سقوطِ بغداد کے دو سال، امریکہ مخالف مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے جنوب میں عراقی فوجیوں کے ایک قافلے پر مزاحمت کاروں کے حملے میں پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ امریکی افواج کے ہاتھوں سقوطِ بغداد کی دوسری برسی کے موقع پر ہوا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ لطیفیہ نامی قصبے کے نزدیک اس علاقے میں کیا گیا جسے ’موت کی تکون‘ کہا جاتا ہے۔ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ فوجیوں کی موت کیسے واقع ہوئی۔ جائے حادثہ کے نزدیکی قصبے محمودیہ کے پولیس حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مسلح افراد نے فوجیوں کے ٹرک کو روکا اور پھر اس میں سوار فوجیوں پر فائرنگ کر دی۔ تاہم عراقی وزارتِ دفاع کے حکام نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ فوجی سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ فردوس سکوائر میں ہونے والے مظاہرے میں وہ افراد بھی شامل تھے جو عراق پر امریکی قبضے کے خلاف احتجاجاً جمعہ کی رات سے اس جگہ پرموجود تھے۔ اس پرامن مظاہرے میں امریکی فوجیوں سے عراق چھوڑنے کے علاوہ صدام حیسن اور ان کے ساتھیوں پر جلد مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز کے سنی علماء نے عراق کے سنّی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بھی شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی اپیل پر ہونے والے مظاہرے کو کامیاب بنائیں۔ صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے دو سال بعد عراق میں پچاس برس کے عرصے میں پہلی منتخب حکومت بنانے کے تیاریاں جاری ہیں۔ بی بی سی کی نمائندہ کیرولین ہالے کا کہنا ہے کہ سیاسی تبدیلی کے آغاز کے باوجود زیادہ تر عراقی تشدد کی کارروائیوں، بے روزگاری اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی سے پریشان ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||