آرچ بشپ اغوا، ویٹیکن کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مسیحیوں کے ایک اعلٰی ترین مزہبی رہنما آرچ بشپ بیسل جارجس کسموسا کو موصل شہر میں اغوا کر لیا گیا ہے۔ ویٹیکن میں حکام نے بشپ کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کہا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں عراق میں عیسائی اقلیت پر کئی حملے کیے گئے ہیں۔ دسمبر میں موصل میں دو گرجوں کو بم سے اڑا دیا گیا تھا۔
آرچ بشپ بیسل جارجس کسموسا کو مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے اغوا کیا گیا۔ ایک مقامی پادری نے بتایا کہ آرچ بشپ کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اپنی کار میں داخل ہونے والے تھے۔ اغوا کاروں نے انہیں اپنی کار کی ڈکی میں زبردستی بند کیا اور فرار ہو گئے۔ عراق میں عیسائی کل آبادی کا تین فیصد ہیں۔ عراق میں مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت کے مرکز کے منتظم کینن اینڈریو کا کہنا ہے کہ ’یوں تو موصل میں کلیسا کے رہنماؤں کو کسی نا کسی طرح خطرات درپیش رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں، خاص طور پر فلوجہ میں کارروائی کے بعد حالات نہایت خراب ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فلوجہ سے بہت سے دہشت گرد موصل آچکے ہیں جس سے وہاں صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||