر کے مسئلے کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور معاملات وہی رکے ہوئے ہیں جہاں ستمبر میں تھے، اس لئے فیصلہ بھی وہی ہوگا جو ستمبر کے وقت کیا گیا تھا یعنی پاکستان کی معطلی برقرار رہے گی۔‘ کینیڈا کے وزیر ژاں کخیتییں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ہے لیکن پاکستان میں جمہوریت کو صحیح حالت میں بحال نہیں کیا سکا۔ دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت سن انیس سو ننانوے میں اس وقت معطل کی گئی تھی جب جنرل مشرف کی سربراہی میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس سے پہلے دولت مشترکہ کے سیکریٹری ڈان میکینون نے اس وقت پاکستان کے لئے امید افزاء اشارہ دیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان صحیح سمت میں بڑھ رہا ہے۔ دولت مشترکہ سیکریٹری کے اس بیان کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا تھا کہ پاکستان کو اس بیان سے بہت حوصلہ ملا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کو دولت مشترکہ اخراج کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چند مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کی وجہ سے اسے دولت مشترکہ میں دوبارہ دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||