 |  وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے سب سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ |
عراقی دارالحکومت بغداد میں عراق کی نئی عبوری حکومت کے وزراء نے اپنے عہدوں کا دوبارہ حلف اٹھایا ہے۔ کرد رہنماؤں کو اعتراض تھا کہ عراق ایک وفاقی ریاست ہے اور حلف میں وفاق کا لفظ شامل نہیں تھا۔ کردوں کا خیال ہے کہ عراق کا وفاقی مملکت تسلیم کیے جانے کے بعد کردوں کی خود مختاری کی حمایت ہو سکے گی۔ عراقی وزیر اعظم ابرٰہیم جعفری کی کابینہ اب تقریباٰ مکمل ہو چکی ہے۔ عراق کی کابینہ میں صرف انسانی حقوق کی وزارت کا قلمدان سونپا جانا باقی ہے۔ عراق میں اس سال جنوری میں عام انتخابات منعقد کرائے گئے تھے لیکن کابینہ میں اہم عہدوں پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی تشکیل میں دیر ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق کابینہ میں عراق کے مختلف لسانی برادریوں کی موزوں نمائندگی نہایت ہی اہم ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہےکہ حکومت کو ایک سنی کی طرف سے حلف نہ لینے سے دھچکہ تو لگا ہے تاہم وہ اب بھی کوشش کر رہی ہے کہ سنیوں کو سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔ اسی دوران پچھلے ہفتے نئی کابینہ کے اعلان کے بعد عراق میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ |