BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 July, 2004, 01:19 GMT 06:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لارڈ بٹلر انکوائری رپورٹ کا اجراء
لارڈ بٹلر انکوائری
انکوائری کا خاص حوالہ وہ ڈوسیر یا حقائق نامہ ہے جو عراق پر حملے کے اسباب کا جواز فراہم کرنے پر دلیل کرتا ہے
برطانیہ میں بدھ 14 جولائی کو اس انکوائری کی رپورٹ شائع ہونے والی ہے جس کا انتظار عراق پر حملے کے حامیوں اور مخالفوں دونوں کو خاصی مدت سے ہے۔

عراق پر امریکی اور برطانوی حملے کے بعد جب وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا کہیں کوئی سراغ نہ ملا تو ملک میں بڑے پیمانے پر یہ تشویش پیدا ہوئی کہ ان ہتھیاروں کے بارے میں انٹیلی جنس کی رپورٹیں کیوں غلط تھیں۔

یہ انکوائری وزیر خارجہ جیک سٹرا نے 4 فروری 2004 کویہی بات معلوم کرنے کے لیے بٹھائی تھی۔

اس کے سربراہ لارڈ بٹلر ہیں جو سول سروس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ پانچ مزید ارکان ہیں جن میں لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کا ایک ایک رکن، شمالی آئرلینڈ کے ایک سابق اعلیٰ سرکاری عہدے دار اور ایک سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف شامل ہیں۔

اس کمیٹی کو جن تین باتوں کی تفتیش کا کام سونپا گیا تھا ان میں : ’متعلقہ ملکوں‘ میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں کیا معلومات موجود ہیں۔ یعنی نہ صرف عراق بلکہ ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں بھی تا کہ یہ اندازہ ہوسکے کہ عراق کی طرح کا مسئلہ کہیں اور تو نہیں پیدا ہوگا۔
دوسرے یہ کہ عراق کے بارے میں انٹیلی جنس کی رپورٹیں کہاں تک درست تھیں۔

اور تیسری بات یہ کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں سراغ رسانوں کی حاصل کردہ معلومات کی جانچ پڑتال کے لئے آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں۔

انکوائری کے لئے لارڈ بٹلر کے انتخاب پر اعتراض کیے گئے ہیں کہ وہ سابق سرکاری افسر ہیں اس لیے حکومت سے بہت قربت رکھتے ہیں اور رپورٹ میں ان باتوں سے اجتناب کریں گے جن سے حکومت پر آنچ آئے۔

فروری میں اسی نوعیت کی ایک اور انکوائری کی رپورٹ آُچکی ہے جسے ہٹن رپورٹ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس میں عراقی ہتھیاروں کی تفتیش کرنے والے ایک سائنس داں ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بارے میں تحقیقات تھیں ، انٹیلی جنس کے بارے میں نہیں۔

امریکہ میں بھی صدر جارج بش نے ایک تحقیقاتی پینل مقرر کیا ہے جس کی رپورٹ صدارتی انتخاب کے بعد شائع کی جائے گی۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی اس سے الگ ہے جس کی رپورٹ 9 جولائی کو شائع ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد