بغدادخود کش حملہ: 20 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق بغداد کے مرکزی علاقے میں دو خود کش کار بم دھماکوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکے دارالحکومت بغداد کے جنوب میں ماہ والی کے کاروباری مرکز میں ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو گاڑیاں یکے بعد دیگرے وزارتِ داخلہ کے دفتر کی جانب جانے والی سڑک پر دھماکے سے اڑ گئیں۔ دھماکے کے وقت سڑک پر ٹریفک کا بہت رش تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق مرنے والوں میں چار پولیس اہلکار اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ عراقی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آوروں کا نشانہ جادریہ کے علاقے میں پولیس کے قافلے میں موجود سات گاڑیاں تھیں۔ جادریہ کے علاقے میں بغداد یونیورسٹی، آسٹریلیا کا سفارت خانہ اور مغربی باشندوں کے زیرِ استعمال رہنے والے ہوٹل واقع ہیں اور مزاحمت کار اس علاقے میں اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔ مزاحمت کار عراق میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||