عراقی کابینہ:’سُنّی وزارت سے انکار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پارلیمان کی طرف سے کابینہ میں انسانی حقوق کے قلمدان کے لیے نامزد ہونے والے ہاشم الشبلی نے وزیر بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ہاشم الشبلی کا کہنا ہے کہ ان کو نامزد کرنے سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا اور انہیں صرف سُنی ہونے کی بناء پر وزیر بنایا جا رہا تھا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیراعظم ابراہیم جعفری سُنّیوں کو حکومت میں شامل کر کے عسکریت پسندوں کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ ہاشم الشبلی کا کہنا ہے کہ ’فرقہ وارانہ شناخت پر انحصار ریاست اور معاشرے میں تقسیم کا باعث بنے گا اور اس لیے میں مودبانہ طور پر یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں‘۔ اپریل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد عراق میں تشدد کی لہر میں تقریباً دو سو پچاس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو بھی محکمۂ مواصلات کے اعلیٰ افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ عراق کے وزیراعظم ابراہیم جعفری توقع کر رہے تھے کہ سنی عربوں کو کابینہ میں شامل کر نے سے تشدد پر قابو پایا جا سکے گا۔ ابراہیم جعفری نے اعلان کیا کہ وہ نائب وزیر اعظم کے عہدے پر کسی خاتون کو مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی فوج کی کارروائی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی فوج نے القائم شہر کے قریب کار بم، بم بنانے کا سامان اور دو ایسی عمارتیں تباہ کر دی ہیں جن میں بڑی تعداد میں ہتھیار موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||