انتخابات: مائیکل ہاورڈ کون؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے مائیکل ہاورڈ کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ ان کے لیے کیمبرج ہی سے فارغ التحصیل اپنے کنزرویٹو ساتھیوں کے مقابلے میں پارلیمانی انتخاب جیتنا زیادہ مشکل ہوگا۔ اس کی وجوہات: ایک، ان کی پر سکون شخصیت، دو، ان کا یہودی ہونا، اور تین، ان کا غیر شادی شدہ ہونا۔ لیکن انیس سو تراسی میں پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انہوں نے تیزی سے ترقی کی اور وزیر اعظم تھیچر کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہنے کے بعد جان میجر کی حکومت میں وزیر داخلہ بنے۔ تاہم ماضی کی ان سیاسی کامیابیوں میں ہی ان کے حال کے مسائل چھپے ہیں۔ ان کے دور میں قانون کے نفاذ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے جن میں سے بہت سوں کو یورپی عدالتوں میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا، اور عوام میں شدید غیر مقبول ہونے والا پول ٹیکس بھی انہی کے حکم سے شروع کیا گیا تھا۔ سن ستانوے میں ٹوری پارٹی کی شکست کے بعد انہوں نے پارٹی کے سربراہ کے طور پر خود کو پیش کیا تو وہ تمام امیدواروں میں سے آخری نمبر پر رہے۔ اس سب کے بعد، اور باسٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے باوجود، انہیں پارٹی سربراہ چنا گیا ہے۔ انہوں نے ٹوری پارٹی کی مقبولیت بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور اپنے مشیروں کے ساتھ مل کر انہوں نے لیبر پارٹی پر اتنے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں کہ وہ حکومت میں ہونے کے باوجود دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ مائیکل ہاورڈ نے اگرچہ شروع میں ٹونی بلیئر کی عراق پالیسی کی حمایت کی تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ بلیئر نے جنگ کی وجوہات کے بارے میں جھوٹ بولا تھا اور یہ کہ اس سے بلیئر کے کردار پر سوالیہ نشان پڑ گیا ہے۔ ہاورڈ کو معلوم ہے کہ وہ عراق کے معاملے پر انتخاب تو نہیں جیت سکتے لیکن یہاں سے شروع کر کے وہ بلیئر پر ووٹروں کی بد اعتمادی کو باقی معاملات تک بھی پھیلانا چاہتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حکومت میں آ کر پناہ گزینوں کے لیے کوٹا مقرر کر دیں گے اس کے باوجود کہ ان کے والدین رومانیہ سے ہجرت کر کے اس ملک میں آئے تھے۔ ان کی بیوی سانڈرا جو کبھی ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ رہ چکی ہیں، انتخابی مہم میں ان کا پورا پورا ساتھ دے رہی ہیں، اور ان کے دونوں بچوں اور پوتے پوتیوں کو پارٹی کانفرنس میں اسی انداز سے پیش کیا گیا جیسے امریکی انتخابات میں خاندان کی اکائی پر زور دینے کے لیے صدارتی امیدوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||