BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 02:04 GMT 07:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراقی جنگ مجرمانہ جارحیت‘
 عراق
برطانوی دفترِ خارجہ کے سابق نائب قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ عراق کی جنگ ’مجرمانہ جارحیت‘ تھی۔

اس کے علاوہ برطانوی اراکین پارلیمان کی ایک کمیٹی نے بھی بعد از جنگ کے عراق کی منصوبہ بندی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ برطانوی حکومت کو عراق کے خلاف جنگ کی قانونی حیثیت کے بارے میں نئے سوالوں کا سامنا ہے۔

سابق نائب قانونی مشیر ایلزبتھ ولمز ہرسٹ نے یہ تبصرہ جنگ سے قبل اپنے استعفے کے لیے لکھے جانے والے ایک خط میں کیا تھا۔ یہ خط بی بی سی ویب سائٹ نے حاصل کیا ہے۔

مس ولمز ہرست نے استعفیٰ اس لیے دیا تھا کہ وہ یہ سمجھتی تھیں کے عراق کی جنگ قانونی نہیں ہے۔

انہوں اس مقصد کے لیے لکھے جانے والے خط میں کہا تھا کہ ان کے رائے میں عراق کے خلاف جنگ ’طاقت کا ایسا غیر قانونی استعمال‘ ہے جو مجرمانہ جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔

بی بی سی ویب سائٹ کے عالمی امور کے نامہ نگار پال رینولڈ نے اس خط کے لیے درخواست آزادئی اطلاعات کے ایکٹ کے تحت کی تھی۔

دفترِ خارجہ نے خط کے جاری نہ کیے جانے والے حصوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا تعلق حکومت کی پالیسی سازی کے لیے دیے گئے مشورے ہے اور اس پر قانونی مشیر کے پیشہ ورانہ استحقاق کا اطلاق ہوتا ہے۔

خط کے ان حصوں کے بارے چینل فور نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اٹارنی جنرل لورڈ گولڈ سمتھ کے مشورے سے تعلق رکھتے ہیں۔

چینل فور نے کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر کہا ہے کہ گولڈ سمتھ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ کے حق میں ایک اور قرار داد کی منظوری کے بغیر جنگ کو غیرقانونی تصور کرتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنی رائے تبدیل کر لی تھی اور عراق پر فوج کشی کے لیے دوسری قرار داد کی منظوری کو غیر ضروری قرار دے دیا۔

برطانوی دارالعوام کی بااثر دفاعی کمیٹی نے جنگ عراق کے حوالے سے ٹونی بلئیر حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔حکومت پر یہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ عراق کی جنگ پر ملک کے اٹارنی جنرل کی قانونی رائے عوام کو سامنے پیش کرے۔

دوسری طرف برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے کہا حکومت جنگ عراق کے بعد وہاں مزاحمت کے اندازے لگانے اور تعمیرنو کے کام کا اندازہ نہیں لگا سکی تھی۔

برطانوی حکومت نے عراق جنگ کے بارے میں انٹیلیجنس کے ناکامی کے رپورٹ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں تحفظات کا اعلان کیا ہے۔

اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں اور یہ بات اب تک درست ثابت نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد