| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہتھیاروں سے متعلق غلط بیانی‘
ایک امریکی تحقیقی ادارے نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق اس نے حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ یہ الزام با اثر ادارے کارنیگی اینڈاؤمنٹ کی ایک رپورٹ میں لگایا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں تھے کہ صدام حسین وسیع تباہی والے ہتھیار دہشت گردوں کو دے سکتے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملے کے لئے ان ہتھیاروں کو جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔ دریں اثنا اطلاعات کے مطابق چارسو اراکین پر مشتمل امریکی فوجی ٹیم کو، جسے عراق میں جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش کے لئے بھیجا گیا تھا، واپس بلا لیا گیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ چودہ سو اہلکاروں میں سے چار سو کی اس ٹیم کو میزائل لانچروں کے ڈیپو اور دوسرے ایسے سازو سامان کی تلاش کے لئے تعینات کیا گیا تھا جسے وسیع تباہی والے ہتھیاوں کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا تھا۔ کارنیگی اینڈاؤمنٹ کا کہنا کہ اس نے اپنی رپورٹ کے لئے سینکڑوں دستاویزات کا مطالعہ کیا اور درجنوں ماہرین کے انٹرویو کئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے ’کوئی پختہ شواہد‘ نہیں تھے کہ عراق نے اپنا جوہری پروگرام از سر نو قائم کیا ہے۔ رپورٹ میں مـزید کہاگیا ہے کہ عراق کے جراثیمی ہتھیاروں کے بارے میں اور بھی زیادہ ابہام موجود تھا اور یہ کہ خطرے کو اس بات سے منسلک کیا گیا کہ مستقبل میں کیا بنایا جا سکتا ہے نہ کہ عراق کے پاس در حقیقیت موجود کیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ عراق نے بڑی تعداد میں کیمیائی یا جراثیمی اسلحے کو چھپایا یا منتقل کیا ہو اور امریکہ کو اس کے کوئی بھی آثار نظر نہیں آئے۔ کارنیگی اینڈاؤمنٹ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس دعوے کے حق میں کسی قسم کے ثبوت نہیں تھے کہ عراق اس طرح کے ہتھیار القاعدہ کو منتقل کر سکتا تھا اور کئی شواہد اس کے بالکل برعکس تھے۔‘ رپورٹ میں لکھا گیا ہے ’حکومتی اہلکاروں نے منظم طریقے سے عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں اور بیلِسٹک میزائیل پروگرام کو غلط طریقے سے پیش کیا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||