عراق: ایک پاکستانی اہلکار اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے بغداد میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کے اغوا کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کر دیں۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک محمد جاوید جو بغداد میں پاکستانی سفارتخانے میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے ہفتے کی رات عشا کی نماز پڑھنے گئے اور واپس گھر نہیں پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانے کو عمر بن خطاب نامی گروپ کے ایک ترجمان نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ ملک محمد جاوید کو انہوں نے اغوا کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ملک جاوید کی بھی سفارتخانے کے انچارج سے بات کرائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ اغوا کاروں نے ملک جاوید کی رہائی کے لی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔ تاہم انہوں نے اغواکاروں کے مطالبات بتانے سے انکار کیا۔مگر انہوں نے یہ کہا کہ اغوا کاروں کے مطالبات سیاسی نہیں ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے ملک جاوید کی رہائی کے بدلے خطیر رقم کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر اطلاعات نے اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اتوار کو اسلام آباد میں تعینات عراقی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور ملک جاوید کی باحفاظت بازیابی کی یقین دہانی مانگی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود پاکستانی حکومت عراق سے اپنا سفارتی عملہ واپس نہیں بلائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||