BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 02 May, 2005, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی حکومت، تشدد جاری: عراق کدھرجارہا ہے؟
اس ہفتہ کے دوران مختلف کاروائیوں میں لگ بھگ سوافراد ہلاک و زخمی ہوئے
اس ہفتہ کے دوران مختلف کاروائیوں میں لگ بھگ سوافراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
خاصی لے دے کے بعد عراق کے نئے وزیر اعظم ابراہیم جعفری اپنی کابینہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لیکن اس کابینہ کےاعلان کے ایک دن کےاندر بغداد میں عراقی سیکورٹی فورسز پر ایک خود کش حملہ میں بیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اور اس کے ایک دن بعد ملک کے کرد علاقے میں مبینہ خود کش حملوں میں 29 افراد ہلاک ہوگئے۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران اس قسم کے حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراق کے مبینہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کا کام بھی ناکام کو ششوں کے بعد ترک کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ میں کچھ تفتیشی رپورٹوں میں یہ بات بھی سامنے آ ئی ہے کہ عراق کے بارے میں اینٹیلیجنس رپورٹیں ناقص تھیں۔اسی طرح برطانیہ میں بھی عراق پر حملہ کی قانونی حیثیت کے بارے میں شکوک ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔

ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے آپ عراق کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا نئی حکومت عراق میں تشدد کی کاروائیوں کو روکنے میں کامیاب ہو گی؟ کیا عراق بہتری کی جانب جا رہا ہے یا نہیں؟ عراق کی موجودہ صورت حال کا پائیدار حل کیا ہو سکتا ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب یہاں دیا جاتا ہے۔


ساجل احمد، نویڈا، امریکہ:
ویسے تو یہ سوال امریکہ کے صدر اور برطانیہ کے وزیر اعظم سے پوچھنا چاہیے لیکن اتنا تو ہمیں بھی پتا ہے کہ عراق اپنے ساتھ امریکہ کو بھی لے ڈوبے گا۔

نوید نقوی، کراچی، پاکستان:
امریکہ عراق میں ایک امریکہ نواز حکومت بنا کر بھاگنا چاہ رہا ہے تا کہ اگر حالات ایسے ہی رہیں تو سارا سارا جانی اور مالی نقصان عراقیوں کا ہی ہو ورنہ عراق میں امریکہ کا حشر ویت نام سے زیادہ برا ہو۔

اس وقت عراق کی صورت حال کا یہی حل ہے کہ وہاں او آئی سی کے تحت مسلمان ملک سے فوجیں تعینات کی جائیں۔ جب تک کہ عراق کے حالت مکمل ٹھیک نہ جائیں اور امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں وہاں ہونے والے نقصان کی تلافی نہ کر دیں، عراق کا انتظام اسلامی فوجوں کے پاس رہے۔

ڈاکٹر نعیم احمد، ایکسٹون، امریکہ:
اناڑی کا کھیلنا کھیل کا ستیناس، پٹڑی ہو خراب تو ریل کا ستیاناس۔

وقار اعوان، کراچی:
عراق کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار امریکہ ہے کیونکہ امریکہ نے حملہ اپنے مفاد کے لیے کیا تھا باوجود دنیا بھر کی مخالفت کے۔ موجودہ حملے امریکہ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں لیکن جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو ان کا کوئی علاج نہیں۔

کوئی معجزہ
 اب تو کوئی معجزہ ہی عراق کے حالات بہتر کر سکتا ہے۔ بے چارے عراقی تواپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں۔
ثناء خان، کراچی
ثناء خان، کراچی، پاکستان:
اب تو کوئی معجزہ ہی عراق کے حالات بہتر کر سکتا ہے۔ بے چارے عراقی تواپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں۔ صدام کی حکومت ختم ہونے کے بعد اس سے زیادہ بربریت ہو رہی ہے۔

عبدالرفیق بنگش، دوھا، قطر:
امریکہ کو بغیر کسی شرط کے تمام قیدیوں کو رہا کر دینا چاہیے، اس کے بعد ابو غریب کے واقعات کی کھلی تحقیقات ہونی چاہئیں اور امریکہ کو عراق سے نکل جانا چاہیے۔

امین اللہ شاہ، میانوالی، پاکستان:
یہ سب پٹھو، نام نہاد مسلمان حکمرانوں کا دیا ہوا تحفہ ہے جو امریکہ کی خوشنودی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ اگر یہ لوگ امریکہ کوخیر آباد کہہ دیں اور آپس میں مل بیٹھ کر مسلمان ممالک کے مسائل کا حل ڈھونڈیں تو یہ سارے مسائل بغیر خون بہائے حل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ خون ریزی کے ذمہ دار امریکہ سے زیادہ یہ حکمران ہیں۔

سرفراز احمد، پاکستان:
مستقبل تاریک ہے۔

جمعہ خان، راولپنڈی،پاکستان:
جب تک ایک بھی مسلمان امریکہ کا ایجنٹ ہوگا،عراق تو کیا ہر مسلم ملک اسی طرح کی خانہ جنگی کا شکار رہے گا۔ اس ساری بربادی کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں۔ امریکہ بے وقوف مسلمانوں کو استعمال کرتا ہے لیکن مسلمان وہ ہیں کہ جو کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ ان کا بس اللہ ہی حافظ ہے۔

حالت ایسی تھی!
 صدام کے دور میں بھی حالت ایسی ہی تھی لیکن اس وقت میڈیا کو یہ سب کچھ دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔اب سب کچھ سامنے ہورہا ہے، اور ہوتا رہے گا۔
حارث، کراچی
حارث، کراچی، پاکستان:
صدام کے دور میں بھی حالت ایسی ہی تھی لیکن اس وقت میڈیا کو یہ سب کچھ دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔اب سب کچھ سامنے ہورہا ہے، اور ہوتا رہے گا۔

سریر خالد، سری نگر، کشمیر:
میرا خیال ہے کہ جس طرح امریکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، عراق میں حالات کو معمول پر لانا ممکن نہیں۔ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ جب سے امریکہ نے عراق کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیا ہے، یعنی اس پر قبضہ کیا ہے، عراق میں تشدد کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ امریکہ نے ملک کے دو گروپوں کو آپس میں لڑانا شروع کر دیا ہے جو کہ سب سے زیادہ خطرناک بات ہے۔جب تک امریکہ کی حکمت عملی تبدیل نہیں ہوتی، اس کی فوجیں عراق سے نکل نہیں جاتیں، تشدد ختم نہیں ہوگا۔

رضا ہزارہ، کوئٹہ، پاکستان:
عراق میں شیعوں اور سنیوں کو چاہیے کہ آپس میں اتحاد برقرار رکھیں۔ انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ امریکہ جان بوجھ کر حالات خراب کر رہا ہے تا کہ وہ امن کی بحالی کے بہانے عراق میں موجود رہے۔اور یوں وہ عراق میں اپنی مستقل موجودگی کے خواب کوپورا کرنا چاہتا ہے۔

شیعب، بنوں، پاکستان:
عراق، فلسطین، افغانستان، سب مظلوم ہیں۔ ایک شخص کی سزا سارے ملک کو، بلکہ ساری دنیا کو مل رہی ہے۔

محسن رضوی، سعودی عرب:
آج جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں ان میں مسلمان ہی مر رہے ہیں۔ صدام کی بعثت پارٹی جوایک عرصہ تک عراق کے تیل پر قابض رہی ہے وہی لوگ آج یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ جہاد کا کون سا اصول ہے کہ ایک شخص شراب پی کر خود کش حملہ کرنے چلا جائے؟ یہ لوگ تیل کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہم مسلمان ان کو حق پرست کہہ رہے ہیں۔ اللہ مسلمانوں کو بدر اور حدیبیہ کا مقصد سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رکنے کا امریکی بہانہ
 موجودہ بدامنی تو امریکہ کی ہی پھیلائی ہوئی لگتی ہے کیونکہ یہی تو وہ بہانہ ہے جس کے تحت وہ عراق میں رکے ہوئے ہیں۔
چنگیز خان، نیوزی لینڈ
چنگیز خان، نیوزی لینڈ:
میرا خیال ہے عراق، امریکہ کے لیے دوسرا ویت نام بن چکا ہے لیکن اس دفعہ پوری دنیا ہی متاثر ہو رہی ہے۔ میراخیال نہیں کہ عراق میں حالیہ کاروائیوں کے پیچھے شدت پسند ہیں اور یہ کاروائیاں آنے والے چند سالوں میں ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں، کم از کم جب تک امریکی عراق میں موجود ہیں۔ موجودہ بدامنی تو امریکہ کی ہی پھیلائی ہوئی لگتی ہے کیونکہ یہی تو وہ بہانہ ہے جس کے تحت وہ عراق میں رکے ہوئے ہیں۔ مجھے دوسرے عرب ممالک سے بھی کوئی امید نہیں۔ ان کارویہ بھی شرمناک ہے۔

فرحان ملک، کراچی:
عراق کی موجودہ صورت حال امریکہ کی پیدا کی ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ امریکہ دنیا میں امن نہیں چاہتا۔

نور اللہ خالد یوسفزئی، کراچی:
میرا خیال ہے عراق کا مستقبل بھی تاریک ہے، امریکہ اس کو صحرا بنا کر چھوڑے گا۔

امین شاہد، رائے ونڈ، پاکستان:
پاکستان کی طرح عراق بھی کبھی ایک جمہوری ملک نہیں بن سکتا۔

شیر اکبر، کویت:
امریکہ تب تک نہیں نکلے گا جب تک اسےذرا بھی امید ہو کہ حالات بہتر ہو جائیں گے اور عراقی تب تک لڑتے رہیں گے جب تک امریکہ وہاں موجود ہے۔

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان:
ایک ہی حل ہے اس مسئلہ کا، امریکہ عراق سے فوری طور پر نکل جائے اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جنگ کے حاتمہ کا اعلان کرے۔ جھوٹ کے سہارے بے گناہ لوگوں کو مار کر کیسے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے؟

علیم اختر، گجرات، پاکستان:
ذرا اندازہ کریں اگر بہادر جنگجو آج امریکہ کے سامنے دیوار بن کر نہ کھڑے ہوتے تو اب تک ایران اور شام کا کیا حال ہو چکا ہوتا؟

جبران حسنین، کراچی، پاکستان:
اگر امریکہ، عراق سے ایک دو ہتھیار بھی برآمد کر لیتا تو اب اس کے خلاف اتنی مزاحمت نہ ہورہی ہوتی۔اب عراقی عوام سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ صرف اور صرف ان کے تیل کے چکر میں آیا ہے، اسی لیےمزاحمت بڑھ رہی ہے۔

دنیا کی بقا
 اسلامی دنیا اور تیسری دنیا کی بقا اسی میں ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں بری طرح ناکام ہوں۔
محمد شفیق، شیخو پورہ
محمد شفیق، شیخو پورہ، پاکستان:
اسلامی دنیا اور تیسری دنیا کی بقا اسی میں ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں بری طرح ناکام ہوں تاکہ یہ دوبارہ کسی اور ملک پرچڑھائی کرنے سے توبہ کر لیں۔اور اگر یہ دہشت گرد ملک یہاں سے بچ نکلے تو پھر ایران، شام، سعودی عرب اور پاکستان پر چڑھائی ہو کر رہے گی۔

وقاص احمد چودھری، ریاض، سعودی عرب:
صرف ایک ہی حل ہے، جہاد۔

عباس سلام، تیمارگرہ، پاکستان:
امریکی فوجوں کی واپسی کے بغیر عراق میں امن کی کوئی بھی امید نہیں۔ موجودہ حکومت تو امریکہ کی کٹھ پتلی ہے۔

خالد گرمانی، کوٹ چٹھہ، پاکستان:
یہ آپ کو بُش سے پوچھنا چاہیے تھا۔ بہرحال عراق کا جو مقدر ہوگا ادھر ہی جائے گا۔اُس سرزمین پرتو پہلے بھی ظلم کے پہاڑ ٹوٹ چکے ہیں۔

اگر غیرملکی فوجیں واپس چلی بھی جائیں تو بُش صاحب جو سنی شیعہ والا زہر گھول رہے ہیں، لگتا ہے امن ہونے کے لیے بہت وقت درکار ہوگا۔آپ کو بلکہ یہ رائے لینا چاہیے کہ بُش صاحب امریکہ کو کہاں لے کر جا رہے ہیں کیونکہ امریکہ کا مستقبل اچھا نظر نہیں آرہا۔

افغانستان کو دیکھ لیں، کہاں ہے اسامہ اور کہاں ہے طالبان حکومت جیسا امن۔ موجودہ عراقی حکومت کم از کم صدام حسین والا دور تو واپس لائے۔

فیصل چانڈیو، حیدر آباد، پاکستان:
جب امریکہ نے اقوام متحدہ کی رائے کی پرواہ نہیں کی تو ہماری رائے کیا حیثیت رکھتی ہے۔میں تو یہی کہوں گا کہ عراق میں جنگ جاری رہنی چاہیے کیونکہ عراق نے کسی پر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ اس پر حملہ کیا گیا ہے۔

شعیب سعید احمد، گوجرانوالہ، پاکستان:
امریکہ اپنے غاصبانہ عزائم کی تقویت اور اسرائیل کو محفوظ کرنے کے لیے عراق میں آیا ہے اس لیے اب یہ اس کا مسئلہ نہیں کہ کتنے عراقی مر رہے ہیں۔ اس کی نظر ہر اس ملک پر ہے جو اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں اسی لیے اب وہ ایران کی طرف دیکھ رہا ہے۔

عمران، امریکہ:
صدام سے گرا، بُش میں اٹکا۔

عامر مقصود، ٹورانٹو:
امریکہ اور برطانیہ نے پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود عراق کو تباہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ عراق کا مستقبل اس کے ذرائع، خاص طور پر تیل کو لوٹنا ہے اور امریکہ اور برطانیہ اس وقت عراق سے جائیں گے جب ان کے ایسے مقاصد پورے ہوں جائیں گے۔

سید خالد حسین، کویت:
اتنے لوگ تو صدام حسین کے دور میں بھی نہیں نہیں مرے اور اس کی صرف ایک وجہ ہے، عراق میں غیر ملکی افواج کی موجودگی۔ بش صاحب کہتے ہیں کہ عراق میں سیکورٹی بہتر ہو رہی ہے مگر پچاس ساٹھ انسان روز مر رہے ہیں۔اس کے علاوہ امریکہ شیعہ سنی کو جو چکر چلا رہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ عراق میں سکون نہیں ہونے والا۔

نائلہ شیخ، لاہور:
نئی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔مستقبل قریب میں بھی اس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔جب تک امریکی فوج وہاں موجود ہے امن نہیں ہو سکتا۔

مغیص محمد، کراچی:
پہلے امریکہ کو تو وہاں سے نکالیں، پھر رائے بھی دے دیں گے۔

بابر خان، راولپنڈی:
عراق وہاں جا رہا ہے جہاں امریکہ اس کو لے کر جا رہا ہے۔ امریکہ کی کامیابی ہی ایک غیر مستحکم حکومت میں ہے۔ جب کیمیائی ہتھیار نہیں ملے تو اب یہ دہشتگردی والا بہانا ہی رہ جاتا ہے امریکہ کے پاس۔

کامران ایوب،لندن:
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کی سپر پاور سوویت یونین بھی جہاد کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی، امریکہ اور اس کے اتحادی کس باغ کی مولی ہیں۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو وہ دن دور نہیں جب امریکہ میں بھی بہت سی آزاد ریاستیں بن جائیں گی۔ امریکہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے اور اس مرتبہ ویت نام سے بھی زیادہ برے حالات ہوں گے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔

غلام فرید شیخ، گمبت، سندھ، پاکستان:
جنگ کے علمبردار کبھی بھی امن نہیں چاہتے۔ امریکہ سے مسلمانوں کے لیے امن مانگنا ایسا ہی ہے جیسے آگ سے جلنے کی امید نہ رکھنا۔ اب وہ ہتھیار کہاں ہیں جن کو بنیاد بنا کر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا؟ میں پوچھتا ہوں کہ آخر ہم مسلمانوں نے امریکہ کو اتنی ڈھیل کیوں دے رکھی ہے؟ ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی تو یہ آگ ہمارے گھر تک آ جائے گی۔

احمد سید، ٹورانٹو:
بغداد کل بھی جلا تھا اور آج بھی جل رہا ہے اور کل بھی جلے گا۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔اللہ ہمیں اپنی حفاظت میں رکھے۔

خالد عباسی، کراچی:
یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کسی کو خبر نہیں۔

اظفر خان، ٹورانٹو:
عراق کی صورت حال بہت خراب ہے۔ ایک تو صدام جیسے ظالم آدمی سے جان چھڑانی تھی مگر دوسری طرف امریکہ کے مزموم عزائم تھے۔ اگر امریکہ عراق میں اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہو گیا تواسلامی ممالک کی تاریخ اور ثقافت مکمل طور بدل جائے گی۔صورت حال اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک امریکہ اور برطانیہ وہاں سے نکل نہیں جاتے۔

غلام نبی چاچڑ، سکھر، پاکستان:
میرا خیال نہی کہ نئی حکومت عراق میں امن وامان کی صورت حال پر قابو پا سکے گی۔ عراق تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ عراق کے مسئلہ کا دیرپا حل یہی ہے کہ صدام حسین کو بری کیا جائے اورانہیں نئی حکومت میں اپنے نمائندے نامزد کرنے کی اجازت دی جائے۔آپ کو آخر ایک دن یہ کرنا ہی ہوگا۔ کم از کم میری پیشن گوئی تو یہی ہے۔

اعجاز سلیم، سپین:
میرے خیال میں اب وہی محاورہ سامنے آ رہا ہے کہ ’میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا‘۔ اب امریکہ اپنی جان چھڑانے کی راہیں ڈھونڈے گا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
امریکہ اب ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں سے اس کا نکلنا بہت مشکل ہے۔ امریکہ عراق سے بھاگنے کی کوشش کرے گا لیکن اب اس کو یہ موقع نہیں ملے گا۔

عام لوگوں کے حقوق
 عراق میں صورت حال صرف اسی صورت میں ٹھیک ہو سکتی ہے جب وہاں عام لوگوں کو ان کے حقوق ملنا شروع ہوں گے۔
جہانزیب سلیم، چکوال

جہاں زیب سلیم، لاہور:
عراق میں صورت حال صرف اسی صورت میں ٹھیک ہو سکتی ہے جب وہاں عام لوگوں کو ان کے حقوق ملنا شروع ہوں گے۔ موجودہ حکومت کچھ زیادہ فرق نہیں لانے جا رہی کیونکہ آج کے حالات بتا رہے ہیں کہ لوگ یہ حکومت نہیں چاہتے۔

رحمت ملک، راولپنڈی، پاکستان:
کوئی بھی کسی بھی حکومت کو چلنے نہیں دے گا، میرے خیال میں امریکہ بہادر نے اپنا آخری پتہ بھی پھینک کردیکھ لیا ہے۔ امریکہ صدام حسین سے ان کی جان بخشی کے بدلے میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی جانیں فدا کرنے والوں کو روکیں۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ امریکہ بہادر عراق سے نکل جائے، عراق کے عوام اپنے حالات بہتر کر لیں گے۔

آصف، ریڈنگ، برطانیہ:
انشاءاللہ عراق امریکی اور دوسرے دہشتگردوں کے لیے خوفناک قبرستان ثابت ہوگا۔ عراق میں کبھی بھی امریکہ کی کھٹ پتلی حکومت کامیاب نہیں ہوگی۔

ریاض فاروقی، دبئی:
پچھلے پینتیس سال سے افغانستان غیر ملکی حملہ آوروں کی وجہ سے برے حالات کا شکار ہے اور اب عراق کی باری ہے۔کسی کو نہیں معلوم کہ یہ کب تک جاری رہے گا۔ ہتھیار تو محض بہانہ تھے حملہ کرنے کے لیے۔رفیق حریری کے قتل کے بعد شام کو لبنان سے نکلنا تھا اور امریکہ اس کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا مگر اب عراق میں روزانہ لوگ قتل ہو رہے ہیں اور کوئی ملک بھی امریکہ سے نہیں کہہ رہا کہ وہ عراق سے نکل جائے۔

شاہدہ اکرم، عرب امارات:
عراق کی جو بھی صورت حال ہو عراقی لوگوں کے حوصلے میں کمی واقع نہیں ہو گی۔جو بھی حکومت آئے گی اس قسم کی کاروائیاں جاری رہیں گی۔ جو بیج امریکہ اور برطانیہ نے بویا ہے اس کو کاٹنے کے لیے انہیں تیار رہنا چاہیے۔

عراق اس دھانے پر کھڑا ہے جہاں انہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں۔ خودکش حملے صرف ایک بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ملک سے غیر ملکی فوجیں نکل جائیں۔

66نئی عراقی حکومت
کیا اب امن قائم ہو جائے گا؟ آپ کی رائے
66پاکستانیوں کا اغواء
حکومت عراق میں فوج بھیجےگی؟ آپ کی رائے
66آپ اور عراقی انتخاب
ان انتخابات سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد