لارڈ بٹلر انکوائری رپورٹ کا اجراء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں بدھ 14 جولائی کو اس انکوائری کی رپورٹ شائع ہونے والی ہے جس کا انتظار عراق پر حملے کے حامیوں اور مخالفوں دونوں کو خاصی مدت سے ہے۔ عراق پر امریکی اور برطانوی حملے کے بعد جب وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا کہیں کوئی سراغ نہ ملا تو ملک میں بڑے پیمانے پر یہ تشویش پیدا ہوئی کہ ان ہتھیاروں کے بارے میں انٹیلی جنس کی رپورٹیں کیوں غلط تھیں۔ یہ انکوائری وزیر خارجہ جیک سٹرا نے 4 فروری 2004 کویہی بات معلوم کرنے کے لیے بٹھائی تھی۔ اس کے سربراہ لارڈ بٹلر ہیں جو سول سروس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ پانچ مزید ارکان ہیں جن میں لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کا ایک ایک رکن، شمالی آئرلینڈ کے ایک سابق اعلیٰ سرکاری عہدے دار اور ایک سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف شامل ہیں۔ اس کمیٹی کو جن تین باتوں کی تفتیش کا کام سونپا گیا تھا ان میں : ’متعلقہ ملکوں‘ میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں کیا معلومات موجود ہیں۔ یعنی نہ صرف عراق بلکہ ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں بھی تا کہ یہ اندازہ ہوسکے کہ عراق کی طرح کا مسئلہ کہیں اور تو نہیں پیدا ہوگا۔ اور تیسری بات یہ کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں سراغ رسانوں کی حاصل کردہ معلومات کی جانچ پڑتال کے لئے آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں۔ انکوائری کے لئے لارڈ بٹلر کے انتخاب پر اعتراض کیے گئے ہیں کہ وہ سابق سرکاری افسر ہیں اس لیے حکومت سے بہت قربت رکھتے ہیں اور رپورٹ میں ان باتوں سے اجتناب کریں گے جن سے حکومت پر آنچ آئے۔ فروری میں اسی نوعیت کی ایک اور انکوائری کی رپورٹ آُچکی ہے جسے ہٹن رپورٹ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس میں عراقی ہتھیاروں کی تفتیش کرنے والے ایک سائنس داں ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بارے میں تحقیقات تھیں ، انٹیلی جنس کے بارے میں نہیں۔ امریکہ میں بھی صدر جارج بش نے ایک تحقیقاتی پینل مقرر کیا ہے جس کی رپورٹ صدارتی انتخاب کے بعد شائع کی جائے گی۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی اس سے الگ ہے جس کی رپورٹ 9 جولائی کو شائع ہو چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||