بش: قدیر پر تنقید، قذافی کی تعریف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ساتھیوں کی ملی بھگت سے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو پاکستان کے پرانے سیٹریفیوج آلات فروخت کیے اور جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کو منضبط بنانے والے ضابطوں کو سخت بنانے کی ضرورت ہے تا کہ ان ملکوں کو ایسا مواد تیار کرنے سے روکا جا سکے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر اس نیٹ ورک کے سرغنہ تھے جو غیرقانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنے والے نے قائم کیا تھا۔ بش کے بقول ڈاکٹر قدیر نے غیرملکی دورے کرکے اپنی مہارت اور پاکستان کے جوہری راز بھی فروخت کیے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ لیبیا کے صدر قذافی نے وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے اور انہیں امید ہے کہ دوسرے ملک بھی ان کی تقلید کریں گے۔ صدر بش نے الزام لگایا کہ ایران اور شمالی کوریا نے اسی نرمی کا فائدہ اٹھایا ہے اور پرامن مقاصد کے نام پر یورینیم کو افزودہ کیا ہے۔ تاہم اب اسے بند ہونا چاہیے۔ صدر بش نے عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی، آئی اے ای اے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران جیسے ملک جس پر شک کیا جا رہا ہے کہ اس نے ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے اس کمیٹی میں شامل نہیں ہونا چاہیے جو ان ضوابط کا اطلاق کرنے کے لیے ہو۔ صدر بش نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی طریقوں کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی پالیسوں کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر دہرایا کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری ، پھیلاؤ اور استعمال کو روکا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||