BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 October, 2003, 22:22 GMT 02:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوئی ہتھیار نہیں ملے‘
ڈیوڈ کے
آئی ایس جی کے سربراہ ڈیوڈ کے

عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار تلاش کرنے کے ذمہ دار سی آئی اے کے اہلکار نے بتایا ہے کہ اب تک ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے ہیں۔

’عراق سروے گروپ‘ یعنی آئی ایس جی کے سربراہ ڈیوڈ کے نامی اس اہلکار نے یہ بات ایک عبوری رپورٹ میں کہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہینوں جاری اس تلاش میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ عراق پر حملے سے قبل صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار موجود تھے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جراثیمی ہیھیار تیار کرنے کے منصوبوں کا کچھ ثبوت ضرور ملا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خفیہ لیبوراٹوریوں کے علاوہ ایک عراقی سائنسدان کے گھر سے خطرناک زہریلہ مادہ بوٹیولِنم ٹوکسن برامد ہوا تھا۔

رپورٹ کا کہنا ہے کے عراق میں ایسے میزائلوں کے بھی پلان ملے ہیں جو اقوام متحدہ کی مقرر کردہ حدود سے زیادہ فاصلہ پار کر سکتے۔ اقوام متحدہ نے میزائلوں کی حد ڈیڑھ سو کلومیٹر مقرر کی تھی جبکہ پلان میں مذکور میزائلوں کی ہزار کلومیٹر تک جانے کی سلاحیت تھی۔

ڈیوڈ کے کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں سے متعلق بہت سی اور چیزیں ملی ہیں جن کو اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں سے چھپایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی بہت کام باقی ہی اور کوئی ہتمی نتجے پر پہنچا نہیں جا سکتا۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں کوئی سنسنی خیز انکشافات شامل نہیں ہیں لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدام حکومت نے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو خفیہ طور جاری رکھے ہوئے تھا تاکہ آئندہ کسی موقع پر اس کو منظم کر کے دوبارہ سے کھڑا کیا جا سکے۔

یہ رپورٹ اس وقت جاری کی گئی ہے جب امریکی کانگریس صدر بش کے اس درخواست پر غور کر رہی ہے کہ عراق اور افغانستان کے لئے ستاسی بِلین ڈالر کی رقم فراہم کی جائے۔

روزنامہ ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق اس میں سے چھ سو ملین ڈالر کی رقم صرف عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش جاری رکھنے کے لئے ہوگا۔

اگر کانگریس نے یہ بجٹ منطور کر لیا تو ائی ایس جی کا عملہ دو سو افراد سے بڑھ کے چودہ سو افراد کر دیا جائے گا یعنی اس میں سات گناہ اضافہ ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد