رہائی کے لیے تاوان نہیں دیا: پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں سولہ دن قبل اغوا کئے جانے والے پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار ملک جاوید کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ امکانی طور پر کل اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کو نو اپریل کو عمر بن خطاب نامی تنظیم نے اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ بغداد میں اپنے گھر سے عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے قریبی مسجد گئے تھے۔ ان کی رہائی کی خبر وزیر اعظم شوکت عزیز نے اسلام آباد میں واقع ملک جاوید کے گھر اتوار کی رات ٹیلیفون کر کے دی۔اس کے بعد وزیر اعظم نے پاکستان ٹیلیوژن پر معمول کی نشریات کو روک کر عوام کو اس خبر سے آگاہ کیا۔ملک جاوید اس وقت بغداد میں پاکستانی سفارتخانے میں موجود ہیں اور وہاں سے انہوں نے اپنے اہل خانہ سے بات بھی کی ہے۔ چھ بچوں کے والد ملک جاوید کے گھر میں ان کی رہائی کی خبر سن کر غم و مایوسی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ ملک جاوید کا اغوا کیوں کیا گیا اور اغوا کاروں کے مطالبات کیا تھے؟اس بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک جاوید کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اغوا کاروں کے مطالبات کے بارے میں کہا کہ کچھ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اغوا کاروں کے مطالبات کیا تھے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت، عراق کے اثرورسوخ رکھنے والوں اور چند دوست ممالک کی مدد سے ملک جاوید کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ انہوں نے ان دوست ممالک کا نام نہیں بتایا جنھوں نے ملک جاوید کی رہائی میں کردار ادا کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ اغوا کاروں نے یہ بات تسلیم کر لی ہوکہ پاکستان عراقی عوام کا ہمدرد ہے اور ملک جاوید کے اغوا سے کوئی سیاسی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد سے عراقی حکومت سے پاکستانی سفارتخانے کے اہلکاروں کے حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور سفارتخانے کی سیکیورٹی کے لیے پاکستانی حکومت نے بھی اضافی اقدامات کئے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے اغوا کاروں سے ملک جاوید کو انسانی بنیادوں پر رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||