’امید کی فصل بوئیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پاپ جان پال دوئم نے عیسائیوں کے تہوار ایسٹر پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے مقابلے میں ’امید کی فصل بونا چاہیے۔‘ ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوائر میں لاکھوں کے احتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پیار اور زندگی کی ثقافت سے موت کی منطق کو شکست دینا ہوگی۔ اس موقع پر انتہائی سخت حفاطتی اقدامات کئے گئے تھے۔ تراسی سالہ پوپ نےجو پارکنسن کی بیماری میں مبتلا ہیں نحیف آواز میں کہا کہ امن پسند اور محنت کش لوگ دنیا میں موجودہ ہنگاموں سے نبٹنے کا حوصلہ اور طاقت رکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کے ظہور کی مناسبت سے منائے جانے والے اس تہوار کے موقع پر اس جگہ کو جہاں سے پوپ نے خطاب کیا پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ روم کے مرکزی علاقے اور ویٹیکن سٹی پر اس روز ہر قسم کی پرواز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس علاقے کو ’ نو فلائی زون‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ پوپ نے کانپتے ہاتھوں سے مختلف رسومات ادا کیں اور لوگوں کے سروں پر پانی ڈال کر بپتسمہ کی رسم ادا کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||