کیا کیلی نے خود کشی کی تھی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی لاش کا معائنہ کرنے والے پیرا میڈیکل اسٹاف کے دو اہلکاروں نے ان کی موت کے بارے میں مرتب کی گئی سرکاری رپورٹ پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بعد تشکیل دی جانے والی سرکاری، ہٹن انکوائری تاہم پیرا میڈیکل اسٹاف میں شامل دو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کیلی کی لاش کے پاس خون کی جو مقدار پائی گی اس سے لگتا تھا کہ ان کی موت کلائی کے زخم سے خون بہہ جانے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئی ہے۔ ان دونوں افراد نے انکوئری اور تھیمز ویلی پولیس سے اس سلسلے میں بات کی لیکن پولیس نے ڈاکٹر کیلی کی موت کی از سر نو تفتیش کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر کیلی برطانیہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں میں شامل تھے۔ بی بی سی سے نشر ہونے والی ایک متنازعہ خبر کو ان سے منسوب کیے جانے کے بعد انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔
بی بی سی نے اپنی ایک خبر میں یہ دعوی کیا تھا کہ برطانوی حکومت نے عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں رپورٹ میں مبالغہ آرائی سے کام لیا اور اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ طبی عملے میں شامل وینیسا ہنٹ نے آبزرور اخبار کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ بعید از قیاس ہے کہ ڈاکٹر کیلی کلائی پر آنے والے زخم کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ اس بیان کے شائع ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ میں پیدا ہونے والی زبردست دلچسپی کے باعث طبی عملے کے ان دونوں ارکان نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ وینیسا ہنٹ کے ساتھی ڈیو بارٹلیٹ نے کہا کہ ہر کوئی ہٹن انکوائری کی رپورٹ پر حیران ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اگر موت زخم سے واقع ہوئی تھی تو ان کی لاش کے پاس زیادہ خون ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاش اور جائے وقوعہ پر جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ ہٹن رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے اور وہ طبی عملے میں شامل دوسرے لوگوں کی رائے کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ مس ہنٹ نے کہا کہ اگر کوئی دانستہ یا نا دانستہ طور پر اپنی شریان کاٹ لے تو اس صورت میں خون بڑی تیزی سے بہتا ہے۔ عملے کے ان دونوں ارکان کے علاوہ بھی لوگوں نے ہٹن رپورٹ پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم جو اپنے آپ کو کیلی کی موت کا تفتیشی گروپ کہتے ہیں وہ بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ڈاکٹر کیلی کی موت اس زخم سے واقع ہوئی۔ لیکن ڈاکٹر باب وان ہیگن کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کلائی کے زخم کے علاوہ ڈاکٹر کیلی کے موت کے اور بھی تین مختلف عوامل تھے۔ ڈاکٹر وان ہیگن نے کہا کہ ڈاکٹر کیلی کی دل سے آنے والی شریانیوں کی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ رگوں کی بیماری میں مبتلہ تھے اور انہوں نے نشہ آور دواء بھی لی تھی۔ ڈاکٹر کیلی کے ایک دوست اور بی بی سی کے سابق نامہ نگار ٹام میگولڈ نے کہا کہ لاش کے پاس سے خون کا زیادہ مقدار میں نہیں پایا جانا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ ڈاکٹر کیلی نے خود کشی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے دو ارکان کی نیتوں پر شک نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا دو ارکان نے نیک نیتی سے بیان دیا ہےلیکن کیلی نے خود کشی ہی کی تھی۔ مارچ میں اوکسفورڈ شائر کے دل کے امراض کے ماہر نیکولس گارڈینر نے ڈاکٹر کیلی کی موت کی دوبارہ تفتیش کی تھی۔ اس تفتیش سے بھی یہ ہی ثابت ہوا تھا کہ ڈاکٹر کیلی نے خودکشی ہی کی ہے جس کے بعد ان کی موت کے بارے میں ایک بڑی انکوائری کرانے کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ تھیمز پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس تفتیش سے بالکل مطمئن ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||