BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 July, 2004, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہتھیار شاید کبھی نہ مل سکیں‘
News image
برطانیہ کے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ’عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیار‘ شاید کبھی نہ مل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم ان ہتھیاروں کو تلاش نہیں کر سکے اور شاید کبھی تلاش کر بھی نہ سکیں۔‘ تاہم ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صدام حسین خطرہ ہی نہیں تھے۔

سینیئر برطانوی اراکینِ پارلیمان کی کمیٹی کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق کے معزول حکمران نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی تھی اور ہو سکتا ہے ’انہوں نے وسیع تباہی کے ہتھیار کہیں چھپا دیئے ہوں یا تباہ کر دیئے ہوں۔‘

ٹونی بلیئر نے، جن سے خاصے چبھتے ہوئے سوال پوچھے گئے، کہا اگرچہ عراق کے سروے گروپ کی حتمی رپورٹ ابھی شائع ہونی ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ ہے کہ صدام حسین کے پاس ماضی میں وسیع تباہی کے ہتھیار تھے اور اس کے’ واضح شواہد‘ ہیں کہ صدام حسین کی خواہش تھی کہ ایسے ہتھیار بنائے جائیں اور انہیں استعمال کیا جائے۔

ٹونی بلیئر نے برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا لیکن یہ بات تسلیم کی کہ گوانتا نامو کا قید خانہ ’ایک ایسی رُوگردانی ہے جسے ختم کرنا پڑے گا۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے ان برطانوی شہریوں کا معاملہ صدر بش کے سامنے رکھا تھا جوگوانتا نامو کی جیل میں ہیں۔

نسلی تعلقات پر بات کرتے ہوئے ٹونی بلیئر نے کہا کہ کچھ حوالوں سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی سے بھی مختلف قومیتوں کے درمیان صورتِ حال متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد