BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 July, 2004, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خفیہ معلومات ناقص تھیں: بٹلر رپورٹ
عراق میں اتحادی فوج
عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کو حملے کا جواز بنایا گیا تھا
عراق کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں خفیہ معلومات کا جائزہ لینے کے لئے اپنائے گئے طریقہِ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تاہم کمیٹی کے سربراہ لارڈ بٹلر نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اس نوعیت کی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ ان خفیہ معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش گیا ہو یا مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہو۔

ایک سو چھیانوے صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم آئی سکس نے اپنے ذرائع کی اچھی طرح چھان بین نہیں کی اور بعض اوقات سنی سنائی باتوں پر بھروسہ کیا۔

لارڈ بٹلر کے مطابق جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں بغیر تشریح کئے پینتالیس منٹ کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تاہم جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اس وقت کے سربراہ جان سکارلٹ کو مکمل طور پر قصور وار نہیں ٹھہرایا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ اجتماعی ذمہ داری کا معاملہ ہے اور جان سکارلٹ ایم آئی سکس کے سربراہ رہ سکتے ہیں۔

لارڈ بٹلر
بٹلر کیٹی فروری میں قائم کی گئی تھی
لارڈ بٹلر نے ’ناقص‘ خفیہ معلومات اور ان سے اخذ کیے گئے نتائج کے معاملے میں بھی عملے کی کمی اور فنڈز کی عدم دستیابی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

یہ انکوائری وزیر خارجہ جیک سٹرا نے 4 فروری 2004 کو قائم کی تھی۔ اس کے سربراہ لارڈ بٹلر ہیں جو سول سروس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ پانچ مزید ارکان ہیں جن میں لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کا ایک ایک رکن، شمالی آئرلینڈ کے ایک سابق اعلیٰ سرکاری عہدے دار اور ایک سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف شامل ہیں۔

اس کمیٹی کے فرائض میں تھا کہ وہ یہ معلوم کرے کہ متعلقہ ملکوں کے پاس عراقی ہتھیاروں کے بارے میں کیا معلومات موجود ہیں اور عراقی ہتھیاروں کے بارے میں انٹیلیجنس کی رپورٹیں کہاں تک درست تھیں۔

تیسری بات یہ کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں سراغ رسانوں کی حاصل کردہ معلومات کی جانچ پڑتال کے لئے آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں۔

انکوائری کے لئے لارڈ بٹلر کے انتخاب پر اعتراض کیے گئے تھے ۔ان پر اعتراض تھا کہ وہ سابق سرکاری افسر ہیں اس لیے حکومت سے بہت قربت رکھتے ہیں۔

فروری میں اسی نوعیت کی ایک اور انکوائری کی رپورٹ آُئی تھی جسے ہٹن رپورٹ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس میں عراقی ہتھیاروں کی تفتیش کرنے والے ایک سائنس داں ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بارے میں تحقیقات تھیں، انٹیلی جنس کے بارے میں نہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر پر الزام لگتا رہا ہے کہ انہوں نے عراق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات کے معاملے کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا۔

یہ بھی خبریں آ چکی ہیں کہ کہ برطانوی انٹیلیجنس کے ادارے ایم آئی سکس نے ہتھیاروں کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے جو وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے دعوؤں کو سہارا مہیا کرتی تھی، واپس لے لی تھی۔

خفیہ اداورں کے اعلی اہلکاورں نے پچھلے ہفتے بی بی سی کے پروگرام پینوراما کو بتایا کہ وسیع تبایی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے دعوے ہتھیاروں کے ماہرین کی رائے سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا ہٹن انکوئری کے سامنے عراق کے ہتھیاروں کے بارے میں بیان کسی بھی طرح خفیہ ادارں کے پاس ہتھیاروں کے بارے میں موجود معلومات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

ٹونی بلیئر نے ہٹنں انکوئری کو بتایا تھا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں بہت زیادہ معلومات اور شہادتیں ان کو دکھائی جا رہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد