عرب ریاستوں کا جمہوری سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دھیان عرب دنیا کی طرف لے کر جائیں تو یقیناً ذہن میں منصفانہ انتخابات کا تصوّر نہیں آتا۔ عرب دنیا ان آخری چند علاقوں میں سے ہے جہاں غیر منتخب حکمران اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں۔ یہ حکمران اپنے پٹھوؤں یا خاندان کے افراد کو اقتدار میں شریک کرتے ہیں اور پھر اِسے اپنے بیٹوں کے حوالے کر جاتے ہیں۔ سعودی عرب کی مثال لیجیے جہاں بادشاہ، ولی عہد، وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے اہم عہدے بھائیوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ حتٰکہ شام (سوریا) جو ایک رپبلک ہے وہاں بھی پانچ سال پہلے صدارت کا عہدہ انتقال کرنے والے صدر کے بیٹے کو منتقل ہو گیا۔ لیبیا اور مصر میں حکمران ان افواہوں کو دبانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ وہ بھی سوریا کے سابق صدر کے نقش قدم پر چلیں گے۔ اور اگر کبھی کہیں انتخابات ہوئے بھی ہیں تو وہ دکھاوا تھے جہاں فوج نواز صدر اپنے عہدے سنبھالنے میں کامیاب رہے۔ ان انتخابات کے بارے میں حکام نوّے فیصد ووٹنگ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ایک اچھا آغاز تھا لیکن ان کا بہت سے لوگوں نے اس وجہ سے بائیکاٹ کیا کہ نصف سے زیادہ عہدے حکومت کے نامزد افراد سے پر کیے گئے۔ بلدیاتی اداروں کے پاس ویسے بھی انتہائی محدود اختیارات ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں لوگوں کو یہ سب بہت غیر منصفانہ اور غیر جمہوری محسوس ہوتا ہوگا۔ لیکن یہاں لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہاں جمہوریت کو پنپتے ہوئے آٹھ سو سال ہو چکے ہیں۔ صرف ایک سو سال پہلے تک برطانیہ میں خواتین کو ووٹنگ اور انتخابات میں حصہ لینے کا اختیار نہیں تھا۔ عرب ممالک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ چند نسلوں میں خانہ بدوش اور قبائلی طرز زندگی سے دیگر دنیا میں اکیسویں صدی میں پائے جانے والے حالات سے مطابقت پیدا کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||