BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہلک ہتھیاروں کا قضیہ پاک
مہلک ہتھیاروں کی تلاش ترک کردی گئی ہے
مہلک ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے
اٹھارہ ماہ تک جاری عراق کے مبینہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کا کام بالاخر ترک کر دیا گیا۔

مہلک ہتھیاروں کے امریکی معائنہ کار چارلس ڈیلفر کا کہنا ہے کہ جہاں تک ممکن تھا عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کا کام کیا گیا۔

ڈیلفر نے عراق پر امریکہ حملے سے قبل ان مبینہ ہتھیاروں کے سرکاری سطح پر شام منتقل کیے جانے کے امکان کو بھی رد کر دیا۔

امریکی سی آئی اے کے ایک مشیر نے گزشتہ سال کہا تھا کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کو کوئی ذخیرہ اور ماضی قریب میں ان کی تیاری کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

تاہم ڈیلفر نے کہا ہے کہ صدام حسین یہ ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اٹھارہ ماہ تک وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان سے متعلق حراست میں لیے گئے لوگوں سے تفتیش کے بعد ان ہتھیاروں کا کوئی نشان نہیں ملا ہے اور یہ کام بند کر دیا گیا ہے۔

ڈیلفر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق میں ایسے ماہرین موجود ہیں جن کی خدمات ہمسایہ ممالک یا دہشت گرد گروپ حاصل کرکے ایسے ہتھیار بناسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان کم ہے لیکن اس خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اس ضمنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بہت ہی معمولی کیمیائی ہتھیار سے بہت زیادہ تباہی پھیلائی جاسکتی ہے جو کہ انتہائی طاقت ور روائتی ہتھیار کے استعمال سے بھی ممکن نہیں۔

ڈیلفر نے کہا کہ مہلک ہتھیاروں کے بین الاقوامی گروپ کو یقین ہے کہ عراق سے ایسے کوئی ہتھیار یا ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا کسی قسم کا مواد عراق پر حملے سے پہلے شام منتقل نہیں کیا گیا تاہم اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ غیر سرکاری طریقے سے کچھ مواد اِدھر ا ُدھر ہو گیا ہو۔

امریکہ اور برطانیہ نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر سن دوہزار تین میں عراق پر حملہ کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد