عراقی پارلیمان کا سپیکر منتخب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی کی پارلیمان نے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے اختلاف کے بعد اتوار کو اپنے تیسرے اجلاس میں بالاخر سپیکر کا انتخاب کر لیا ہے۔ سپیکر کے انتخاب پر اختلافات کی وجہ سے عراق میں حکومت سازی کے کام میں تاخیر ہو رہی تھی۔ عراق میں جنوری میں منتخب ہونے والے ارکان اتوار کو سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے صنعت کے موجودہ وزیر حاجم الحسني کو پارلیمان کے سپیکر پر منتخب کرنے پر رضامند ہو گئے۔ حاجم الحسني امریکی فوج کے فالوجہ پر حملے کے بھی شدید مخالف تھے ۔ ابتدا میں وہ سپیکر کا عہدہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جوہری سائنسدان حسين الشہرستاني جن کا تعلق اکثریتی شیعہ فرقے سے ہے اور ایک کرد سیاستدان عارف تیفور کوالحسینی کے نابین کے عہدوں پر منتخب کر لیا گیا ہے۔ پالیمان کے ارکان آج نئے صدر کا بھی انتخاب کرنے والی ہے اور اس عہدے کے لیے کرد رہنما جلال طالباني ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ شیعہ حکام کے مطاق سپیکر کے انتخاب میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ وہ اس عہدے کے لیے کسی سنی امیداور کی تلاش کر رہے تھے جو کہ تمام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ تاہم کچھ سنی ارکان کا خیال ہے کہ سپیکر کے انتخاب میں تاخیر شیعہ اور کردوں میں حکومتی عہدوں کی تقسیم پر اختلافات کی وجہ سے ہوئی۔ پارلیمان کو اب پندرھ اگست تک نئے عراقی آئین کی تشکیل دینے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||