پاکستانی اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اغوا کئے جانے والے پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار اپنی رہائی کے گیارہ دن بعد پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔ اسلام آباد ائرپورٹ پر ملک جاوید کے استقبال کے لئے وزیر مملکت برائے امور خارجہ خسرو بختیار اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن اور ملک جاوید کے اہل خانہ موجود تھے۔ ملک جاوید نے اپنی آمد پر وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف کا شکریہ کیا اور کہا کہ انھوں نے ان کی رہائی کے لئے جو اقدامات کئے انہی کی وجہ سے ان کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ ملک محمد جاوید جو بغداد میں پاکستانی سفارتخانے میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے کو نو اپریل کو بغداد میں اغوا کر لیا تھا۔ایک غیر معروف تنظیم عمر بن خطاب نامی گروپ نے اغوا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ملک جاوید کی رہائی کی خبر وزیر اعظم شوکت عزیز نے 24 اپریل کوسرکاری ٹیلیویژن پر خود جاری کی تھی اور ملک جاوید کے بیٹے کو فون کر بتایا کہ ان کے والد کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ بغداد میں پاکستان سفارت خانے میں پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے ملک جاوید کی رہائی کے موقع پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک جاوید کی رہائی چند دوست ممالک، عراقی حکومت اور عراق کے کچھ با اثر افراد کی کوششوں سے عمل میں آئی ہیں۔ تاہم یہ بات ابھی تک راز میں ہی ہے کہ اغوا کاروں نے ملک جاوید کی رہائی کے بدلے کیا مطالبات کئے تھے اور انھیں مطالبات پورے کئے بغیر کیوں رہا کر دیا گیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ملک جاوید کی رہائی کے بدلے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||