دنیا کو غیرمسلح کرنے کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور امریکہ کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے حال ہی میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس فیصلے کی وجہ سے مغرب نے ان سے اپنی دوری ختم کردی ہے۔ اپریل کے آخر میں یورپی یونین کے دورے پر وہ برسلز آئے جہاں انہوں نے ایک بیان میں یہ کہا کہ امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک بھی غیرمسلح ہوجائیں اور وسیع تباہی کے ہتھیار جیسے ایٹمی، کیمیائی اور حیاتیاتی، سے دست بردار ہوجائیں۔ کیا وسیع تباہی کے ہتھیار ترک کرنے کا لیبیا کا فیصلہ صحیح ہے؟ کیا ہندوستان اور پاکستان کو بھی ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوجانا چاہئے؟ کیا اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ بھی وسیع تباہی کے ہتھیار ختم کریں؟ آپ کے خیال میں کیا ہتھیاروں سے پاک دنیا کا تصور ممکن ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں شوکت محمود علوی، سعودی عرب: اگر یہ تجویز مسلمانوں کے لئے ہے تو نہیں اور اگر امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے لئے ہے تو ہاں۔ جلیل احمد، حیدرآباد، انڈیا: قذافی اگر عقلمند ہوتے تو کبھی ایسا نہ کرتے بلکہ امریکہ کو بیچ دیتے اور اس کے بدلے اپنے ملک کے تحفظ کی ضمانت حاصل کرتے۔ جس چیز کو حاصل کرنے کیلئے قوم کا اتنا مال ضائع کیا اسے صرف دباؤ میں آکر لوٹا دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ محمد رفیع رحمان، ٹورنٹو: انکل سام کو کون سمجھائے گا؟
جوہر جوڑی، کراچی: حضرت محمد کا جو وصال ہوا تو گھر چراغ جلانے کے لئے تیل نہیں تھا مگر گیارہ عمدہ قسم کی تلواریں ضرور موجود تھیں۔ اللہ کا فرمان اور اللہ کے رسول کا عمل ہمارے سامنے ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ یہود کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ یہ ہماری کمائی ہوئی دولت سے خود اسلحہ جمع کرتے ہیں۔ اگر ہم کسی مسلمان کمپنی کا ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں تو یہ مسلمانوں کی لٹی ہوئی طاقت واپس لینے کی طرف عملی قدم ہوگا۔ اسی طرح صابن اور ساری ضروری چیزیں مسلمان کمپنیوں کی خریدیں تو یورپ کے خاتمے کا دن ایک سال میں آجائے گا۔ گلو خان، ممبئی: مسلمانوں میں اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننے کی تمیز ابھی تک نہیں آئی۔ مغرب تو خود ظالم لیڈروں کو مسلمانوں کے لئے تیار کرتا ہے۔ فیصل تقی، کراچی: ایسا ہونا دشوار لگ رہا ہے مگر ہونا چاہئے۔ عیسٰی شیخ، انڈیا: قذافی مغرب کی حمایت کرکے کب تک بچیں گے؟ ایک قذافی اپنی کرسی کی خاطر مغرب کے آگے جھکے ہیں، پوری لیبیائی قوم تو نہیں۔ جمال شاہ، کینیڈا: جو ڈر گیا وہ قذافی شفیق خان، بنگلور: مجھے تو اس پورے معاملے پر شک ہے۔ کہیں یہ مغرب ہی کی چال نہ ہو کہ پہلے قوم کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلا کر قیمتی ہتھیار جمع کئے جائیں اور بعد میں دباؤ میں آکر جہاں سے خریدے تھے وہیں لوٹا دیئے جائیں۔ اب اگر امریکہ انہیں آدھی قیمت پر بھی خرید کر پیسے قذافی کے اکاؤنٹ میں جمع کرادے تو ان کی باقی نسلیں بیٹھ کر کھا سکتی ہیں۔ عمر فاروق، برمنگھم: کیا کہنا ہمارے ہیروز کا، کل تک جنہیں فرشتوں کی نظر چھو نہیں سکتی تھی، آج سرِ راہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں۔ ہمارا ایک ایک ہیرو اپنی ڈیوٹی نباہتا ہوا جا رہا ہے۔ اسامہ کو دیکھو، اپنے منہ سے کتنی بڑی خدمت کی ہے ہم مسلمانوں کی۔ صدام کو دیکھو، اپنے آقا امریکہ کے کہنے پر کیا کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ہماری مقدس گائے کو دیکھو، کیا کیا نہیں کر رہے ہیں اپنے آقائے کل کے کہنے پر۔ اگر قذافی نے کیا ہے تو کیا کفر ٹوٹ پڑا ہے؟ قذافی بھی اپنی نوکری کر رہا ہے، کرنے دو، اسی وجہ سے تو ابھی تک حکومت میں ہے اور اس بھی بڑھ کر کہ زندہ ہے۔ جب اس کا کام تم ہوا تو پھر لیبیا میں بچہ جمہوریت کھیلے گا۔ تلاوت بخاری، اسلام آباد: یہ تو یوٹوپیا معلوم ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو کتنا ہی اچھا ہو۔ خصوصاً پاکستان اور انڈیا جیسے غریب ممالک کو تو وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے قطعی دست بردار ہوجانا چاہئے۔ ابووفا شیخ، سعودی عرب: عالم ِ اسلام کی بربادی کی ذمہ داری مغرب پر نہیں، خود مسلمانوں اور مسلمان قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ مغرب نے صرف ہمری کمزوری، جہالت اور ناسمجھی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان رہنما مغرب مخالف بیانات دینے لگتا ہے تو مسلمان اسے گویا مسیحا یا رسول سمجھنے لگتے ہیں اور جب وہ مفاد پرست اپنا اصلی رنگ دکھاتا ہے تو اس نفرت پر اتر آتے ہیں۔
عبدالغفور، ٹورنٹو: میرا خیال ہے کہ قذافی اس مسئلے پر انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ صدام سے سبق سیکھتے ہوئے اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ اس وقت انہیں اپنے ملک پر حملے کا کوئی ڈر نہیں۔ عراق پر قبضے کے بعد بش انتظامیہ شام اور ایران کو نشانہ بنانے پر تلی ہوئی تھی نہ کہ لیبیا کو۔ وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک دنیا انسانیتے تحفظ کا بہترین حل ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ بارش کا پہلا قطرہ کون بنے گا؟ محمد سہیل، انڈیا: اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر دنیا کو اسلحے سے پاک کر دیا جائے تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں لیکن اس میں کسی طرح کا امتیاز نہیں برتنا چاہئے۔ اس کی ابتدا امریکہ سے ہو، انڈیا اور پاکستان کا نمبر تو بعد میں آئے گا۔ عمران سیال، کراچی: بلاشبہ قذافی نے ڈر کر اپنے ملک کو غیر مسلح کیا ہے اور اب دنیا کو دکھانے کے لئے سب کو غیر مسلح ہونے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر یہ سب امن کے لئے تھا تو اس نے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟ سہیل شیخ، لورالائی: قذافی کی رائے کی افادیت سے انکار تو شاید کوئی نہ کرے مگر اس کے قابلِ عمل ہونے کے بارے میں یقیناً بہت سے شکوک ہو سکتے ہیں۔ شاید مسلم ممالک تو مان جائیں مگر اسرائیل۔۔۔۔ اور امریکہ۔۔۔ آہ دیوانے کا خواب! سید انعام، امریکہ: ایک شکاری کے جال کی وجہ سے جب ایک لومڑی اپنی دم گنوا بیٹھی تو اس نے دوسروں کو بتانا شروع کر دیا کے دم کے وزن کے بغیر زندگی کتنی آسان ہے۔ نور خان، کراچی: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں شاہ عبداللہ اور قذافی لی لفظی جھڑپیں ہوئی تھیں جس کی وجہ سے قذافی نے امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہی پاکستانی سائنس دانوں کی رسوائی کا سبب بنے۔ اس وقت جب اسرائیل اور امریکہ ہر مسلمان ملک کے غیر مسلم ملک کو خطرناک ہتھیار فراہم کر رہے ہیں، ہتھیاروں سے پاک دنیا کی بات کرنا دانشمندی نہیں۔ سید رضوی، امریکہ: مجبوری کا نام قذافی ناظم شیخ، کراچی: قذافی نے لاکر بی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مغرب کے سارے مطالبات قبول کئے، جرمانہ دینے پر تیار ہو گئے اور پھر اچانک او آئی سی کے اجلاس کے بعد اپنے پاس جوہری ہتھیاروں کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ جہاں سے وہ آئے تھے، اس کی نشاندہی بھی کر دی۔ اس میں ان کا نہیں لیبیا کی قوم کا نقصان ہوا۔ انہوں نے مغرب کے دباؤ میں آکر اپنا، قوم اور امتِ مسلمہ کا تحفظ بیچ دیا۔ محمد الیاس، کراچی: کچھ عرصہ تک قذافی میرے آئیڈیل تھے لیکن انہوں نے اب امریکہ کی حمایت میں جو یو ٹرن لے لیا ہے، اس سے بہت دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے موت کو سامنے دیکھ کر ہتھیار ڈال دیئے۔ باقی رہی اسلحے کی بات تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو اسلحے کے انبار مسلمانوں کی تباہی کے لئے جمع کئے ہیں، آپ انہیں کیسے ختم کریں؟ حزب اللہ مہمند، پشاور: اقوامِ متحدہ میں ایک قرداد منظور کے ذریعے یہ ممکن بنایا جائے کہ کوئی ملک ایٹم بم اور اسی طرح کے دوسرے خطرناک ہتھیار نہ رکھے لیکن اس کی پہل اسرائیل اور امریکہ کو کرنی چاہئے۔ غلام محمد، دوبئی: یہ سب خیالی بات ہے۔ جمیل احمد خان، کمالیہ: کرنل قذافی کوئی معقول آدمی نہیں ہیں کہ ان کی بات پر عمل کیا جائے کیونکہ انہوں نے خود کو انگریزوں کا پٹھو ثابت کیا ہے۔ سید فخرالاسلام رضوی، سعودی عرب: نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ مسعود احمد، بحرین: فہیم سرور، بلوچستان: قذافی نے بالکل ٹھیک کیا لیکن ان کی تجویز قابلِ عمل نہیں۔ طاہر چوہدری، جاپان: قذافی نے ٹھیک یا غلط، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ دور چاہے صلاح الدین کا ہو یا غرناطہ کا، تاریخ شاہد ہے کہ خلیفہ عبداللہ مسلمانوں کو خوش فہمی میں رکھ کر مارے گئے۔ جس نے آج تک یہودی یا عیسائیوں پر اعتبار کیا وہ مارا گیا۔ امریکہ نے سب سے پہلے ایٹم بم کا استعمال کیا۔ طاقت ایک نشہ ہے اور ہتھیاروں سے پاک دنیا کا تصور تبھی ممکن ہے جب یہ چل کر دنیا کو تباہ کردیں گے اور سو کوس پر دیا جلے گا۔ صدیق جیتھوا، امریکہ: سیف اللہ خان سالارزئی، پیربابا بنر:
قیصر، بیجنگ: وقار احمد، نوشہرہ: اظہر حسین، کراچی: فیاض خان، پاکستان: عبدالعلیم، ناگویا، جاپان:
عبدالواحد حاکمی، جرمنی: اشرف خان بنیری، بنیر، پاکستان: محمد یاسین، اسپین: مہدی خان، گجرات، پاکستان: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||