| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہٹن رپورٹ کے اہم نکات
لارڈ ہٹن کی طرف سے ہتھیاروں کے معائنہ کار ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بارے میں رپورٹ میں پیش کئے گئے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔ * ڈاکٹر کیلی نے اپنی جان خود لی اور اس واقعہ میں کوئی تیسری پارٹی ملوث نہیں تھی۔ * اس تمام معاملے میں ملوث کسی بھی فرد کو یہ گمان نہ گزرا ہو گا کہ ڈاکٹر کیلی جس دباؤ سے گزر رہے تھے اس کے باعث اپنی جان ہی لے لیں گے۔ * اینڈریو گیلیگن کی وہ رپورٹ غلط اور سنگین الزام تھا اور حکومت اور جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی ساکھ پر ایک حملہ تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈاؤننگ سٹریٹ اس بات سے ’غالباً آگاہ‘ تھی کہ عراق سے متعلق حقائق نامے میں کیا گیا دعویٰ غلط تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ * عراق سے متعلق حقائق نامہ میں پینتالیس منٹ کا دعویٰ خفیہ ایجنسیوں کو موصول ہونے والی معلومات کی بنا پر کیا گیا تھا۔ خفیہ اداروں کے مطابق وہ معلومات قابلِ اعتماد تھیں۔ * بعد میں وہ ذرائع قابلِ اعتبار ثابت ہوئے یا نہ ہوئے لیکن اینڈریو گیلیگن کی جانب سے بی بی سی کی رپورٹ بے بنیاد ثابت ہوئی تھی۔ *یہ الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ دعوے کا جواز حقائق نامہ کے اصل مسودے میں نہیں تھا کیونکہ واحد ذریعے پر مبنی ہونے کے علاوہ اس کے درست ہونے پر خفیہ ایجنسی کو بھی یقین نہیں تھا۔ * ڈاکٹر کیلی پر تشدد کے نہ تو نشانات ملے ہیں اور جس جگہ سے ڈاکٹر کیلی کی لاش ملی وہاں سے بھی ایسا کوئی نشان نہیں ملا کہ انہوں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی ہو۔ * ڈاکٹر کیلی کی کلائی پر نظر آنے والے زخم ان کے گھر پر استعمال ہونے والی چھری کے باعث آئے تھے۔ * جس وقت ڈاکٹر کیلی کی مرگ کا واقعہ پیش آیا وہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا نہیں تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||