BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 April, 2004, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر تنقید، بلیئر کا جواب
ٹونی بلیئر
توقع ہے کہ جلد ہی بلیئر تفصیلاً سفارتکاروں کے خط کا جواب دیں گے
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق کے بارے میں پچاس سابق سفارتکاروں کی تنقید کو رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں سکیورٹی اور جمہوریت کے لیے جنگ جاری رہنی چاہئے۔

سفارتکاروں کے اس خط کے جواب میں جس پر عراق کی صورتحال اور اسرائیل کی پالیسی پر کڑی تنقید کی گئی ہے، ٹونی بلیئر نے کہا کہ لوگوں کو تنقید کرنے کا پورا حق ہے۔

اس خط میں بلیئر پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد یا تو امریکی پالیسی تبدیل کرنے کی کوشش کریں یا پھر اس کی حمایت ختم کردیں۔

ایک ہی روز قبل برطانیہ نے عراق میں مزید فوجی تعینات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے ’یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ہمارے پاس کافی فوجی ہیں‘۔

برطانوی وزارت دفاع نے زور دیا ہے کہ ٹونی بلیئر کا بیان برطانوی پالیسی میں تبدیلی کو ظاہر نہیں کرتا اور یہ کہ صورتحال کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ کسی ملک کے اپنے فوجی عراق سے واپس بلانے کی صورت میں اتحادیوں کو یہ کمی پوری کرنی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کچھ ممالک مثلاً کوریا اور جاپان اپنے فوجی عراق میں رکھنے کا اپنا عہد پورا کررہے ہیں۔

ڈاؤننگ سٹریٹ میں اپنے اطالوی ہم منصب سلویو برلسکونی سے بات چیت کے بعد بلیئر نے کہا کہ عراقیوں کو ایسا ملک چاہئے جو مستحکم، خوشحال اور جمہوری ہو۔

’لوگ چاہے اس تنازعہ کے مخالف ہیں یا حمایتی، اہم بات صرف یہ ہے کہ عراقی عوام کی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رہنا چاہئے‘۔

اس خط میں سفارتکاروں نے کہا ہے کہ عراق میں برطانیہ کی امریکہ کے لئے حمایت کو وہ بڑھتی ہوئی تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں اس پرپارلیما ن میں بحث کی جائے۔

اس دستاویز کے معاون لیبیا کے لیے برطانیہ کے سابق سفیر اولیور مائلز ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ہم بہت سے لوگ عراق اور مشرق وسطٰی کے معاملے پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں چنانچہ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’منصوبہ بندی کی کمی اور صورتحال کے غیر مناسب جائزے سے صورتحال بہت مشکل ہوچکی ہے‘۔

ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق اور مشرق وسطٰی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں توازن سے کام لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا ’ہم مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ فلسطینیوں کی صورتحال بہت ابتر ہے اور ہمیں اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کے فلسطینی خودکش حملہ آوروں کے ہاتھوں معصوم اسرائیلی بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

توقع ہے کہ جلد ہی وزیر اعظم تفصیلاً سفارتکاروں کے خط کا جواب دیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد