BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2003, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پارلیمنٹ سے مطمئن نہیں‘
میر ظفراللہ جمالی

وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی ایک سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم جمالی نے کہا کہ حزب اختلاف کے منفی رویے سے پورا جمہوری نظام متاثر ہوا ہے۔

مسٹر جمالی نے کہا کہ حزب اختلاف کے احتجاج اور غیرذمہ دارانہ طرز عمل کے باوجود پارلیمنٹ اپنی مدد پوری کرے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانا حکومت اور حزب اختلاف کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

’اب یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا تجزیہ کریں کہ کون اسمبلی کو چلانا چاہتا ہے اور کون پارلیمنٹ کے کام میں روڑے اٹکا رہا ہے۔‘

حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں وزیر اعظم جمالی نے کہا کہ بات چیت کے عمل کو ختم نہیں کیا گیا ہے۔

’مذاکرات کا نیا دور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی وطن واپسی پر شروع کیا جائے گا۔‘

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گی۔

آئندہ جنوری میں ہونے والی سارک کانفرنس کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کانفرنس کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں جلد توسیع کی جائے گی۔

وفاقی وزیر مواصلات احمد علی کے استعفے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے مجھے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے لیکن میں نے انہیں کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر کیس جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد