BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 December, 2003, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دولت مشترکہ کا فیصلہ غلط ہے‘

صدر مشرف
صدر پرویز مشرف نے لاہور میں ایف سی کالج کی تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت کی

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ دولت مشترکہ کا پاکستان کی رکنیت بحال نہ کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔

ہفتے کے روز جنرل مشرف نے لاہور میں ایف سی کالج کے تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کی جس میں انھوں نے کہا کہ دولت مشترکہ کا پاکستان کی رکنیت بحال نہ کرنا غط بات ہے اور اگر ایسا دو ملکوں کی وجہ سے کیا جارہا ہے تو یہ اور بھی غلط ہے۔

جنرل مشرف نے کہا کہ دولت مشترکہ کی رکنیت بحال نہ ہونے سے پاکستان کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اتنا چھوٹا ملک نہیں کہ دولت مشترکہ کی رکنیت کے بغیر نہ رہ سکے۔

جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان دولت مشترکہ کا بانی رکن ہے اور اس کی رکنیت بحال کرنے سے دولت مشترکہ کے اپنے وقار اور عزت میں اضافہ ہوگا۔

ایک سوال پر کہ وہ ہندوستان کو رعائتیں دے رہے ہیں اور ہندوستان لائن آف کنٹرول پر باڑ لگا رہا ہے انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملہ پر شدید احتجاج کیا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ہندوستان لائن آف کنٹرول سے پانچ کلومیٹر اندر کی طرف باڑ لگا رہا ہے جو ہمیں نظر نہیں آرہی۔

صدر مشرف نے کہا کہ اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ دونوں ملک مذاکرات کی طرف بڑھ رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر حل کی طرف جا رہا ہے۔

ایک سوال پر کہ ہندوستان کے وزیراعظم واجپائی پاکستان آرہے ہیں تو کیا وہ ان سے ملاقات کریں گے تو انھوں نے کہا انھیں معلوم نہیں کہ ملاقات ہوگی یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن خدانخواستہ ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے کہ ہم ملاقات کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اگر ہندوستان کے وزیراعظم چاہیں گے تو ملاقات ہوجاۓ گی اگر وہ نہیں چاہیں گے تو نہیں ہوگی۔

متحدہ مجلس عمل کے حوالہ سے سوال کے جواب میں جنرل مشرف نے کہا کہ وہ مذاکرات سے پُر امید ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مجلس عمل ان کو اعتماد کا ووٹ دینے پر ہچکچا رہی تو انھوں نے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ سب معاملات طے ہوجائیں گے۔

مجلس عمل سے بات چیت میں تعطل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کو خود مانیٹر کرہے ہیں اور معمولی ایشوز رہ گۓ ہیں اور وہ بھی حل ہوجائیں گے۔

پارلیمان کی کارکردگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ قوم کے سامنے ہے اور اس پر آپ تبصرہ کریں۔

ایل ایف او کو پارلیمان میں پیش کیے جانے کے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا جو بھی آئینی بل ہے یا آئینی معاملات ہیں یہ اسمبلی میں ہی آئیں گے اور سب کچھ پارلیمینٹ کو ہی کرنا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد