BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 April, 2005, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پرقانونی مشورہ منظرعام پر
لارڈ گولڈ اسمتھ
یہ جنگ قانونی طور پر جائز نہیں تھی
برطانیہ میں ایک سرکاری دستاویز کے منظر عام پر آنے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ اٹارنی جنرل نے اقوام متحدہ سے دوسری قرار داد منظور کیے جانے کے بغیر عراق پر حملہ کرنے کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے تھے۔

یہ دستاویز جو کہ بی بی سی کو بھی دکھائی گئی ہے برطانوی وزیراعظم کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور ان پر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس دستاویز کے مطابق لارڈ گولڈاسمتھ نے جنگ سے پہلے ٹونی بلئیر سے کہا تھا کہ جنگ کے لیے اقوام متحدہ کی دوسری قرارداد قانونی طور پر ضروری ہے۔

انتخابات سے پہلے حزبِ اختلاف نے ان دستاویز کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

ٹوری رہنما مائیکل ہاورڈ نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کی ایمانداری پر سوال اٹھایا لیکن مسٹر بلئیر کا اصرار ہے کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا۔

سات مارچ 2003 میں دئے گئے اس قانونی مشورے میں عراق کے خلاف لڑائی شروع کرنے سے پہلے اقوام متحدہ سے دوسری قرارداد کی منظوری پر زور دیا گیا تھا۔

اور اس کے دو ہفتے بعد ہی برطانیہ اور امریکہ کی قیادت میں عراق کے خلاف جنگ شروع کر دی گئی۔ دستاویز میں لارڈ اسمتھ نے کہا تھا کہ عراق کے معاملے میں اقوام متحدہ کی پہلی قرارداد واضح نہیں ہے اس لیے سب سے محفوظ طریقہ یہی ہے کہ دوسری قرارداد منظور کرائی جائے۔

اٹارنی جنرل نے یہ ضرور کہا تھا کہ پچھلی قراردادوں کی بناء پر عراق کے خلاف ایک مضبوط کیس تیار کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ٹھوس ثبوت جمع کرنے ہوں گے۔

ذرائع ابلاغ میں ان دستاویز کے لیک ہونے کے بعد اٹارنی جنرل نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ حکومت کا موقف ان دستاویز کے عین مطابق ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق پر حملہ قانونی طور پر جائز ہے۔

بلئیر برطانوی فوجیوں کے ساتھ
جنگ کے اثرات انتخابات پر

اس دستاویز کے روشنی میں آنے کے بعد بلئیر حکومت کے وزیر جیک اسٹرا نے کہا کہ آخری قانونی صلاح سات مارچ کو نہیں بلکہ 17 مارچ کو لی گئی تھی اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی اطلاع دی گئی تھی۔

جیک اسٹرا نے کہا سات مارچ اور 17 مارچ کے درمیان اٹارنی جنرل کی ایمانداری اور ان کی قانونی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ہاں حالات اور ثبوت تبدیل ضرور ہوئے تھے۔

ایک تو صدام حسین نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کی تھی دوسرے فرانس نے دوسری قرارداد کی منظوری کے امکانات سے انکار کر دیا تھا اور ہمیں یہ پتہ چل گیا تھا کہ ہم دوسری قرارداد منظور نہیں کرا سکتے۔

حکومت کی اس وضاحت سے حزبِ اختلاف کے رہنما مائیکل ہاورڈ مطمئن نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے ’ہمیں یہ معلوم ہے کہ سات مارچ کو اٹارنی جنرل نے جو رائے دی تھی اس میں احتیاط برتنے کی بات کہی گئی تھی۔‘

17 مارچ کو جب اٹارنی جنرل نے کابینہ کے سامنے اپنی رائے پیش کی تو وہ بدل چکی تھی ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ رائے کس نے تبدیل کی ‘

لیبر ڈیمو کریٹک پارٹی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم صورت حال کو واضح کرنے کے لیے تفصیلی بیان دیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد